واپس
ذلت کی زندگی سے عزت کی موت بہتر ہے۔ عاشورا ء امت کے اخلاقی تصورات کی تشکیل نو کا ابدی استعادہ

ذلت کی زندگی سے عزت کی موت بہتر ہے۔ عاشورا ء امت کے اخلاقی تصورات کی تشکیل نو کا ابدی استعادہ

الشيخ مصطفى الهجري

تاریخ کے فیصلہ کن ادوار میں کسی قوم کی عظمت کا معیار صرف اس کی فتوحات یا زیرِ تسلط علاقوں کی وسعت نہیں ہوتا، بلکہ اس کا حقیقی امتیاز یہ ہے کہ وہ ظلم و جبر کے شدید ترین طوفانوں میں بھی اپنی اخلاقی اقدار، اصولوں اور وقار پر کس حد تک ثابت قدم رہتی ہے۔واقعۂ عاشورا سے قبل امتِ مسلمہ ایک سنگیں اخلاقی بحران سے دوچار تھی۔جب اموی حکومت نے انسانی فطرت میں موجود بقا اور جان و مال کے تحفظ کی خواہش کو نہایت مہارت سے اپنے اقتدار کے استحکام کا ذریعہ بنا لیا تھا اور اسے عوام کو محکوم بنانے کے لیے استعمال کیا تھا۔اسوقت عزت، غیرت اور انسانی وقار جیسے اعلیٰ اقدار کی جگہ جسمانی سلامتی، دنیاوی منفعت اور مادی مفادات نے لے لی تھی۔ یہاں تک کہ ظالم حکمران کی اطاعت کو بھی دانائی، مصلحت اندیشی اور حقیقت پسندی کا نام دیا جانے لگا۔اوراسی ہمہ گیر اخلاقی زوال کے ماحول میں کربلا کا عظیم واقعہ رونما ہوا، جس نے امت کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور زندگی اور موت کے مفاہیم کو ازسرِنو متعین کر دیا۔

فکری بحران: جب زندگی محض حیاتیاتی بقا بن کر رہ جائے

یزید بن معاویہ کے دور تک پہنچتے پہنچتے امتِ مسلمہ نفسیاتی غلامی کی انتہائی پستی میں جا گری تھی۔ اموی تلوار کا خوف لوگوں کے افکار و اعمال پر اس قدر غالب آ چکا تھا کہ ان کے طرزِ عمل کا بنیادی محرک بن گیا تھا اسوقت الفاظ بھی اپنی حقیقی معنویت کھو بیٹھے تھے،حتی کہ ذلت کو اطاعت کا نام دیا جانے لگا اور بزدلی کو دانش مندی اور مصلحت اندیشی سمجھا جانے لگاتھا۔ امام حسینؑ نے اس حقیقت کو بخوبی محسوس کر لیا تھا کہ اصل خطرہ صرف ایک ظالم حکمران کی موجودگی سےنہیں، بلکہ اس سے کہیں بڑھ کر امت کی اخلاقی بصیرت اور آزاد ارادے کا مر جانا ہے۔ اس لیے ایک ایسے عظیم موقف کی ضرورت تھی جو ان باطل تصورات کی جڑیں ہلادے اور آزاد انسانوں کی زندگی اور غلاموں کی زندگی کے درمیان ایک واضح حدِ فاصل قائم کر دے۔ اسی تناظر میں سید الشہداء امام حسینؑ سے یہ حکیمانہ کلمات منقول ہیں: (الموتُ أولى من ركوبِ العارِ، والعارُ أولى من دخولِ النّارِ) ذلت و رسوائی قبول کرنے سے موت بہتر ہے، اور ذلت کے ساتھ جینے سے جہنم میں داخل ہونا زیادہ قریب ہے۔ (ابن شہر آشوب، مناقب آلِ ابی طالب، ج ۴، ص ۶۸)

اس مختصر مگر نہایت بلیغ رجز میں امام حسینؑ ایک ایسا اخلاقی معیار قائم کرتے ہیں جو اس زمانے میں امت کے شعور سے تقریباً اوجھل ہو چکا تھا۔ آپؑ واضح کرتے ہیں کہ اگر عزت، وقار اور اصولوں پر سمجھوتا ہی زندگی کی قیمت ہو، تو ایسی زندگی سے جسمانی موت کہیں زیادہ باعزت اور قابلِ ترجیح ہے۔ پھر آپؑ ذلت و خواری کو صرف دنیاوی رسوائی تک محدود نہیں رکھتے، بلکہ اسے اخروی خسارے اور عذابِ الٰہی سے جوڑ دیتے ہیں۔اس طرح امام حسینؑ نے محض حیاتیاتی بقا کو زندگی کا مقصد قرار دینے والے تصور کو منہدم کر دیا اور یہ حقیقت آشکار کر دی کہ زندگی اسی وقت حقیقی زندگی ہے جب وہ عزت، آزادی اور اصولوں کے ساتھ وابستہ ہو؛ ورنہ صرف سانس لیتے رہنا زندگی نہیں، بلکہ یہ غلامی کی ایک شکل ہے۔

ذلت کے فلسفے کا انہدام

اموی اقتدار نے امام حسینؑ کو دو راستوں میں سے کوئی ایک اختیار کرنے پر مجبور کرنا چاہا، یعنی یا وہ یزید کی بیعت کر کے ایک فاسد اور منحرف حکومت کو شرعی جواز عطا کریں،اور یا پھر قتل، ظلم اور اذیت کا سامنا کریں۔ اس کا اصل مقصد صرف امام حسینؑ کی جان لینا نہیں تھا، بلکہ امت کی عظیم ترین دینی شخصیت کو سرِعام پست ہمت ظاہر کر کے ہمیشہ کے لیے ان کے حوصلے اور آزادیِ فکر کو کچل دینا تھا۔ایسے میں امام حسینؑ کا جواب تاریخ میں ایک نئے اخلاقی مکتبِ فکر کی بنیاد بن گیا۔ آپؑ نے فرمایا: (ألا وإن الدعي ابن الدعي قد ركز بين اثنتين، بين السِلّة والذِلّة، وهيهات منا الذلة، يأبى الله لنا ذلك ورسوله والمؤمنون، وحجور طابت وطهرت، وأنوف حمية، ونفوس أبية، من أن نؤثر طاعة اللئام على مصارع الكرام)

"آگاہ رہو! اس بداصل شخص کے بیٹے نے ہمیں دو راستوں کے درمیان لا کھڑا کیا ہے: یا تلوار، یا ذلت۔ مگر ہم سے ذلت کوسوں دور ہے۔ اللہ، اس کا رسولؐ اور اہلِ ایمان ہرگز اسے ہمارے لیے پسند نہیں کرتے۔ پاکیزہ آغوشوں میں پرورش پانے والے، غیرت مند سروں کے مالک اور بلند ہمت نفوس اس بات کو گوارا نہیں کر سکتے کہ وہ عزت مندوں کی شہادت پر ذلیل لوگوں کی اطاعت کو ترجیح دیں۔" (السید ابن طاؤوس، اللہوف فی قتلی الطفوف، ص ۴۱)

یہ تاریخی خطبہ درحقیقت اسلام میں فلسفۂ عزت کا وہ بنیادی منشور ہے جس کےلئے امام حسینؑ نے جابر اقتدار کی قائم کردہ اس باطل مساوات کو یکسر مسترد کر دیا کہ انسان یا تو تلوار کے آگے سر جھکا دے یا پھر مارا جائے۔ آپؑ نے واضح فرمایا کہ ذلت کا انکار محض ایک سیاسی فیصلہ نہیں، بلکہ یہ ایک آزاد انسان کی فطرت،اور اس کے عقیدے اور خدا سے اس کی وابستگی کا لازمی تقاضا ہے۔

امام حسینؑ نے اپنے اس اعلان کے ذریعے یہ ابدی حقیقت ثابت کر دی کہ عزت کے ساتھ شہادت اخلاقی اعتبار سے ایک عظیم فتح ہے، جب کہ ذلت کے ساتھ زندگی، خواہ ظاہری طور پر باقی رہے، درحقیقت ایک شکست اور روحانی موت ہے۔پس یہی وہ پیغام ہے جس نے عاشورا کو ہر دور کے مظلوموں اور حریت پسندوں کے لیے عزت، آزادی اور استقامت کی دائمی علامت بنا دیا۔

شرف عزت کی حامل ثقافت ازروئے قرآن

عاشورا میں امام حسینؑ کا موقف کسی وقتی جذبات یا ردِّعمل کا نتیجہ نہیں تھا، بلکہ یہ قرآنِ مجید کی اس تعلیم کا عملی اظہار تھا جسے وقت کی حکمران طاقت نے پسِ پشت ڈال دیا تھا۔ امام حسینؑ امت کو یہ حقیقت یاد دلانا چاہتے تھے کہ عزت کوئی ایسی چیز نہیں جسے حالات کے دباؤ میں قربان کر دیا جائے، بلکہ یہ مؤمن کی ایمانی شناخت کا بنیادی جزو ہے۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿وَلِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلٰكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَا يَعْلَمُونَ﴾ حالانکہ عزت تو صرف اللہ، اس کے رسولؐ اور اہلِ ایمان ہی کے لیے ہے، لیکن منافق اس حقیقت کو نہیں جانتے۔ (سورۂ منافقون، آیت: 8)

