شیخ معتصم السید احمد
یہ ایک فطری امر ہے کہ جب انسان پر ظلم ہو، اس پر کوئی الزام عائد کیا جائے یا اس کی کردار کشی کی جائے تو وہ اپنا دفاع کرے۔ بلکہ بعض مواقع پر خاموش رہنا کمزوری اور اپنے حق سے دست برداری کے مترادف بھی ہوسکتا ہے۔ انسان سے یہ تقاضا کیا جاتا ہے کہ وہ اپنی عزت و وقار کی حفاظت کرے، اپنا موقف واضح کرے اور دوسروں کو یہ اجازت نہ دے کہ وہ اس کی طرف ایسی بات منسوب کریں جو اس نے کہی ہی نہ ہو، یا اسے ایسے کام کی ذمہ داری کا بوجھ اٹھانے پر مجبور کریں جو اس نے کیا ہی نہ ہو۔ اس اعتبار سے اپنا دفاع کرنا ایک جائز عمل ہے، بلکہ اگر خاموشی اختیار کرنے سے کوئی حق ضائع ہونے یا باطل کے حق ثابت ہوجانے کا اندیشہ ہو تو اپنا دفاع کرنا بعض اوقات واجب بھی ہوجاتا ہے۔
لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان کا دفاع حقیقت کے دفاع سے بڑھ کر اپنے اُس تصور کے دفاع میں تبدیل ہوجائے جسے وہ اپنے بارے میں قائم رکھنا چاہتا ہے۔ ہم جن چیزوں کا دفاع کرتے ہیں، ضروری نہیں کہ وہ سب حق پر مبنی ہوں، اور جن باتوں کو ہم تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں، ضروری نہیں کہ وہ سب ہمارے ساتھ ہونے والا ظلم ہی ہوں۔ کبھی انسان کسی بحث میں اس پورے یقین کے ساتھ داخل ہوتا ہے کہ وہ اپنی عزت و آبرو کا دفاع کر رہا ہے، حالانکہ حقیقت میں وہ اپنی اُس غلطی کا دفاع کر رہا ہوتا ہے جسے وہ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔
انسان یہ پسند نہیں کرتا کہ وہ اپنے آپ کو غلطی پر دیکھے۔ وہ یہ یقین رکھنا چاہتا ہے کہ اس کے فیصلے عقل و دانائی پر مبنی ہیں، اس کے مواقف منصفانہ ہیں اور اس کے طرزِ عمل کے پیچھے نیت نیک اور خیرخواہانہ ہے۔ چنانچہ جب کوئی شخص اسے ایسی بات کا سامنا کراتا ہے جو اس قائم کردہ تصور کے برعکس ہو تو بعض اوقات اسے یوں محسوس ہوتا ہے کہ مسئلہ اب محض اس کے کسی ایک فعل تک محدود نہیں رہا بلکہ گویا اس کی پوری شخصیت ہی زیرِ سوال آگئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے اندر دفاع کی جبلّت فوراً حرکت میں آجاتی ہے، اس سے پہلے کہ وہ اپنے آپ سے یہ سوال کرے: کیا میرے بارے میں جو کچھ کہا جا رہا ہے، وہ واقعی درست ہے یا نہیں؟
یہیں سے اپنے دفاع کا عمل خود شناسی کی راہ میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔
کوئی شخص آپ سے کہہ دے کہ آپ نے میرے ساتھ ظلم کیا ہے تو آپ فوراً ان حالات اور مجبوریوں کی وضاحت شروع کردیتے ہیں جنہوں نے آپ کو وہ اقدام کرنے پر آمادہ کیا، اس سے پہلے کہ آپ اپنے آپ سے یہ سوال کریں کہ کیا واقعی اس شخص کے ساتھ ظلم ہوا ہے؟
اسی طرح اگر کوئی آپ کو بتائے کہ آپ نے کسی معاملے میں غلط فیصلہ کیا یا کسی کے بارے میں غلط رائے قائم کی تو آپ فوراً اس کی اپنی غلطیاں تلاش کرنے لگتے ہیں، گویا کسی دوسرے معاملے میں اس کا غلط ہونا آپ کے اپنے موقف کو خودبخود درست ثابت کر دیتا ہو۔اور کبھی انسان کے سامنے ایک ایسی حقیقت پیش کردی جاتی ہے جس میں کوئی ابہام نہیں ہوتا، لیکن وہ اصل حقیقت کا سامنا کرنے کے بجائے اس بات میں الجھ جاتا ہے کہ اسے کس انداز میں بیان کیا گیا، بولنے والے کا لہجہ کیسا تھا یا یہ بات کس وقت کہی گئی۔ یوں وہ اصل مسئلے سے بچ نکلنے کے لیے گفتگو کے انداز، لہجے اور وقت کو موضوع بنا لیتا ہے، تاکہ اس بنیادی حقیقت کا سامنا نہ کرنا پڑے جس سے وہ گریزاں ہے۔
یہ بھی ان چالوں میں سے ایک ہے جو انسان انجانے میں اپنے ہی ساتھ چلتا ہے۔ وہ عموماً یہ نہیں کہتا کہ میں جانتا ہوں کہ مجھ سے غلطی ہوئی ہے، لیکن میں اسے تسلیم نہیں کرنا چاہتا۔ بلکہ وہ اپنے لیے ایک ایسی کہانی تراش لیتا ہے جو اس کے موقف کو قابلِ قبول بنا دے۔ وہ کہتا ہے: میں سخت مزاج نہیں تھا، بلکہ اصولوں پر قائم اور فیصلہ کرنے میں مضبوط تھا۔ میں نے ظلم نہیں کیا، بلکہ معاملات کو ان کے صحیح مقام پر رکھا۔ میں متعصب نہیں تھا، بلکہ اپنے اصولوں سے وفادار تھا۔ اور میں اعتراف کرنے سے نہیں ڈرتا تھا، بلکہ مجھے لگا کہ یہ وقت اس کے لیے موزوں نہیں ہے۔ان میں سے بعض توجیہات درست بھی ہوسکتی ہیں، لیکن خطرہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب یہی توجیہات ہمیشہ اپنے محاسبے اور خود احتسابی سے فرار کے راستے بن جائیں۔
حقیقی انصاف کا مطلب یہ نہیں کہ انسان ہر حال میں اپنے ہی خلاف کھڑا ہوجائے، نہ یہ کہ اپنے اوپر عائد ہونے والے ہر الزام کو بلا تحقیق سچ مان لے، اور نہ یہ کہ وہ مسلسل خود کو ملامت اور کڑی گرفت میں مبتلا رکھے۔ جس طرح یہ ظلم ہے کہ ہم دوسروں کو بغیر دلیل و ثبوت کے کٹہرے میں کھڑا کریں، اسی طرح یہ بھی ناانصافی ہے کہ ہم اپنے آپ کو ضرورت سے زیادہ سخت اور غیر منصفانہ انداز میں پرکھیں۔
بلکہ انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنے ساتھ بھی اسی طرح معاملہ کریں جیسے کسی ایسے شخص کے ساتھ کرتے ہیں جس کا ہم احترام کرتے ہوں اور اس کی غلطی پر اس سے مصلحتاً چشم پوشی نہ کرتے ہوں: ہم اس کی عزت و کرامت کی حفاظت کریں، لیکن اس سے جھوٹ نہ بولیں۔
انصاف کی اس منزل تک پہنچنا آسان نہیں، کیونکہ انسان اپنے محرکات اور عذر و اسباب کو اندر سے دیکھتا ہے، جبکہ دوسروں کے اعمال کو صرف باہر سے دیکھتا ہے۔ چنانچہ جب خود اس سے کوئی غلطی سرزد ہوتی ہے تو کہتا ہے میں تھکا ہوا تھا، ذہنی دباؤ میں تھا، یا میرا ایسا ارادہ نہیں تھا۔ لیکن جب کوئی دوسرا غلطی کرتا ہے تو وہ بسا اوقات صرف اس کے عمل کو دیکھتا ہے اور فوراً اس کے بارے میں فیصلہ کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اپنے لیے بے شمار عذر تلاش کر لیتے ہیں، مگر دوسروں کو ان میں سے بہت کم عذر دینے پر آمادہ ہوتے ہیں۔
یہاں ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ ہم اپنے لیے زیادہ منصفانہ اور عادلانہ پیمانہ اختیار کریں۔ ذرا اپنے آپ سے پوچھیے اگر یہی عمل کسی دوسرے شخص سے سرزد ہوتا تو کیا میں اسے قابلِ قبول سمجھتا؟ اور اگر اس عمل سے متاثر ہونے والا میں خود ہوتا تو کیا میں اسی جواز سے مطمئن ہوجاتا؟
یہ بظاہر سادہ سے سوالات انسان کے سامنے ان بہت سی حقیقتوں کو آشکار کرسکتے ہیں جنہیں وہ اپنے دفاع کی اوٹ میں چھپا لیتا ہے۔
قرآن انسان کو باطنی صداقت کی اسی حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے، ارشادِ خداوندی ہے : (بَلِ الْإِنْسَانُ عَلَىٰ نَفْسِهِ بَصِيرَةٌ وَلَوْ أَلْقَىٰ مَعَاذِيرَهُ) بلکہ انسان اپنے آپ سے خوب آگاہ ہے، اور خواہ وہ اپنی معذرتیں پیش کرے۔
انسان بسا اوقات طرح طرح کے عذر پیش کرتا ہے اور دوسروں کو اپنے مؤقف کا قائل بھی کرلیتا ہے، لیکن اپنے باطن کی گہرائیوں میں وہ اس محرک کی حقیقت سے واقف ہوتا ہے جس نے اسے اس طرزِ عمل پر آمادہ کیا۔ وہ جانتا ہے کہ اس کا غصہ اللہ کے لیے تھا یا اپنی ذات کے لیے، اس کا موقف حق کا دفاع تھا یا اپنی حیثیت و وجاہت کا تحفظ، اور معذرت سے اس کا انکار اصول پر ثابت قدمی تھی یا اپنی بنائی ہوئی شبیہ کے مجروح ہونے کا خوف۔
اسی لیے صداقت کی سب سے بڑی صورتیں ہمیشہ دوسروں کے ساتھ گفتگو میں ظاہر نہیں ہوتیں، بلکہ اس انداز میں ظاہر ہوتی ہیں جس انداز سے انسان اپنے آپ سے گفتگو کرتا ہے۔اور نفس کے لیے بعض اوقات سب سے مشکل بات یہ ہوتی ہے کہ وہ تسلیم کرے ہاں، اس نکتے میں میرا مخالف درست تھا۔ یا یہ کہے شاید اس مسئلے کی وجہ میں خود تھا۔ یا پھر یہ اعتراف کرے میں سمجھتا تھا کہ میں کسی اصول کا دفاع کر رہا ہوں، لیکن بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ میرے موقف کا ایک حصہ دراصل اپنے مفاد کا دفاع تھا۔
ان باتوں کا اعتراف کرنے کے لیے کبھی کبھی اتنی ہمت درکار ہوتی ہے جو خود کسی جھگڑے یا نزاع میں کود پڑنے کے لیے درکار ہمت سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ انسان کبھی یہ سمجھتا ہے کہ اپنی غلطی کا اعتراف کرنے سے اس کی عزت و حیثیت مجروح ہوجائے گی، حالانکہ حقیقت میں وہ اسی اعتراف کے ذریعے اپنی حیثیت مضبوط کرتا ہے۔ لوگ کسی غلطی کرنے والے شخص سے اختلاف تو کرسکتے ہیں، لیکن عموماً اس شخص کا احترام کرتے ہیں جو یہ کہنے کا حوصلہ رکھتا ہو کہ مجھ سے غلطی ہوئی ہے۔لیکن جو شخص اپنے ہر سابقہ موقف کا ہر حال میں دفاع کرنے پر مصر رہتا ہے، وہ دراصل خود کو اپنے ماضی کا قیدی بنا لیتا ہے کیونکہ اس کا ہر کیا ہوا فیصلہ ایک ایسی چیز بن جاتا ہے جس کا اسے ہمیشہ، ہر حال میں دفاع کرنا پڑتا ہے۔اور یہی سب سے بڑا خطرہ ہے کہ انسان کی عزتِ نفس، جو اسے تحفظ دینے والی قوت ہونی چاہیے، ایک ایسی زنجیر بن جائے جو اسے اپنی غلطی سے رجوع کرنے سے روک دے۔
عزتِ نفس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان معذرت نہ کرے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنے آپ سے جھوٹ نہ بولے۔ قوت کا مطلب یہ نہیں کہ انسان کبھی اپنی رائے تبدیل نہ کرے، بلکہ یہ ہے کہ جب اس پر حق واضح ہوجائے تو وہ اپنی رائے بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ ثابت قدمی یہ نہیں کہ انسان اپنی کہی ہوئی ہر سابقہ بات سے چمٹا رہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اس اصول سے وابستہ رہے جس کی تلاش میں وہ نکلا تھا، خواہ اسے یہ اعتراف ہی کیوں نہ کرنا پڑے کہ اس اصول کا اطلاق کرنے میں اس سے غلطی ہوگئی تھی۔
اسلامی تربیت نے اس باب میں ایک نہایت گہری مثال پیش کی ہے کہ توبہ کو رسوائی نہیں بلکہ فضیلت قرار دیا ہے۔ اگر غلطی کا اعتراف انسان کی قدر و منزلت میں کمی کا باعث ہوتا تو اللہ تعالیٰ اپنے حضور رجوع کرنے کو انسان کی ترقی کا ذریعہ قرار نہ دیتا۔ توبہ کا مفہوم ہی یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو اپنی غلطی سے الگ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ فعل مجھ سے سرزد ہوا ہے، لیکن یہ کوئی ایسی تقدیر نہیں جس نے مجھے ہمیشہ اسی میں مبتلا رہنے پر مجبور کردیا ہو۔
اس کے برعکس، جواز تراشی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان اپنی غلطی کے ساتھ بندھ جاتا ہے؛ کیونکہ اس غلطی کا دفاع اسے یا تو اسے دوبارہ دہرانے پر مجبور کرتا ہے، یا کم از کم اسے مسلسل درست ثابت کرنے کی کوشش میں مبتلا رکھتا ہے۔ یوں ایک ایسی غلطی جس کی اصلاح ممکن تھی، محض اس خوف کی وجہ سے ایک مستقل موقف بن جاتی ہے کہ کہیں انسان کو اپنے اعترافِ خطا سے اپنی حیثیت کھونے کا احساس نہ ہو۔اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ انسان اپنے دفاع کا حق ہی چھوڑ دے۔ دنیا میں حقیقی ظلم بھی ہوتا ہے، جھوٹے الزامات بھی لگتے ہیں، غلط فہمیاں بھی پیدا ہوتی ہیں اور بدنام کرنے کی کوششیں بھی کی جاتی ہیں۔ ایسے مواقع پر اپنا دفاع کرنا انسان کا حق ہے۔ لیکن درست دفاع اور منفی دفاع کے درمیان فرق ایک بنیادی سوال سے واضح ہوجاتا ہے کہ کیا میں چاہتا ہوں کہ حقیقت سامنے آئے، یا صرف یہ چاہتا ہوں کہ بحث میں فتح یاب ہوکر نکلوں؟
اگر میری اصل ترجیح حقیقت کا سامنے آنا ہے تو میں اس حقیقت کو بھی قبول کروں گا جو میرے حق میں ہو اور اسے بھی جو میرے خلاف ہو۔ میں جھوٹے الزام کو ضرور مسترد کروں گا، لیکن الزام میں جو بات درست ہوگی، اسے تسلیم کرنے سے گریز نہیں کروں گا۔ جس بات کو غلط سمجھا گیا ہے، میں اس کی وضاحت کروں گا، لیکن غلط فہمی کو اپنی کوتاہی سے انکار کا بہانہ نہیں بناؤں گا۔ لیکن اگر میرا مقصد صرف اپنی ذات کو فتح یاب ثابت کرنا ہے تو میں ہر تنقید کو رد کروں گا، مخالف کی غلطیاں تلاش کروں گا، اور شاید بحث کا پورا رخ ہی بدل دوں، تاکہ مجھے اس حقیقت کا سامنا نہ کرنا پڑے جو میرے لیے ناگوار ہے۔
یہیں سے انسان اخلاقی بلندی کی طرف بڑھتا ہے کہ وہ اپنی ذات اور اپنی غلطی میں فرق کرنا سیکھ لے۔ اپنی عزتِ نفس برقرار رکھنے کے لیے اسے اپنے ہر فعل کا دفاع کرنا ضروری نہیں۔ بلکہ حقیقی خودداری تو شاید اسے اس بات پر آمادہ کرے کہ وہ اپنی ذات کو ایسی غلطی کا اسیر نہ بننے دے جس سے نکلنا ممکن نہ ہو۔اپنے ساتھ انصاف کرنے والا انسان نہ اپنی تذلیل کرتا ہے اور نہ خود کو بے جا رعایت دیتا ہے۔ وہ ہر کوتاہی پر خود کو ملامت کرکے توڑ نہیں ڈالتا، اور نہ ہر احتساب کے موقع پر اپنے لیے عذر تراشتا ہے۔ وہ اپنی ذات کو ایک ایسے مسلسل سفر کے طور پر دیکھتا ہے جس میں ہمیشہ نظرِ ثانی، اصلاح اور درستی کی گنجائش باقی رہتی ہے۔
آخرکار، اپنا دفاع نہ مطلقاً مذموم ہے اور نہ مطلقاً قابلِ تعریف بلکہ اس کی قدر و قیمت اس مقصد سے متعین ہوتی ہے جو اس کے پیچھے کارفرما ہے۔ اگر انسان کا دفاع حق اور عزتِ نفس کی حفاظت کے لیے ہو تو یہ قوت ہے، لیکن اگر وہ حقیقت کی قیمت پر اپنی انا کے دفاع میں تبدیل ہوجائے تو یہ ایسی کمزوری بن جاتی ہے جو طاقت کا روپ دھار کر سامنے آتی ہے۔
انسان کے لیے سب سے مشکل انصاف شاید اپنی ذات کے ساتھ انصاف کرنا ہے، یعنی نہ تو وہ اپنی ذات پر ایسی بات کا بوجھ ڈالے جو اس نے کی ہی نہیں، اور نہ اس غلطی سے بری قرار دے جو واقعی اس سے سرزد ہوئی ہے۔ اسے یہ شعور حاصل ہو کہ کب کہنا ہے مجھ پر ظلم ہوا ہے اور کب اتنی ہمت پیدا کرنی ہے کہ کہہ سکے غلطی مجھ سے ہوئی ہے۔اور جب انسان اس مقام تک پہنچ جاتا ہے تو غلطی کا اعتراف اس کے نزدیک شکست نہیں رہتا، بلکہ اس بات کی علامت بن جاتا ہے کہ وہ ہر وقت خود کو درست ثابت کرنے کی ضرورت کی قید سے آزاد ہوچکا ہے۔ اب وہ اپنے آپ کو درست ثابت کرنے سے زیادہ اس بات کا خواہاں ہوتا ہے کہ وہ حق کے ساتھ کھڑا رہے۔