شیخ مصطفیٰ الہجری
سن 61 ہجری دس محرم کو میدانِ کربلا میں امام حسین علیہ السلام آپ کے اہلِ بیت علیہم السلام اور باوفا اصحاب کی شہادت کے ساتھ جنگِ کربلا کا ظاہری باب اگرچہ اختتام کو پہنچ گیا لیکن عین اسی لمحے اسلامی معاشرے کے باطن میں ایک نئی اور فیصلہ کن جنگ کا آغاز ہوا۔ اس عظیم سانحے نے اپنی ہولناکی کے باعث امتِ مسلمہ کے اجتماعی ضمیر پر ایسا گہرا نفسیاتی نقش ثبت کیا جسے تاریخی اور سماجی اصطلاح میں احساسِ جرم یا احساسِ گناہ کی گرہ کہا جاتا ہے۔ یہی احساس بعد میں وہ بنیادی محرک ثابت ہوا جس نے امت کو خوف، بے عملی اور مصلحت پسندی کی دلدل سے نکال کر مسلسل مزاحمت اور انقلابی تحریکوں کی راہ پر گامزن کر دیا۔
حق شناسی کی بیداری کا صدمہ اور ملامت گر ضمیر کا ظہور
واقعۂ کربلا سے قبل امتِ مسلمہ ایک ایسی کیفیت میں مبتلا تھی، جس میں اس کی فکری و عملی آزادی سلب ہو چکی تھی۔ اموی حکومت نے جبر، خوف اور زر و جاہ کے ذریعے لوگوں کے دلوں پر ہیبت طاری کر دی تھی اور بہت سے افراد، خصوصاً اہلِ کوفہ خوف و مصلحت کے باعث امام حسین علیہ السلام سے کیے ہوئے اپنے وعدوں اور بیعت سے پھر گئے۔ لیکن جب معرکہ ختم ہوا، گرد و غبار چھٹ گیا، شہیدوں کے تن سے جدا کیے گئے سروں اور اسیرانِ اہلِ بیت علیہم السلام کے دل خراش مناظر لوگوں کے سامنے آئے، تو خوف کی وہ دیوار یکایک منہدم ہو گئی اور اس کی جگہ ایسے شدید احساسِ ندامت اور روحانی اذیت نے لے لی، جس کا بوجھ برداشت کرنا آسان نہ تھا۔
امام حسین علیہ السلام کی شہادت نے مسلمانوں کے اجتماعی ضمیر میں ایک شدید زلزلہ برپا کر دیا۔ ان کی نصرت سے دستبردار رہنے کے سبب ان کے دلوں میں احساسِ گناہ پوری شدت کے ساتھ جاگزیں ہو گیا، اور یہی احساس بعد میں ایک ایسی انقلابی قوت میں تبدیل ہوا جس نے اموی حکومت کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں۔(ماخذ: ثورة الحسين: ظروفها الاجتماعية وآثارها الإنسانية، شیخ محمد مہدی شمس الدین، ص 165۔)
یہ سماجیاتی تجزیہ اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ واقعۂ کربلا محض ایک عسکری معرکہ نہ تھا جو حکومت کی ظاہری اور مادی فتح پر ختم ہو گیا ہو، بلکہ وہ ایک ایسی ارتدادی لرزش ثابت ہوا جس نے امتِ مسلمہ کے اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑ کر بیدار کر دیا۔ اس سانحے کے بعد اموی اقتدار اپنی سب سے بڑی قوت، یعنی امت کی نفسیاتی اطاعت اور ذہنی محکومی، سے محروم ہو گیا۔ حکمران کا خوف، جو پہلے لوگوں کو خاموش رکھتا تھا، ایک ایسے تاریخی احساسِ گناہ میں بدل گیا جس کا کفارہ خاموشی سے نہیں، بلکہ خون کی قربانی سے ادا کیا جا سکتا تھا۔
توابین کی تحریک: شہادت کا خون بے وفائی کے داغ کو دھو دیتا ہے
اس نفسیاتی کیفیت کا پہلا اور براہِ راست نتیجہ تحریکِ توابین کی صورت میں سامنے آیا۔ یہ تحریک اقتدار کے حصول یا سیاسی مفادات کے لیے برپا نہیں ہوئی تھی، بلکہ یہ خالصتاً روحانی تطہیر کی ایک تحریک تھی، جس کا واحد مقصد امام حسین علیہ السلام کی نصرت سے دست بردار رہنے کے جرم کا کفارہ ادا کرنا تھا۔ جب امام حسین علیہ السلام شہید کر دیے گئے تو شیعانِ علی علیہ السلام ایک دوسرے کو ملامت کرنے اور اپنی کوتاہی پر نادم ہونے لگے۔ وہ کہنے لگے ہم سے بہت بڑی لغزش سرزد ہوئی ہے پس اپنی اس عار کو اپنے خون سے دھو ڈالو۔ (ماخذ: تاریخ الأمم والملوک (تاریخ طبری)، ابن جریر طبری، جلد 4، صفحہ 426۔)
طبری نے یہاں حضرت سلیمان بن صرد خزاعی کی قیادت میں تحریکِ توابین کے آغاز کے اس تاریخی لمحے کو محفوظ کیا ہے۔ یہ عبارت عوامی نفسیات میں رونما ہونے والی ایک گہری اور بنیادی تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے۔ پہلے لوگ اپنے فیصلوں کو مادی نفع و نقصان کے پیمانے پر پرکھتے تھے، لیکن اب وہ خود احتسابی، خود ملامتی اور اخلاقی نجات کی جستجو کی طرف متوجہ ہو گئے تھے۔ توابین اس حقیقت کو پا چکے تھے کہ تاریخ کے دامن پر لگے اس شرمناک داغ کو نہ آنسو دھو سکتے ہیں اور نہ محض اظہارِ افسوس بلکہ اس کا واحد کفارہ یہ ہے کہ جس حق اور جس اصول کی نصرت سے وہ کل محروم رہے، آج اسی کی خاطر اپنی جانیں نچھاور کر دی جائیں۔