قرآنی نقطۂ نظر سے عزت ایک ایسی روحانی و اخلاقی قوت کا نام ہے جو انسان کو باطل کے سامنے جھکنے اور ظلم کے آگے ٹوٹ جانے سے محفوظ رکھتی ہے۔ یہ صرف ظاہری سربلندی نہیں، بلکہ ایمان سے جنم لینے والی وہ باطنی استقامت ہے جو ہر حال میں حق پر ثابت قدم رہنے کا حوصلہ عطا کرتی ہے۔امام حسینؑ نے اپنی عظیم قربانی کے ذریعے اس قرآنی تعلیم کو امت کے اجتماعی شعور میں دوبارہ زندہ کر دیا۔ آپؑ نے اپنے عمل سے ثابت کیا کہ یزید جیسے ظالم و فاسد حکمران کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا قرآن کے پیش کردہ تصورِ ایمان سے یکسر متصادم ہے، کیونکہ ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ مؤمن ہر قیمت پر اپنی عزت، آزادی اور وقار کی حفاظت کرے۔ یوں واقعۂ عاشورا نے اس قرآنی حقیقت کو ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیا کہ ایمان اور ذلت ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتے؛ مؤمن کی پہچان یہی ہے کہ وہ ہر حال میں عزت کو زندگی پر مقدم رکھتا ہے۔

مردہ ارادوں کےلئے حیات بخش لہو

واقعۂ عاشورا سے پہلے امت ایک گہرے اخلاقی اور فکری بحران میں مبتلا تھی۔ لوگ حق کو پہچانتے تھے، لیکن موت کے خوف اور دنیاوی مفادات نے انہیں حق کا ساتھ دینے سے روک رکھا تھا۔ ایسے حالات میں کربلا نے امت کو ایک نئی بیداری عطا کی۔ امام حسینؑ اور ان کے ساتھیوں کی عظیم قربانی نے سوئے ہوئے ضمیر کو بیدار کیا، لوگوں کے حوصلے کو زندہ کیا اور انہیں یہ سبق دیا کہ عزت و وقار کے ساتھ جینا، محض زندہ رہنے سے کہیں زیادہ اہم ہے۔امتِ مسلمہ امام حسینؑ سے پہلے ارادے کی کمزوری، عملی بے حسی اور حق کے لیے فیصلہ کن موقف اختیار کرنے کی صلاحیت سے محرومی کا شکار ہو چکی تھی۔ اس لیے ایک ایسے پاک اور مقدس خون کی ضرورت تھی جو اس جمود کو توڑ دے، سوئی ہوئی غیرت کو بیدار کرے اور امت کو اس کے کھوئے ہوئے اخلاقی معیارات دوبارہ عطا کرے۔

امام حسینؑ کی تحریک کا مقصد کوئی فوری عسکری کامیابی حاصل کرنا نہیں تھا، بلکہ ایسے معاشرے کو بیدار کرنا تھا جو اخلاقی بے حسی، خوف اور کمزور ارادے کا شکار ہو چکا تھا۔ آپؑ نے اپنے مقدس خون سے یہ حقیقت واضح کر دی کہ موت کوئی ایسا خوفناک انجام نہیں جس کی وجہ سے انسان حق اور انصاف کا ساتھ چھوڑ دے۔ بلکہ جب موت حق، عدل اور اصولوں کی خاطر ہو تو وہ ایک آزاد، باوقار اور زندہ معاشرے کی بنیاد بن جاتی ہے۔ یہی پیغام امت کو خوف کی زنجیروں سے آزاد کرتا ہے اور اسے حق کی خاطر ہر قربانی دینے کا حوصلہ عطا کرتا ہے۔

گویا عاشورا نے زندگی اور موت کے مفاہیم کو ہمیشہ کے لیے ازسرِنو متعین کر دیا۔ اور واضح کر دیا کہ اصول و اقدار کی راہ میں آنے والی موت ہی درحقیقت حقیقی زندگی اور ابدی بقا ہے، جبکہ ذلت، غلامی اور باطل کے سامنے سرِ تسلیم خم کر کے جینا دراصل روحانی موت اور حقیقی فنا ہے۔امام حسینؑ نے اپنے جاوداں شعار "ذلت کی زندگی سے عزت کی موت بہتر ہے" کو صرف ایک نعرہ نہیں بنایا، بلکہ اسے امت کی اجتماعی فکر اور تہذیبی شعور کا مستقل حصہ بنا دیا۔ حسین ابن علی ؑ نے امت کو نفسیاتی شکست اور خوف کی دلدل سے نکال کر اس کے وجود میں ظلم و استبداد کے خلاف دائمی مزاحمت کی روح پھونک دی۔ یہی وجہ ہے کہ کربلا آج بھی انسانیت کے لیے ایک ابدی اخلاقی میزان ہے، جو یہ فیصلہ کرتی ہے کہ کہاں عزتِ نفس، آزادیِ ارادہ اور حق کی سربلندی ہے، اور کہاں ذلت، غلامی اور باطل کے سامنے سرنگوں ہونے کی رسوائی ہے۔

شیئر: