الشيخ معتصم السيد أحمد
معاصر فکری اور معاشرتی ابحاث میں "آزادی" ان اعلیٰ ترین اقدار میں شمار ہوتی ہے جن کے حصول کے لیے انسان کو جدوجہد کی ترغیب دی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ یہ تصور عام ہوتا جا رہا ہے کہ انسان کو جتنی زیادہ آزادی حاصل ہوگی، وہ اتنا ہی خوشی کے قریب ہوگا، کیونکہ انسانی زندگی کا بنیادی مسئلہ وہ پابندیاں ہیں جو اسے اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے سے روکتی ہیں۔اسی تصور کی بنیاد پر جدید معاشروں میں ایک نعرہ غیر محسوس طریقے سےعام ہو گیا ہے کہ اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارو، جو چاہو کرو، کسی کو یہ حق نہ دو کہ وہ تمہیں بتائے کہ تمہیں کیسے جینا ہے، اور معاشرے، دین یا روایات کو یہ اجازت نہ دو کہ وہ اپنے فیصلے اور انتخاب تم پر مسلط کریں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ آزادی ایک عظیم نعمت ہے، اور اگر انسان سے انتخاب کی صلاحیت سلب کر لی جائے تو وہ نہ ذمہ دار رہ سکتا ہے، نہ مکلف، اور نہ ہی صاحبِ ارادہ۔اسلام کبھی یہ نہیں چاہتا کہ انسان بے شعور تابعدار بن کر زندگی گزارے،اسی لئے اسلام یہ نہیں چاہتا ہے کہ انسان کو ایمان لانے پر مجبور کیا جائے، اور نہ ہی اقتدار، معاشرے یا رسم و رواج کے سامنے انسان کی آزادی کوسلب کرنا چاہتا ہے۔
لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب آزادی"انسان" کی تعمیر و تربیت کا ذریعہ ہونے کے بجائے خود اس کی آخری منزل بن جائے، اور آزادی کا مفہوم صرف اس بات تک محدود کر دیا جائے کہ انسان جو چاہے کرنے کی قدرت رکھتا ہو، اس بنیادی سوال بالکل نہرکر دیا جائے کہ انسان آخر چاہتا کیا ہے؟ اور کیا انسان کی ہر خواہش اسے خیر اور سعادت کی طرف لے جاتی ہے؟
ہر وہ شخص جو انتخاب کی قدرت رکھتا ہو، ضروری نہیں کہ وہ حقیقی معنی میں آزاد بھی ہو۔ یوں بھی ہو سکتا ہے کہ انسان کے سامنے درجنوں راستے اور بے شمار آپشنز موجود ہوں ،مگر اس کے باوجود وہ کسی ایک خواہش کا اسیر ہو ۔ بعض اوقات باہر سے کوئی شخص اس پر کچھ مسلط نہیں کرتا، لیکن وہ اپنے اندر سے اٹھنے والی نفسانی خواہش کا مقابلہ کرنے سے عاجز ہوتا ہے۔
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان معاشرے کے دباؤ اور اقتدار کوتو مسترد کر دیتا ہے، لیکن اس کے باوجود شہوت، نشے کی عادت، خوف یا دوسروں کی خوشنودی حاصل کرنے کی خواہش کا غلام بن جاتا ہے۔اس لیے ہم کہ سکتے ہیں کہ ظاہری پابندیوں سے آزاد ہونا اور حقیقی آزادی حاصل کرنا دو الگ چیزیں ہیں۔
یہاں فقط آزادیِ انتخاب اور حقیقی آزادی کے درمیان فرق واضح ہوتا ہے۔ آزادیِ انتخاب کا مطلب یہ ہے کہ میں جو چاہوں، وہ کر سکتا ہوں، جبکہ حقیقی آزادی کا مطلب یہ ہے کہ جب مجھے معلوم ہو جائے کہ میری کوئی خواہش میرے لیے خود میرے لئے نقصان دہ ہے تو میں اس خواہش کو بھی مسترد کرنے کی قدرت رکھوں۔
جو شخص اپنی خواہش کے سامنے"نہیں" نہیں کہہ سکتا، وہ مکمل طور پر آزاد نہیں، خواہ پورا معاشرہ اس کے لیے ہر دروازہ کھلا چھوڑ دے۔
مثلاً ایک نشے کا عادی شخص اپنی مطلوبہ چیز تک پہنچنے میں کسی بیرونی رکاوٹ کا سامنا نہ بھی کر رہا ہو، تب بھی وہ حقیقی معنوں میں آزاد نہیں، اگر وہ اسے چھوڑنے کی قدرت نہیں رکھتا۔
اسی طرح جو شخص اپنے موبائل فون پر طویل وقت گزارتا ہے، وہ یہ سمجھ سکتا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے ایسا کر رہا ہے، لیکن اگر وہ چاہنے کے باوجود اسے بند نہ کر سکے تودر اصل موبائل کی یہ خواہش اس کے لئے ایک قید میں تبدیل ہو چکی ہے۔اور جو شخص اپنے تمام فیصلے اس بنیاد پر کرتا ہے کہ لوگ اسے پسند کریں اور اس کی تعریف کریں، وہ بظاہر خودمختار دکھائی دے سکتا ہے، لیکن حقیقت میں وہ دوسروں کی نگاہوں اور ان کی رائے کے زیرِ اثر زندگی گزار رہا ہوتا ہے۔
اسی لیے اصل سوال یہ نہیں کہ"کیا میں وہ کر سکتا ہوں جو میں چاہتا ہوں"
بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ جب میں رکنا چاہوں تو کیا میں اپنے آپ کو روک سکتا ہوں؟
یہی مفہوم اسلامی تصورِ حیات میں بھی پوری قوت کے ساتھ موجود ہے، کیونکہ اسلام انسان کو محض ایسا وجود نہیں سمجھتا جس کی خوشی صرف بیرونی پابندیاں ختم کر دینے سے حاصل ہو جائے، بلکہ وہ ہمیشہ انسان کی توجہ ان پابندیوں کی طرف بھی دلاتا ہے جو اس کے اپنے اندر پیدا ہوتی ہیں۔
خواہشِ نفس انسان کی آقا بن سکتی ہے، شہوت حکم دینے والی قوت میں بدل سکتی ہے، خوف انسان کے فیصلوں کا رخ بدل سکتا ہے، اور لالچ انسان کو ایسے کاموں کی طرف دھکیل سکتا ہے جنہیں اس کی عقل اور ضمیر خود ناپسند کرتے ہیں۔ اسی لیے قرآن کریم فرماتا ہے: ﴿أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَهَهُ هَوَاهُ﴾ "کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہشِ نفس کو اپنا معبود بنا لیا؟
یہ آیت ایسے انسان کے بارے میں نہیں جو ارادے سے محروم ہو، بلکہ ایسے شخص کے بارے میں ہے جو ارادہ تو رکھتا ہے، مگر اپنی خواہشِ نفس کو اپنے راستے کا رہنما اور اپنی سمت کا تعین کرنے والا بنا لیتا ہے۔ یہاں مسئلہ بیرونی پابندی سے کہیں زیادہ گہرا ہو جاتا ہے، کیونکہ انسان خود کو آزاد سمجھ لیتا ہے، جبکہ حقیقت میں وہ اندر سے اپنی خواہش کا غلام ہوتا ہے۔ یہ تصور کرنا بھی درست نہیں کہ تمام پابندیاں باہر سے آتی ہیں۔ بعض خطرناک ترین پابندیاں وہ ہوتی ہیں جنہیں انسان خود اپنے لیے اختیار کرتا ہے، پھر آہستہ آہستہ ان کا عادی ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ اسے وہ پابندیاں، پابندیاں محسوس ہی نہیں ہوتیں۔ ابتدا میں معاملہ ایک معمولی سی خواہش سے شروع ہوتا ہے، پھر وہ ضرورت بن جاتی ہے، اس کے بعد وابستگی میں تبدیل ہو جاتی ہے، اور بالآخر انسان اس کے بغیر اپنے آپ کا تصور کرنے سے بھی عاجز ہو جاتا ہے۔ اس مرحلے پر صورتِ حال یہ ہوتی ہے کہ انسان خواہش کا مالک نہیں رہتا، بلکہ خواہش انسان کی مالک بن جاتی ہے۔
اسی لیے انسان سے صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ "جو چاہو کرو" کیونکہ یہ نعرہ اس مفروضے پر قائم ہے کہ انسان ہمیشہ جانتا ہے کہ اس کے لیے کیا فائدہ مند ہے، اور اس کی خواہشات ہمیشہ اس کے حقیقی مفاد سے ہم آہنگ ہوتی ہیں۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ انسان کبھی ایسی چیز چاہ سکتا ہے جو اسے نقصان پہنچائے، کبھی ایسی چیز سے محبت کر سکتا ہے جو اسے تباہ کر دے، اور کبھی اس چیز سے نفرت کر سکتا ہے جو اس کی اصلاح اور بھلائی کا ذریعہ ہو۔ قرآن کریم اس حقیقت کی طرف واضح اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے:﴿وَعَسَىٰ أَنْ تُحِبُّوا شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَكُمْ﴾ "اور ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو پسند کرو، حالانکہ وہ تمہارے لیے بری ہو"
آزادی کو صرف اس بات سے نہیں پرکھا جا سکتا کہ انسان کے سامنے کتنے دروازے کھلے ہیں، بلکہ اصل معیار یہ ہے کہ وہ یہ پہچاننے کی صلاحیت بھی رکھتا ہو کہ کون سا دروازہ اسے کھولنا چاہیے اور کون سا بند چھوڑ دینا چاہیے۔ آخر اس بات کی کیا قدر و قیمت ہے کہ انسان کے سامنے تمام راستے کھلے ہوں، اگر اسے یہ معلوم ہی نہ ہو کہ اسے پہنچنا کہاں ہے؟
یہاں ہم ایک بنیادی نکتے تک پہنچتے ہیں:صرف آزادی انسان کو زندگی کا مقصد اور معنی عطا نہیں کرتی۔ ممکن ہے انسان کو یہ اختیار حاصل ہو کہ وہ اپنا پیشہ، لباس، طرزِ زندگی اور رہائش کی جگہ خود منتخب کرے، لیکن اس کے باوجود اس کے اندر خلا اور بے معنویت کا احساس باقی رہے۔ بلکہ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ اس کے اختیارات جتنے وسیع ہوتے جاتے ہیں، اس کی الجھن اور اضطراب بھی اتنا ہی بڑھتا جاتا ہے، کیونکہ اسے معلوم نہیں ہوتا کہ اسے کس معیار کی بنیاد پر انتخاب کرنا چاہیے۔ اختیارات کی کثرت ہمیشہ نعمت نہیں ہوتی، جب کوئی واضح معیار موجود نہ ہو تو یہی کثرت ایک بوجھ بن جاتی ہے۔ جب انسان کے پاس خیر و شر کے بارے میں واضح تصور نہ ہو، اور اسے یہ معلوم نہ ہو کہ زندگی کس مقصد کے لیے گزارنج چاہئے، تو اس کے نزدیک ہر انتخاب قابلِ تغیر بن جاتا ہے۔ آج وہ کسی چیز کا انتخاب کرتا ہے اور کل اسی پر پشیمان ہو جاتا ہے، اس لیے نہیں کہ اس سے آزادی چھین لی گئی تھی، بلکہ اس لیے کہ وہ اپنی آزادی کو استعمال کرنے کا طریقہ نہیں جانتا تھا۔
اسی لیے اسلام آزادی کے خلاف نہیں، لیکن وہ یہ بھی قبول نہیں کرتا کہ آزادی کو ہدایت سے بے نیاز اور بے لگام چھوڑ دیا جائے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو ارادہ و اختیار عطا کیا، لیکن اس کے ساتھ اسے ہدایت کا راستہ بھی دکھایا، کیونکہ معرفت کے بغیر اختیار انسان کو ہلاکت کی طرف لے جا سکتا ہے، جس طرح اختیار کے بغیر محض علم انسان کو ذمہ دار انسان نہیں بناتا۔
اسلامی میں آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ میں جو چاہوں کرتا پھروں، بلکہ یہ ہے کہ میں اس چیز کو منتخب کرنے کی صلاحیت رکھوں جو میری حقیقت، میری عزت و کرامت اور میری انسانی فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔ اسی لیے اسلام میں اوامر و نواہی انسان کی آزادی چھیننے کے لیے نہیں آتے، بلکہ اس آزادی کی حفاظت کے لیے آتے ہیں، تاکہ وہ کسی نئی غلامی میں تبدیل نہ ہو جائے۔ مثلاً جب اسلام انسان کو شراب سے منع کرتا ہے تو وہ اس کی آزادی نہیں چھینتا، بلکہ اس عقل کی حفاظت کرتا ہے جس کے ذریعے وہ انتخاب اور فیصلہ کرتا ہے۔ اور جب اسے زنا سے روکتا ہے تو مقصد اس کی خواہش کو سزا دینا نہیں، بلکہ اس کے اپنے آپ سے، دوسرے انسانوں سے، خاندان اور معاشرے سے تعلق کی حفاظت کرنا ہے۔ اسی طرح جب اسلام اسے سچائی اور امانت داری کا حکم دیتا ہے تو وہ اسے کسی اخلاقی قید خانے میں بند نہیں کرتا، بلکہ اسے اس بات سے محفوظ رکھتا ہے کہ اس کا ذاتی مفاد ایسا آقا نہ بن جائے جو اسے جھوٹ اور خیانت کا حکم دینے لگے۔
اسی لیے بعض پابندیاں آزادی کو کم نہیں کرتیں بلکہ اس کی حفاظت کرتی ہیں۔ جس طرح ٹریفک کے اشارے ڈرائیور کی نقل و حرکت کو محدود کرتے ہیں، لیکن اسے اپنی منزل تک محفوظ طریقے سے پہنچنے میں مدد دیتے ہیں۔ اسی طرح اخلاقی حدود انسان کو بعض خواہشات کی پیروی سے روکتی ہیں، لیکن اسے اس سے کہیں زیادہ سخت غلامی میں مبتلا ہونے سے محفوظ رکھتی ہیں۔
یہی حقیقت اس وقت نظر انداز ہو جاتی ہے جب آزادی کو ہر قسم کی پابندی سے مکمل نجات کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ جو انسان ہر طرح کی حدود کو مسترد کر دیتا ہے،اسے یہ دریافت کرنے میں بہت دیر لگتی ہے کہ وہ پابندیوں سے آزاد نہیں ہوا، بلکہ اس نے پرانے بندھنوں کی جگہ ایسے نئے بندھن اختیار کر لیے ہیں جو خود اسی کے بنائے ہوئے ہیں۔ ممکن ہے انسان اپنے خاندان کے دباؤ سے آزاد ہو جائے، لیکن پھر اپنے دوستوں کی رائے کا اسیر بن جائے۔ ممکن ہے وہ معاشرے کے خلاف بغاوت کر دے، لیکن اس کے بعد اپنی پوری زندگی اپنے فالوورز کی پسند اور تعریف حاصل کرنے کی کوشش میں گزار دے۔ اور ممکن ہے وہ دین کو اس لیے مسترد کر دے کہ اسے دین ایک پابندی محسوس ہوتا ہے، لیکن پھر برسوں تک ایسی عادت کے سامنے بے بس رہے جس کے بارے میں وہ جانتا ہے کہ وہ اسے تباہ کر رہی ہے۔حقیقی خودمختاری یہ نہیں کہ انسان کسی کی بات نہ سنے، بلکہ یہ ہے کہ وہ کسی چیز کو اپنی قوتِ ارادی پر قابض نہ ہونے دے۔
یہیں سے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ صرف آزادی خوشی پیدا کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔ خوشی کے لیے ایک اور چیز بھی ضروری ہے کہ انسان آزاد ہو، لیکن ساتھ ہی اسے یہ معلوم ہو کہ کون سی چیز انتخاب کے لائق ہے۔ وہ اپنی خواہشات پوری کرنے کی قدرت رکھتا ہو، لیکن اسے یہ بھی معلوم ہو کہ کون سی خواہش کو مسترد کرنا چاہیے۔
اس کے پاس ارادہ بھی ہو، لیکن اس کے ساتھ ایک مقصد اور منزل بھی ہو۔
آزادی اس سوال کا جواب دیتی ہے کہ "انتخاب کون کرتا ہے؟"
لیکن یہ اس سوال کا جواب نہیں دیتی کہ "مجھے کیا انتخاب کرنا چاہیے؟"
اور نہ یہ بتاتی ہے کہ "میں کیوں زندہ ہوں؟"
اور نہ یہ کہ"مجھے کہاں پہنچنا چاہیے؟"
ان سوالات کا فیصلہ صرف آزادی کے ذریعے نہیں کیا جا سکتا۔ انسان اپنے لیے کوئی راستہ منتخب کر سکتا ہے، لیکن صرف اس وجہ سے کہ اس نے اسے خود منتخب کیا ہے، وہ راستہ درست نہیں ہو جاتا۔ ممکن ہے کوئی فیصلہ مکمل طور پر انسان کا اپنا ذاتی فیصلہ ہو، لیکن پھر بھی وہ تباہ کن ثابت ہو۔ غلط چیز صرف اس لیے درست نہیں بن جاتی کہ اس کا انتخاب انسان نے اپنی مرضی سے کیا ہے، بالکل اسی طرح جیسے آگ اس لیے ٹھنڈی نہیں ہو جاتی کہ انسان اپنی مرضی سے اس میں داخل ہوا ہے۔
سب سے زیادہ عام پائے جانے والے مغالطوں میں سے ایک یہ ہے کہ ہر آزادانہ انتخاب کو انسان کے حق میں خیر سمجھ کر لازماً احترام کیا جائے۔ بے شک انسان اور اس کے حقِ انتخاب کا احترام ہونا چاہیے، لیکن انسان کا احترام کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ اس کی طرف سے کیا جانے والا ہر انتخاب دانشمندانہ اور درست بھی ہو۔ انسان کبھی اپنے لیے نقصان دہ چیز کا انتخاب کر سکتا ہے، کبھی ایسا راستہ اختیار کر سکتا ہے جو اس کے مستقبل کو برباد کر دے، اور کبھی کئی سال بعد اسے معلوم ہو سکتا ہے کہ اس نے اپنی آزادی سے جو فیصلے کیے تھے، ان میں سے بعض فیصلے ہی اس کے لیے سب سے زیادہ نقصان دہ ثابت ہوئے۔
یہاں عقل، وحی، تجربے اور نصیحت کا کردار سامنے آتا ہے۔
جب کسی انسان کو نصیحت کی جاتی ہے تو اس کی توہین نہیں ہوتی، اور جب اسے بتایا جاتا ہے کہ بعض راستے اسے نقصان پہنچائیں گے تو اس کی آزادی بھی سلب نہیں ہوتی۔ بلکہ شاید انسان کے احترام کی ایک بہترین صورت یہ ہے کہ ہم اسے ایسا انسان سمجھیں جو اپنے انتخاب پر نظرِ ثانی اور اپنی غلطیوں کی اصلاح کی صلاحیت رکھتا ہے، نہ کہ ایسا شخص جس کی ہر خواہش مقدس ہو اور جس کے قریب جانے کی کسی کو اجازت نہ ہو۔
اسلام جب انسان کی تربیت کرتا ہے تو وہ یہ نہیں چاہتا کہ انسان زندگی سے خوف زدہ ہو جائے یا بے ارادہ ہو کر کسی کا تابع بن جائے، بلکہ وہ چاہتا ہے کہ انسان اس مقام تک پہنچے جہاں وہ اپنے نفس کا مالک بن سکے۔اسی لیے تقویٰ کا تعلق ہمیشہ اس قوتِ مزاحمت سے رہا ہے جو انسان کو ان چیزوں کے مقابلے میں ثابت قدم رکھتی ہے جو اسے کسی نامناسب راستے کی طرف کھینچتی ہیں۔
جو شخص غلط کام کرنے کی قدرت رکھنے کے باوجود اسے چھوڑ دیتا ہے، وہ اس شخص سے کم آزاد نہیں جووہ غلط کام کر لیتا ہے، بلکہ ممکن ہے کہ وہ اس سے بھی زیادہ آزاد ہو۔ جو شخص بدلہ لینے کی قدرت رکھتا ہو، پھر بھی معاف کر دے، جھوٹ بول سکتا ہو، لیکن سچ بولے، خیانت کر سکتا ہو، لیکن وفا کرے،ایسا انسان اپنی قوتِ ارادی کا زیادہ قوی مالک ہوتا ہے۔ حقیقی آزادی صرف یہ نہیں کہ دوسرے لوگ تمہیں کسی کام سے نہ روکیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ تمہاری خواہشات، خوف اور نفسانی میلانات تمہیں وہ انسان بننے سے نہ روک سکیں جو تم بننا چاہتے ہو۔
اسی سے ہم اللہ کی بندگی کو ایک مختلف زاویے سے سمجھ سکتے ہیں۔
بعض لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ بندگی اور آزادی ایک دوسرے کی ضد ہیں، لیکن اسلامی تصور کے مطابق اللہ کی بندگی ہی انسان کو اللہ کے سوا ہر چیز کی غلامی سے آزاد کرنے کا راستہ ہے۔ انسان کسی نہ کسی مرجع اور رہنما اصول کے بغیر زندگی نہیں گزار سکتا۔ اگر حق اس کی سمت کا تعین نہیں کرے گا تو کوئی دوسری چیز یہ کردار سنبھال لے گی: دولت، خواہشِ نفس، لوگوں کی رائے، اقتدار یا خود پسندی۔
اسی لیے جب انسان کہتا ہے کہ "میں اللہ کا بندہ ہوں" تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس نے اپنی ذات کھو دی، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے سے کمتر کسی چیز کا غلام بننے سے انکار کرتا ہے۔ چنانچہ وہ اس وقت اپنے مفاد کے سامنے نہیں جھکتا جب وہ اسے باطل کا حکم دے، نہ لوگوں کی رائے کے سامنے جھکتا ہے جب وہ حق کے خلاف ہو، اور نہ ایسی خواہش کے آگے سرِ تسلیم خم کرتا ہے جو اس کی عزت و کرامت کو پامال کرتی ہو۔ یعنی مسئلہ آزادی میں نہیں، بلکہ اسے انسان کی آخری منزل سمجھنے میں ہے۔ آزادی ضروری ہے، لیکن اسے ہدایت دینے کے لیے عقل، قابو میں رکھنے کے لیے اقدار، اور معنی عطا کرنے کے لیے ایک مقصد کی ضرورت ہے۔
انسان صرف اس وجہ سے خوش نہیں ہو جاتا کہ وہ جو چاہتا ہے، وہ کر سکتا ہے، بلکہ وہ اس وقت خوش ہوتا ہے جب وہ اس چیز کی خواہش کرے جو خواہش کیے جانے کے لائق ہے، اسے اختیار کرنے کی قدرت رکھتا ہو، اور ان چیزوں کو مسترد کرنے کی قوت بھی رکھتا ہو جو اسے تباہ کر دیں۔ آزادی کی بلند ترین منزلوں میں سے ایک یہ ہے کہ انسان اس وقت اپنے آپ سے" نہیں " کہنے کی صلاحیت رکھتا ہو جب اس کا نفس اسے کسی نامناسب چیز کی طرف لے جا رہا ہو۔
پس آزاد وہ نہیں جس پر کوئی پابندی نہ ہو، بلکہ حقیقی آزاد وہ ہے جسے کوئی چیز غلام نہ بنا سکے، نہ خواہشِ نفس، نہ مال، نہ خوف اور نہ لوگوں کی رائے۔ جب انسان آزادی کو اس انداز سے سمجھتا ہے تو "ہدایت" آزادی کی مخالف نہیں رہتی، بلکہ اس کے درست استعمال کی شرط بن جاتی ہے۔ اسی طرح اقدار اور اصول اس کی زندگی کے لیے محض پابندیاں نہیں رہتے، بلکہ ایک ایسے حفاظتی حصار کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں جو اس کی زندگی کو بے مقصد خواہشات کے پیچھے ایک طویل سفر بن جانے سے محفوظ رکھتا ہے۔ آزادی انسان کو چلنے کی صلاحیت عطا کرتی ہے، لیکن خوشی کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ اسے چلنا کس سمت ہے۔