تاریخ کے قوانین اور تبدیلی کی ناگزیر ضرورت
واقعۂ کربلا کے بعد امتِ مسلمہ پر یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ ظالم حکمرانوں کا تسلط اور مقدسات کی بے حرمتی اس وقت تک ممکن نہ تھی، جب تک عوام کی خاموشی، باہمی تفرقہ اور بے عملی نے اس کے لیے زمین ہموار نہ کی ہوتی۔ یہی شعور درحقیقت معاشروں سے متعلق ان الٰہی سنتوں کا زندہ مظہر تھا، جنہیں قرآنِ مجید نے واضح کیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: (وَمَا أَصَابَكُم مِّن مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَن كَثِيرٍ) اور تم پر جو مصیبت آتی ہے وہ خود تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے آتی ہے اور وہ بہت سی باتوں سے درگزر کرتا ہے۔ (سورۂ شوریٰ آیت: 30)
یہ آیتِ کریمہ تاریخ میں قانونِ علت و معلول کو واضح کرتی ہے۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نواسے، امام حسین علیہ السلام، کی مظلومانہ شہادت اور ظالم حکمرانوں کے تسلط جیسا عظیم سانحہ درحقیقت امت کے اپنے اعمال، یعنی امام حسین علیہ السلام کی نصرت سے دست بردار ہونے اور بے وفائی کا فطری نتیجہ تھا۔ اسی قرآنی شعور نے مسلمانوں کو اس حقیقت سے آشنا کیا کہ عزت و وقار کی بحالی اور فاسد نظام کی اصلاح محض دعا یا منفی طرزِ انتظار سے ممکن نہیں، بلکہ اس کے لیے پہلی تاریخی لغزش کا ازالہ ظلم کے سامنے عملی مزاحمت اور جرأتِ اقدام سے کرنا ہوگا۔
انکار و مزاحمت کا مسلسل سفر: توّابین کی تحریک سے بنو اُمیہ کے زوال تک
احساسِ گناہ کی یہ کیفیت صرف تحریکِ توابین (65 ہجری) تک محدود نہ رہی، بلکہ رفتہ رفتہ ایک دائمی انقلابی فکر میں ڈھل گئی۔ اس کے بعد جناب مختار ثقفی کی تحریک نے امام حسین علیہ السلام کے قاتلوں سے قصاص لیا، پھر حضرت زید بن علی علیہ السلام کی تحریک اٹھی، اس کے بعد شہیدِ فَخ حضرت حسین بن علی علیہ السلام کی جدوجہد اور دیگر مسلسل انقلابی تحریکیں وجود میں آئیں۔ یوں امام حسین علیہ السلام کا مقدس خون ایک ایسے لازوال ایندھن میں تبدیل ہو گیا، جو جب بھی حکومتِ وقت نے صدائے حق کو دبانے کی کوشش کی، مزاحمت کی نئی چنگاری کو بھڑکا دیتا تھا۔
شیخ باقر شریف قرشی قدس سرہ لکھتے ہیں کہ کربلا درحقیقت مسلسل انقلابات کے ایک نئے دور کا نقطۂ آغاز تھا، جہاں حق کی راہ میں شہادت وہ اعلیٰ ترین قدر بن گئی جس کے حصول کو انقلابی اپنی سابقہ غلامی اور خاموشی کا کفارہ سمجھنے لگے۔ (ماخذ: حیاة الإمام الحسین بن علی، شیخ باقر شریف قرشی، جلد 3، صفحہ 405۔)
شیخ قرشی قدس سرہ اس اقتباس میں اسلامی مزاحمتی فکر کی ساخت میں رونما ہونے والی ایک بنیادی اور اسٹریٹجک تبدیلی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ واقعۂ کربلا نے مسلمانوں کے دلوں سے موت کی ہیبت کو ختم کر دیا۔ ظلم و جبر کے خلاف جان قربان کرنا اب محض موت نہیں رہا، بلکہ شہادت کا وہ عظیم مرتبہ بن گیا جس کی آرزو کی جانے لگی، نہ کہ جس سے فرار اختیار کیا جائے۔ یہی وہ تبدیلی تھی جس نے اموی حکومت کو مسلسل مزاحمت کی وجہ سےاندرونی طور پر کھوکھلا کر دیا ، یہاں تک کہ بالآخر ان کی حکومت ایک ہولناک انجام سے دوچار ہو گئی۔
اگر واقعۂ کربلا کا مطالعہ احساسِ گناہ کی گرہ کے زاویۂ نگاہ سے کیا جائے تو یہ حقیقت پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ ایک وقتی عسکری شکست کس طرح ایک طویل المدت اور فیصلہ کن اسٹریٹجک فتح میں تبدیل ہو گئی۔ کربلا کے لہو نے امت کے سوئے ہوئے ضمیر کو جھنجھوڑا، احساسِ ذمہ داری کو بیدار کیا، اور ایسی نسل کو جنم دیا جو باطل سے مصالحت کو اپنی غیرت کے خلاف سمجھتی تھی۔ اسی لیے کربلا بجا طور پر اس حیات بخش تریاق کی مانند ثابت ہوئی، جس نے خوف، کمزوری اور بے عملی کے باعث نیم مردہ ہو چکی امت کے جسم میں عزت، حریت اور حیاتِ نو کی روح پھونک دی۔