شیخ مصطفیٰ الہجری
تاریخ کے اوراق میں ایک نہایت سبق آموز اور گہری معنویت رکھنے والی حکایت ملتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک کپتان نے اپنی عظیم الشان کشتی کو ایک طویل بحری سفر پر روانہ کیا۔ وہ تجربہ کار تھا، لیکن خود پسندی اور حد سے بڑھے ہوئے اعتماد کے مرض میں مبتلا تھا، ایسا اعتماد جو بصیرت کو ماند کر دیتا ہے۔ ایک رات اس کے معاونین اور تجربہ کار ملاحوں نے دیکھا کہ افق پر سیاہ بادل تیزی سے جمع ہورہے ہیں اور سمندری لہروں کے بدلتے ہوئے رخ سے ایک ہولناک طوفان کے آنے کے آثار نمایاں ہیں۔ وہ احتیاط کے ساتھ کپتان کے پاس پہنچے اور مشورہ دیا کہ راستہ تبدیل کرکے کسی قریبی محفوظ بندرگاہ میں پناہ لے لی جائے۔ لیکن کپتان نے اپنی انا اور اپنی رائے پر مطلق اصرار کی وجہ سے ان کے مشورے کو اپنی قیادت پر عدمِ اعتماد اور اپنی صلاحیت پر حملہ سمجھا۔ اس نے انہیں جھڑک دیا، ان کی آراء کو حقیر جانا اور اسی راستے پر سفر جاری رکھنے پر مصر رہا۔ وہ کہنے لگا کہ میں تم سے زیادہ سمندر کو جانتا ہوں، اور مجھے اپنے راستے کے سوا کسی اور راستے میں نجات دکھائی نہیں دیتی۔
ابھی چند ہی گھنٹے گزرے تھے کہ طوفان نے پوری شدت کے ساتھ کشتی کو آ لیا۔ بادبان پھٹ کر تار تار ہوگئے اور بالآخر کشتی اپنے تمام سواروں سمیت سمندر کی گہرائیوں میں ڈوب گئی۔حقیقت یہ ہے کہ کشتی کو طوفان نے غرق نہیں کیا تھا، بلکہ اسے سمندر کی تہہ تک پہنچانے والا اصل سبب خود کپتان کا اپنی رائے پر جبر اور اختلافِ رائے برداشت نہ کرنے کی کیفیت میں ڈوب جانا تھا۔
یہ تمثیلی حکایت ایک ایسے المیے کا خلاصہ ہے جو ہر زمانے اور ہر معاشرے میں مختلف شکلوں میں دہرایا جاتا ہے۔ رائے پر جبر ایک ایسی آفت ہے جو انسان کی شخصیت کی گہرائیوں میں جڑ پکڑ لیتی ہے اور بالآخر اسے اپنی ہی بنائی ہوئی سوچ اور اعتقادات کا قیدی بنا دیتی ہے۔
رائے پر استبداد دراصل ایک ایسا رضاکارانہ قید خانہ ہے جس میں انسان اپنے عقل و شعور کو خود ہی محبوس کرلیتا ہے اور اس کی کھڑکیاں ہر نئی روشنی اور ہر مختلف فکر کے لیے بند کردیتا ہے۔ اس کیفیت کی سنگینی یہ ہے کہ یہ فرد کو ایک ایسی مہلک فکری اور نفسیاتی تنہائی میں دھکیل دیتی ہے جو بالآخر اس کی شخصیت کو مفلوج کردیتی ہے۔جو شخص اپنی رائے پر اَڑ جاتا ہے، وہ خود کو نشوونما، اصلاح اور فکری ارتقا کے مواقع سے محروم کرلیتا ہے۔ رفتہ رفتہ اس کے خیالات اس قدر جامد ہوجاتے ہیں کہ وہ اس کے لیے ایسے بت بن جاتے ہیں جن کی وہ شعوری ادراک کے بغیر پرستش کرنے لگتا ہے، اور اسے یہ زعم لاحق ہوجاتا ہے کہ وہ حکمت و دانائی کی آخری منزل تک پہنچ چکا ہے۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: (وَإِنِّي كُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ لَهُمْ جَعَلُوا أَصَابِعَهُمْ فِي آذَانِهِمْ وَاسْتَغْشَوْا ثِيَابَهُمْ وَأَصَرُّوا وَاسْتَكْبَرُوا اسْتِكْبَارًا)( سورۂ نوح: 7) اور میں نے جب بھی انہیں بلایا تاکہ تو ان کی مغفرت کرے تو انہوں نے اپنے کانوں میں اپنی انگلیاں ٹھونس لیں اور اپنے کپڑوں سے (منہ) ڈھانک لیے اور اڑ گئے اور بڑا تکبر کیا۔
ذاتی سطح پر، رائے پر استبداد کرنے والا شخص رفتہ رفتہ اپنی تنقیدی بصیرت کھو دیتا ہے، یعنی وہ صلاحیت جس کے ذریعے انسان اپنی غلطیوں کا جائزہ لیتا اور اپنے اختیار کردہ راستوں پر نظرِ ثانی کرتا ہے۔ وہ ایسا انسان بن جاتا ہے جو اپنی ناکامیوں کو بار بار دہراتا ہے اور پھر بھی پورے اطمینان کے ساتھ یہ سمجھتا رہتا ہے کہ وہ درست راستے پر ہے، کیونکہ استبداد کی دیوار اسے اپنی فکر کی خامیوں کو دیکھنے سے محروم کردیتی ہے۔ مزید برآں، یہ رویہ مخلص خیرخواہوں اور وفادار دوستوں کو بھی اس سے دور کردیتا ہے۔ نتیجتاً اس کے گرد صرف خوشامدی لوگ باقی رہ جاتے ہیں، جو اس کی خود پسندی کو بڑھاتے رہتے ہیں اور بالآخر اسے تباہی کی طرف لے جانے والی راہ ہموار کردیتے ہیں۔
امیرالمؤمنین حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام نے رائے پر استبداد کرنے والے انسان کے اس المناک انجام کو نہایت مختصر مگر جامع اور گہری حکمت کے ساتھ یوں بیان فرمایا ہے: (مَنِ اسْتَبَدَّ بِرَأْيِهِ هَلَكَ، وَمَنْ شَاوَرَ الرِّجَالَ شَارَكَهَا فِي عُقُولِهَا) (نہج البلاغہ، حکمت 161) جو شخص اپنی رائے پر اَڑ جاتا ہے وہ ہلاک ہوجاتا ہے، اور جو لوگوں سے مشورہ کرتا ہے وہ ان کی عقلوں میں شریک ہوجاتا ہے۔
یہاں ہلاکت سے مراد صرف ظاہری یا مادی تباہی نہیں، بلکہ اس سے مراد عقل کی وہ ہلاکت بھی ہے جو اس کے فکری ارتقا کے رک جانے سے واقع ہوتی ہے، روح کی وہ تنگی بھی ہے جو دوسروں کی آرا کو قبول کرنے سے قاصر ہوجاتی ہے، اور فیصلہ سازی کی وہ تباہی بھی ہے جو ایسے اہم اور فیصلہ کن امور میں پیش آتی ہے جہاں انسان متعدد زاویۂ نگاہ سے محروم ہوکر ایک یک رُخی اور اندھی بصیرت کی بنیاد پر فیصلے کرنے لگتا ہے۔
استبدادِ رائے( اپنی رائے پر اڑ جانا) کی نفسیاتی جڑیں اور اس کے اسباب
رائے پر استبداد کسی خلا سے پیدا نہیں ہوتا، بلکہ یہ انسان کی شخصیت میں راسخ ہوجانے والی نفسیاتی بیماریوں اور باطنی عقدوں کا نتیجہ ہوتا ہے، جو اسے اپنی ذات کے دائرے سے باہر موجود روشنی کو دیکھنے سے محروم کردیتی ہیں۔ اس استبداد کی نمایاں نفسیاتی جڑیں درج ذیل ہیں
۱۔ تکبر و غرور : خود پسندی کا بڑھ جانا
رائے پر استبداد کرنے والا شخص اپنے اندر ایک خیالی برتری کا احساس پیدا کرلیتا ہے، جس کے باعث وہ اپنے اردگرد موجود لوگوں کو فکری اعتبار سے اپنے سے کمتر سمجھنے لگتا ہے۔ یہی تکبر اسے اس وقت بھی حق کو دیکھنے سے اندھا کردیتا ہے جب حق کسی دوسرے شخص کی زبان سے سامنے آئے۔
اہلِ بیت علیہم السلام نے بھی تکبر اور عقل کی کمی کے درمیان واضح تعلق بیان فرمایا ہے۔
امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول ہے:
(مَا دَخَلَ قَلْبَ امْرِئٍ شَيْءٌ مِنَ الْكِبْرِ، إِلَّا نَقَصَ مِنْ عَقْلِهِ مِثْلُ مَا دَخَلَهُ مِنْ ذَلِكَ، قَلَّ ذَلِكَ أَوْ كَثُرَ )(بحار الأنوار، علامہ مجلسی، ج ۷۵، ص ۱۸۶) جس شخص کے دل میں جتنا بھی تکبر داخل ہوتا ہے، اتنی ہی مقدار میں اس کی عقل کم ہوجاتی ہے؛ خواہ تکبر کم ہو یا زیادہ۔
۲۔ خوف اور کمزور خود اعتمادی
اگرچہ بظاہر رائے پر استبداد کرنے والا شخص اپنی رائے کے دفاع میں نہایت مضبوط، سخت اور جارح نظر آتا ہے، لیکن حقیقت میں اس کے اندر نفسیاتی کمزوری اور عدمِ تحفظ پایا جاتا ہے۔ وہ ہر مخالف رائے کو اپنی ذات اور اپنے وجود کے لیے براہِ راست خطرہ سمجھتا ہے اور اسے اپنی عزت و وقار پر ذاتی حملہ تصور کرتا ہے۔چنانچہ وہ اپنے اندرونی ضعف کو چھپانے کے لیے بطورِ دفاع زبانی یا معنوی دباؤ اور جبر کا سہارا لیتا ہے۔ یوں اس کی سختی دراصل اس کی قوت کی علامت نہیں ہوتی، بلکہ اکثر اس کے اندر چھپی ہوئی کمزوری کو پردہ فراہم کررہی ہوتی ہے۔
۳۔ مرکب جہالت اور تعصب
مرکب جہالت سے مراد یہ ہے کہ انسان حقیقت سے ناواقف ہو اور ساتھ ہی اسے اس بات کا بھی شعور نہ ہو کہ وہ حقیقت سے ناواقف ہے۔ یہی فکری جمود اسے اپنی آراء کو تقدس کا درجہ دینے پر آمادہ کرتا ہے، یہاں تک کہ وہ اپنے خیالات کو ایسے قطعی اور ناقابلِ تغیر اصول سمجھنے لگتا ہے جن پر بحث یا گفتگو کی کوئی گنجائش نہیں۔ یہ کیفیت بالآخر ایسی متحجر ذہنیت کو جنم دیتی ہے جو سرے سے مکالمے اور تبادلۂ خیال کے اصول ہی کو قبول کرنے سے انکار کردیتی ہے۔
اختلافِ رائے کا سامنا کرنے میں مستبد شخص کے طریقۂ کار
رائے پر استبداد کرنے والا شخص اپنی پھولی ہوئی خود پسندی کا دفاع کرنے اور مخالف آوازوں کو خاموش کرنے کے لیے مختلف پیچیدہ اور گمراہ کن حربوں کا سہارا لیتا ہے۔ قرآنِ کریم نے انسانی تاریخ کی مختلف شخصیات اور واقعات کے ذریعے ان حربوں کی نہایت باریک بینی اور دقت کے ساتھ عکاسی کی ہے۔
۱۔ حقیقت پر اجارہ داری اور مطلق درست ہونے کا دعویٰ
مستبد شخص اپنی فکر میں اجتہاد یا خطا کے کسی امکان کو تسلیم نہیں کرتا، بلکہ اپنی رائے کو ایسی قطعی حقیقت کے طور پر پیش کرتا ہے جس میں کسی باطل یا غلطی کی گنجائش ہی نہیں۔ وہ اپنے نقطۂ نظر کو حق کا واحد معیار سمجھتا ہے اور دوسروں کی آراء کو سرے سے قابلِ اعتبار نہیں جانتا۔
اس روش کی بہترین مثال فرعون ہے کہ جس نے ہدایت کے تمام راستوں کو اپنی ذاتی رائے تک محدود کرتے ہوئے کہا: (قَالَ فِرْعَوْنُ مَا أُرِيكُمْ إِلَّا مَا أَرَىٰ وَمَا أَهْدِيكُمْ إِلَّا سَبِيلَ الرَّشَادِ) (سورۂ غافر، آیت 29) فرعون نے کہا: میں تمہیں صرف وہی رائے دوں گا جسے میں صائب سمجھتا ہوں اور میں اسی راستے کی طرف تمہاری رہنمائی کرتا ہوں جو درست ہے۔
جبر کے ذریعے رائے مسلط کرنا : معنوی یا مادی
رائے کے اختلاف کو برداشت نہ کرنے کی کیفیت انسان کو اس حد تک پہنچا دیتی ہے کہ وہ اپنے اردگرد کے لوگوں کو اپنے خیالات اور نظریات قبول کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کرنے لگتا ہے۔ اس مقصد کے لیے کبھی تعلقات ختم کرنے کی دھمکی دی جاتی ہے، کبھی والدین یا سرپرست کی حیثیت سے حاصل اختیار کا ناجائز استعمال کیا جاتا ہے، اور کبھی منصب یا عہدے کی طاقت کو جابرانہ انداز میں بروئے کار لایا جاتا ہے۔
قرآنِ کریم اس طرزِ عمل کی ایک مثال حضرت شعیب علیہ السلام کے واقعے میں بیان کرتا ہے:
(قَالَ الْمَلَأُ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا مِن قَوْمِهِ لَنُخْرِجَنَّكَ يَا شُعَيْبُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَكَ مِن قَرْيَتِنَا أَوْ لَتَعُودُنَّ فِي مِلَّتِنَا) (سورۂ اعراف، آیت 88) اے شعیب!ہم تجھے اور تیرے مومن ساتھیوں کو اپنی بستی سے ضرور نکال دیں گے یا تمہیں ہمارے مذہب میں واپس آنا ہو گا
