واپس
امام حسین علیہ السلام نے معاویہ سے صلح کیوں کی اور یزید کے خلاف قیام کیوں کیا؟ سیاسی اور معاشرتی حالات کا تجزیہ

امام حسین علیہ السلام نے معاویہ سے صلح کیوں کی اور یزید کے خلاف قیام کیوں کیا؟ سیاسی اور معاشرتی حالات کا تجزیہ

شیخ مصطفیٰ الہجری

اسلامی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہوئے ایک بنیادی سوال اکثر سامنے آتا ہے کہ امام حسین علیہ السلام نے اپنے برادرِ گرامی امام حسن علیہ السلام کی شہادت کے بعد معاویہ بن ابی سفیان کے دس سالہ دورِ حکومت میں صلح اور عدمِ مزاحمت کا راستہ کیوں اختیار کیے رکھا، لیکن جیسے ہی یزید برسرِ اقتدار آیا، آپ علیہ السلام نے انقلاب کی راہ کیوں اپنالی؟

اس سوال کا جواب حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ان دونوں ادوار کے گرد و پیش میں موجود سیاسی اور معاشرتی حالات کا گہری بصیرت کے ساتھ جائزہ لیا جائے۔ امام حسین علیہ السلام کے موقف میں کسی قسم کا تضاد نہیں تھا، بلکہ حالات کے بدلنے کے ساتھ حکمتِ عملی میں تبدیلی واقع ہوئی تھی۔ اس لیے کہ دونوں ادوار میں زمینی حقائق یکساں نہیں تھے۔ امام حسین علیہ السلام نے ہر مرحلے میں اعلیٰ ترین اسلامی مصلحت کے تقاضوں کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اپنا طرزِ عمل اختیار کیا۔ چنانچہ ایک مرحلے میں صبر، صلح اور عدمِ تصادم اسلامی مصلحت کا تقاضا تھا، جبکہ دوسرے مرحلے میں بدلتے ہوئے حالات نے قیام، مزاحمت اور عملی جدوجہد کو ناگزیر بنا دیا۔

معاویہ کا دور: عہد کی پاسداری اور فتنہ و انتشار کی روک تھام

امام حسین علیہ السلام نے معاویہ کے عہدِ حکومت میں متعدد نہایت اہم سیاسی، معاشرتی اور شرعی مصلحتوں کے پیشِ نظر سیاسی سکون اور خاموشی کا راستہ اختیار کیے رکھا۔

عہدِ صلح کی پابندی

امام حسن علیہ السلام نے مسلمانوں کے خون کو بہنے سے روکنے اور امت کو مزید خانہ جنگی سے بچانے کے لیے معاویہ کے ساتھ صلح کا معاہدہ کیا تھا۔ امام حسین علیہ السلام بھی اس شرعی اور اخلاقی عہد کے مکمل پابند رہے۔ کسی واضح اور ناقابلِ تردید جواز کے بغیر اس معاہدے کو توڑ دینا اہلِ بیت علیہم السلام کے اصولی موقف کو مجروح کرتا اور ان کے طرزِ عمل پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیتا۔

حکومتی سیاسی چالاکی اور اسلامی ظاہری صورت

معاویہ سیاسی تدبیر اور حکمتِ عملی میں خاص مہارت رکھتا تھا، جس کے ذریعے وہ اسلامی ریاست کی ظاہری ہیئت کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہا۔ اگرچہ اس نے اقتدار پر اجارہ داری قائم کر رکھی تھی اور مخالفین کو دبانے کے لیے جبر و تشدد سے بھی کام لیتا تھا، تاہم وہ کھلے عام ان محرمات کی پامالی نہیں کرتا تھا جو پوری اسلامی امت کے جذبات کو بھڑکا دیں۔

اگر امام حسین علیہ السلام اسی مرحلے میں قیام کر دیتے تو اموی پروپیگنڈا مشین کے لیے یہ موقع پیدا ہوجاتا کہ وہ آپ کے قیام کو ایک ذاتی بغاوت اور معاہدے کی خلاف ورزی کے طور پر پیش کرتی۔ اس طرح ممکن تھا کہ قیام اپنے اصل شعوری اور اصلاحی مقصد کو حاصل کیے بغیر ہی دبا دیا جاتا۔

معاشرتی تھکن

اس زمانے میں امت ابھی ابھی شدید اور خونریز داخلی کشمکشوں جنگِ جمل، جنگِ صفین اور جنگِ نہروان سے نکلی تھی۔ اسلامی معاشرہ مسلسل جنگ و جدال سے تھک چکا تھا اور امن و استحکام کا شدید خواہش مند تھا۔ ایسے حالات میں معاشرے کے اندر کسی نئی تحریک یا انقلاب کو قبول کرنے کے لیے نفسیاتی آمادگی موجود نہیں تھی۔ چنانچہ اس وقت کسی بھی مسلح اقدام کا لازمی نتیجہ یہی ہوتا کہ امام حسین علیہ السلام کی تحریک عوامی حمایت سے محروم اور سیاسی طور پر تنہا رہ جاتی۔

