شیخ مصطفیٰ الہجری
جب ظلم و جبر کا شکار قومیں آمریت کی تاریک کوٹھڑیوں میں طویل گھٹن کے بعد عزت و کرامت کی خوشبو سے معطر آزادی کی ہوا میں سانس لیتی ہیں، تب انہیں حقیقی معنوں میں آزادی کی قدر و قیمت کا احساس ہوتا ہے۔ تاریخِ انسانیت میں امام حسین علیہ السلام کی کربلا کی تحریک نہ تو اقتدار کے حصول کے لیے کوئی سیاسی کشمکش تھی اور نہ ہی ایسا تاریخی واقعہ جو کسی محدود مذہبی یا فرقہ وارانہ دائرے میں محصور ہو۔ بلکہ یہ آزادی کی ایسی ہمہ گیر لہر تھی جس نے زمان و مکان کی تمام حدیں توڑ دیں اور خود ایک ایسی حیات بخش فضا میں تبدیل ہو گئی جس سے دنیا بھر کی آزادی اور حریت کی تمام تحریکوں نے سانس لی۔
آخر ہم کربلا کو انسانی آزادی کی ایک آفاقی علامت کے طور پر کیسے سمجھ سکتے ہیں؟
اس کا جواب امام حسین علیہ السلام کے پیغام، فکر اور میدانِ کربلا میں آپؑ کے عملی کردار کا گہرا تجزیہ کرنے میں پوشیدہ ہے۔ ارادے کی آزادی اور باطنی خوف کی زنجیروں کو توڑنا۔ کوئی بھی انسان اپنے معاشرے کو بیرونی جبر و استبداد سے اس وقت تک نجات نہیں دلا سکتا جب تک وہ پہلے خود اپنی اندرونی غلامیوں سے آزاد نہ ہو جائے۔ یہ اندرونی غلامیاں خوف، دنیا کی حد سے بڑھی ہوئی محبت اور ذلت آمیز زندگی سے چمٹے رہنے کی خواہش کی صورت میں انسان کو جکڑے رکھتی ہیں۔
حسینی آزادی کی بنیاد سب سے پہلے موت کے خوف کی ہیبت کو توڑنے پر رکھی گئی، اور موت کو ایک خوفناک انجام کے بجائے ہمیشگی اور ابدی حیات کی طرف جانے والا پل قرار دیا گیا۔ (إني لا أرى الموت إلا سعادة، والحياة مع الظالمين إلا بَرَماً) میں موت کو سعادت کے سوا کچھ نہیں سمجھتا، اور ظالموں کے ساتھ زندگی کو سوائے ملال، تنگی اور بیزاری کے کچھ نہیں جانتا۔(تحف العقول عن آل الرسول، ص 245۔)
یہ ارشاد درحقیقت نفسیاتی آزادی کے کامل اعلان کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں امام حسین علیہ السلام ظلم و جبر کا شکار معاشروں کی نفسیاتی سوچ کو یکسر بدل دیتے ہیں۔ آپؑ واضح کرتے ہیں کہ ظلم، غلامی اور ذلت کے سائے میں بسر ہونے والی زندگی ہی درحقیقت موت ہے، جو انسان کو بیزاری اور گھٹن میں مبتلا کر دیتی ہے، جبکہ اصول اور حق کی خاطر موت کو گلے لگانا ہی حقیقی سعادت ہے، کیونکہ یہی انسان کو ظالم کی غلامی سے مکمل آزادی اور حقیقی نجات عطا کرتی ہے۔
انسانی عظمت و کرامت: تمام نسبتوں سے بلند ایک ارفع قدر
امام حسین علیہ السلام کی تحریک اپنی انسانی عظمت کے عروج پر اس وقت پہنچتی ہے جب وہ انسان کو صرف انسان ہونے کے ناتے مخاطب کرتی ہے، اور جب انسانی فطرت کو بیدار کرنا مقصود ہو تو مذہبی عناوین سے بھی آگے بڑھ جاتی ہے۔چنانچہ جب بنو اُمیہ کے لشکر نے خواتین اور بچوں کے خیموں پر یلغار کی، تو امام حسین علیہ السلام نے انہیں اس دین کا واسطہ نہیں دیا جس کی نسبت کا وہ دعویٰ کرتے تھے، بلکہ ان کی آزاد انسانی فطرت کو جھنجھوڑتے ہوئے فرمایا:
(ويلكم يا شيعة آل أبي سفيان! إن لم يكن لكم دين، وكنتم لا تخافون المعاد، فكونوا أحراراً في دنياكم، وارجعوا إلى أحسابكم إن كنتم عرباً كما تزعمون.) تم پر افسوس ہے، اے آلِ ابوسفیان کے پیروکارو! اگر تمہارا کوئی دین نہیں، اور تمہیں آخرت کا بھی کوئی خوف نہیں، تو کم از کم اپنی دنیا ہی میں آزاد انسان بن جاؤ، اور اگر تم اپنے آپ کو عرب کہتے ہو تو اپنی خاندانی شرافت اور اخلاقی روایات کی طرف لوٹ آؤ۔ (مقتل الحسین، خوارزمی، ج 2، ص 38)
یہ پکار درحقیقت کربلا کے انسانی منشور کا بلند ترین اصول ہے۔ امام حسین علیہ السلام یہاں ایک سنہرا ضابطہ پیش کرتے ہیں کہ اگر مذہبی وابستگیاں اور آخرت کا احساس بھی انسان کے دل سے رخصت ہو جائے، تب بھی انسانی مروّت، اخلاقی غیرت اور فطری آزادی ہرگز ختم نہیں ہونی چاہیے۔ "آزاد بن جاؤ" صرف ایک نعرہ نہیں، بلکہ یہ انسان کو اقتدار کی غلامی اور اندھی اطاعت کے ریوڑ سے نکال کر اس کی پاکیزہ فطرت کی طرف واپس بلانے کی دعوت ہے؛ وہ فطرت جو کمزوروں پر ظلم اور بے گناہوں پر تعدی کو کبھی قبول نہیں کرتی۔
قیود و زنجیروں کو توڑنے کے لیے آزادی کا قرآنی منہج
امام حسین علیہ السلام کی آزادی کی دعوت کوئی نئی یا انوکھی بات نہ تھی، بلکہ یہ اس قرآنی منصوبۂ ہدایت کا عملی مظہر تھی جس کا مقصد انسانیت کو فکری، سیاسی اور ہر قسم کی غلامی سے نجات دلانا ہے، اور جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے انبیائے کرام علیہم السلام کو مبعوث فرمایا۔ (وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَالْأَغْلَالَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ) اور ان پر لدے ہوئے بوجھ اور (گلے کے) طوق اتارتے ہیں (سورۂ اعراف، آیت 157)
یہ بیڑیاں اور طوق صرف لوہے کی زنجیریں نہیں، بلکہ جہالت، توہم پرستی، فکری جمود اور ظالم حکمرانوں کے وہ قوانین بھی ہیں جو انسانوں کو غلام بنا دیتے ہیں۔ علامہ طباطبائیؒ نے تفسیر المیزان (ج 8، ص 281) میں اسی حقیقت کی وضاحت فرمائی ہے۔ امام حسین علیہ السلام نے اپنے قیام کے ذریعے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مشن کے تسلسل میں یہی فریضہ انجام دیا۔ آپؑ نے بنو اُمیہ کی مسلط کردہ غلامی کی ان زنجیروں کو توڑنے کے لیے قیام فرمایا، جنہوں نے امت کی آزادی کا گلا گھونٹ دیا تھا، تاکہ امت کو ایک بار پھر اپنے مستقبل کا خود فیصلہ کرنے اور عدل و انصاف پر مبنی نظام کے انتخاب کا حق واپس مل سکے۔
مفکرین کی نگاہ میں حسینی آزادی
کربلا کی تحریک کا آزادی بخش پہلو اسے تاریخِ اسلام کی حدود سے نکال کر ایک ایسی عالمگیر زبان بنا دیتا ہے جسے ہر آزاد ضمیر انسان سمجھ سکتا ہے۔ یہی حقیقت عظیم مفکرین کی توجہ کا مرکز بنی، جنہوں نے واقعۂ کربلا کو انسانی فلسفے اور آفاقی اقدار کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کی۔ اسی تناظر میں شہید مفکر علامہ مرتضیٰ مطہری قدس سرہ فرماتے ہیں: کہ امام حسین بن علی علیہ السلام کی شخصیت کو سمجھنے کی کنجی عظمت اور شجاعت ہے۔ آپؑ ہر چیز سے پہلے ایک آزاد انسان تھے، اور آپؑ کی آزادی صرف اللہ تعالیٰ کی بندگی سے پھوٹتی ہے۔ یہی بندگی آپؑ کو زمین کے ہر طاغوت کی غلامی سے آزاد کر دیتی ہے۔ (الملحمة الحسینیة، شہید مفکر مرتضیٰ مطہری، ج 1، ص 53)
یہ فلسفیانہ تعبیر اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ حسینی فکر میں آزادی کا مفہوم ہرگز بے لگام آزادی، انتشار یا بے مقصد بغاوت نہیں، بلکہ ذمہ دار آزادی ہے۔ حقیقی انسانی آزادی اس وقت حاصل ہوتی ہے جب انسان کسی بھی مخلوق، خواہ وہ کتنی ہی طاقتور کیوں نہ ہو، کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے سے انکار کر دے، اور اپنی مرضی و ارادے کو صرف کمالِ مطلق، یعنی اللہ تعالیٰ، کے سپرد کر دے۔ یہی وابستگی اسے ہر ظالم و جابر کے مقابل سربلند کھڑا ہونے کا حوصلہ عطا کرتی ہے اور وہ اپنی عزت و کرامت پر کسی قسم کا سمجھوتہ قبول نہیں کرتا۔
امام حسین علیہ السلام کسی عارضی عسکری فتح کے طلبگار نہ تھے، بلکہ آپؑ نے زمان و مکان کی فضاؤں میں آزادی کی روح پھونک دی۔ کربلا نے ثابت کر دیا کہ آزادی کوئی ایسی نعمت نہیں جو ظالم حکمران خیرات کے طور پر عطا کریں، بلکہ یہ ایک ایسا حق ہے جسے شعور، عزم اور قربانی کے ذریعے حاصل کیا جاتا ہے۔اسی لیے امام حسین علیہ السلام کی تحریک 61 ہجری میں عراق میں پیش آنے والے ایک تاریخی واقعے تک محدود نہیں رہی، بلکہ ایک زندہ اور جاوید فکر اور انسانی آزادی کا ایسا لازوال ترانہ بن گئی، جس کی بازگشت ہر اس مظلوم کی آواز میں سنائی دیتی ہے جو ذلت کی گرد اپنے کندھوں سے جھاڑ کر اپنے ہاتھوں سے اپنی آزادی کی تاریخ رقم کرنے کا عزم کرتا ہے۔