متبادل راستہ: اختلاف کو سنبھالنا اور مکالمے کی ثقافت کو اپنی ذات میں راسخ کرنا۔
فرد کو استبداد کے تاریک زندان سے نجات دلانے کا واحد راستہ یہ ہے کہ اس کے اندر ایک ایسی متبادل نفسیاتی اور عقلی بنیاد استوار کی جائے جو اختلاف کو سنبھالنے اور اسے مثبت انداز میں قبول کرنے پر قائم ہو۔مختلف آرا اور نقطۂ ہائے نظر کا پایا جانا ایک فطری انسانی حقیقت ہے، جسے ختم نہیں کیا جاسکتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ انسان اپنے نفس کو اختلافِ رائے قبول کرنے کی تربیت دے اور اسے اپنی فکری وسعت اور شعوری ارتقا کا ذریعہ بنائے۔ دوسرے لفظوں میں، اختلاف کو خطرہ سمجھنے کے بجائے اسے اپنی بصیرت وسیع کرنے اور اپنے فکری افق کو کشادہ کرنے کا ایک مؤثر وسیلہ بنانا چاہیے۔
یہ متبادل راستہ اور شخصیت میں یہ بنیادی تبدیلی محض گفتگو کے چند ظاہری طریقے سیکھ لینے سے حاصل نہیں ہوتی، بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ محض مجرد مہارتوں کی نشوونما کے بجائے ثقافتی اور دینی تربیت و ارتقا کو ترجیح دی جائے۔ شعور کی تعمیر اور تزکیۂ نفس ہی وہ حقیقی ضمانت ہیں جو فکری تواضع اور دوسرے کے حق کو تسلیم کرنے کی اقدار کو انسان کی شخصیت میں مضبوطی سے راسخ کرسکتے ہیں۔ یہ انفرادی سفر زندگی کی معمولی سے معمولی تفصیل میں بھی اصولِ شوریٰ کو بروئے کار لانے سے شروع ہوتا ہے؛ محض ایک رسمی اقدام کے طور پر نہیں، بلکہ اپنے نفس کو غور سے سننے اور دوسروں کی بات قبول کرنے کی باقاعدہ تربیت کے طور پر۔
اسلامی اصیل منہج، جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے اہلِ بیت اطہار علیہم السلام کی سیرت میں جلوہ گر ہے، اس حقیقت پر زور دیتا ہے کہ انسان کی حقیقی قوت اس بات میں ہے کہ وہ اختلافِ رائے کو سمیٹنے اور مختلف نقطۂ ہائے نظر کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ امام حسن بن علی علیہما السلام حقیقت کی مشترکہ تلاش کے لیے ایک بنیادی اصول بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ (مَا تَشَاوَرَ قَوْمٌ إِلَّا هُدُوا إِلَى رُشْدِهِمْ) (تحف العقول عن آل الرسول، ابن شعبہ حرانی، ص ۲۳۳) جو لوگ باہمی مشورہ کرتے ہیں، وہ ضرور اپنی درست راہ کی طرف رہنمائی پاتے ہیں۔
انفرادی سطح پر اختلاف کو سنبھالنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی ذات کو ثابت کرنے اور دوسرے کو مٹا دینے کی ذہنیت سے نکل کر "سیکھنے اور دوسرے کے ساتھ مل کر اپنی تکمیل کرنے" کی ذہنیت اختیار کرے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کسی بحث میں محض جیتنے کے لیے نہیں، بلکہ سمجھنے، سیکھنے اور اپنے شعور میں اضافہ کرنے کے لیے سنے۔ جب یہ شعور انسان کے اندر پختہ ہوجاتا ہے تو وہ اس اندھے کپتان کے مانند نہیں رہتا جو اپنی کشتی کو ہلاکت کی طرف لے جارہا ہو، بلکہ ایک دانا اور صاحبِ بصیرت انسان بن جاتا ہے، جو دوسروں کی عقل و دانش سے رہنمائی حاصل کرتا ہے اور زندگی کے متلاطم سمندروں میں زیادہ محفوظ اور درست سمت کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھتا ہے۔