یزید کا دور: تحریفِ دین کا خطرہ اور قیام کی ناگزیریت

معاویہ کی موت اور اس کے بیٹے یزید کے برسرِ اقتدار آنے کے ساتھ ہی سیاسی صورتِ حال یکسر بدل گئی اور امام حسین علیہ السلام کے لیے قیام ایک ناگزیر انتخاب بن گیا۔ اس کی بنیادی وجوہ درج ذیل تھیں

صلح کی خلاف ورزی اور ملوکیت کا قیام

یزید کو اپنے بعد حکمران مقرر کرکے معاویہ نے امام حسن علیہ السلام کے ساتھ کیے گئے صلح نامے کی اہم ترین شق کی خلاف ورزی کی، جس کے مطابق معاویہ کے بعد امرِ حکومت اہلِ بیت علیہم السلام کی طرف لوٹنا تھا۔ اس طرح خلافت باضابطہ طور پر موروثی بادشاہت میں تبدیل ہوگئی، جس نے قیصر و کسری کے طرزِ حکمرانی کی صورت اختیار کرلی۔ چنانچہ اس خطرناک سیاسی نظیر کو مسترد کرنے کے لیے ایک تاریخی اور اصولی موقف اختیار کرنا ناگزیر ہوگیا۔

فسق و فجور کا اعلانیہ ارتکاب اور اسلامی تشخص کو خطرہ

یزید کی شخصیت میں اسلامی قیادت کی بنیادی صلاحیتیں بھی موجود نہ تھیں۔ وہ علانیہ گناہوں کا ارتکاب کرنے اور مقدساتِ اسلام کی بے حرمتی کرنے کے حوالے سے معروف تھا۔ اب خطرہ صرف حاکم کے ظلم تک محدود نہیں رہا تھا، بلکہ معاملہ دین کی اساس میں تحریف تک جا پہنچا تھا۔ امام حسین علیہ السلام نے اسی خطرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: (وَعَلَى الْإِسْلَامِ السَّلَامُ، إِذْ قَدْ بُلِيَتِ الْأُمَّةُ بِرَاعٍ مِثْلِ يَزِيدَ) اسلام پر سلام ہو، جب امت یزید جیسے حکمران میں مبتلا ہو جائے۔

زبردستی بیعت کا مطالبہ ذلت یا شہادت

معاویہ کے دور میں امام حسین علیہ السلام کو اس طرح کھلی اور صریح بیعت پر مجبور نہیں کیا گیا تھا جو اس موجودہ سیاسی حقیقت کی تائید اور اسے شرعی جواز فراہم کرتی۔ لیکن یزید نے مدینہ کے گورنر کو سخت حکم دیا کہ امام حسین علیہ السلام سے زبردستی بیعت لی جائے، بصورتِ دیگر انہیں قتل کر دیا جائے۔ یوں امام حسین علیہ السلام کے سامنے معاملہ دو ہی راستوں تک محدود کردیا گیا تھا یا ذلت آمیز طور پر سرِ تسلیم خم کرکے ایک فاسق و فاجر حکمران کو اپنی بیعت کے ذریعے جواز فراہم کیا جائے، یا عزت و سربلندی کے ساتھ شہادت کو گلے لگایا جائے۔چنانچہ امام حسین علیہ السلام نے دوٹوک اور تاریخی جواب دیا (مِثْلِي لَا يُبَايِعُ مِثْلَهُ) مجھ جیسا اس جیسے کی بیعت نہیں کرسکتا۔

عوامی حجت کا قائم ہوجانا

ان حالات کے ساتھ ساتھ اہلِ کوفہ کی جانب سے ہزاروں خطوط بھی امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں پہنچنے لگے، جن میں آپ کو کوفہ تشریف لانے اور امت کی قیادت سنبھالنے کی دعوت دی گئی تھی۔ شرعی اور سیاسی اعتبار سے، اب امام علیہ السلام پر حجت قائم ہوچکی تھی؛ کیونکہ ایک ایسی وسیع عوامی بنیاد موجود تھی جو تبدیلی کا مطالبہ کر رہی تھی اور امام علیہ السلام کی نصرت کے لیے اپنی آمادگی کا اعلان کر رہی تھی۔

خلاصہ

معاویہ کے عہد میں امام حسین علیہ السلام کے پُرامن طرزِ عمل اور یزید کے دور میں آپ کے قیام و انقلاب کے درمیان کوئی تضاد نہیں تھا۔ پہلا مرحلہ یعنی صلح، ایک ایسی حکمتِ عملی تھی جسے باقی ماندہ اہل حق و صلاح کے تحفظ، عہد و پیمان کی پاسداری، اور ایک ایسے معاشرے میں اسلامی مفادات کے تحفظ کی ضرورت نے ناگزیر بنا دیا تھا جو مسلسل جنگوں سے نڈھال اور حکومتی پروپیگنڈے سے گمراہ ہوچکا تھا۔ لیکن جب اقتدار کے سب سے بلند منصب تک فساد سرایت کرگیا اور صورتِ حال یہاں تک پہنچ گئی کہ اسلامی عقیدے اور دینی اقدار ہی کے مٹ جانے کا خطرہ پیدا ہوگیا، تو قیام آخری علاج اور امت کے بیمار جسم کے لیے وہ ضروری داغ دینے کا عمل بن گیا جو اس کے سوا کسی اور طریقے سے ممکن نہ تھا۔

شیئر: