واپس
انفرادی دینداری کا لبادہ اور اجتماعی زندگی کی تنگ دامانی

انفرادی دینداری کا لبادہ اور اجتماعی زندگی کی تنگ دامانی

شیخ معتصم السید احمد

بہت سے اسلامی معاشروں کو درپیش اہم مسائل میں سے ایک یہ ہے کہ یہاں اخلاق کو عموماً ایک انفرادی معاملہ سمجھا جاتا ہے، جس کا تعلق انسان کے ذاتی رویے سے ہوتا ہے، جبکہ اجتماعی زندگی میں قدم رکھتے ہی اخلاق کی اہمیت کم ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ ایک شخص نماز اور روزے کا پابند، والدین کا فرمانبردار، خاندانی تعلقات میں دیانت دار اور بہت سے ذاتی حرام امور سے بچنے والا ہو سکتا ہے، لیکن اس کے باوجود اسے اس وقت کوئی تضاد محسوس نہیں ہوتا جب وہ اپنا ناجائز کام نکلوانے کے لیے سفارش کا سہارا لے، کسی ایسے حق پر قبضہ جمانے کی کوشش کرے جس کا وہ حق دار نہیں، قومی یا سرکاری مال پر ہاتھ صاف کرنے کو جائز قرار دے، اپنی ملازمت کی ذمہ داریوں میں کوتاہی کرے، حقدار شخص پر اپنے رشتہ دار کو ترجیح دے، یا اپنے گروہ کی بدعنوانی پر اس وقت تک خاموش رہے جب تک وہ براہِ راست اس سے متاثر نہ ہو۔یہاں مسئلہ اخلاق کے فقدان کا نہیں، بلکہ اخلاق کی تقسیم کا ہے، یعنی ذاتی زندگی میں سخت اخلاقی اصول، اور اجتماعی زندگی میں کمزور یا مفاد پرستانہ اخلاق۔

اس صورتحال کو محض کمزور دینداری کا نتیجہ قرار نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ اس کی بعض صورتیں انتہائی دیندار ماحول میں بھی دکھائی دیتی ہیں۔ اس کے لیے اس امر کا گہرا تجزیہ ضروری ہے کہ خود اخلاقی شعور کی تشکیل کس انداز سے ہوتی ہے۔انسان بچپن ہی سے یہ سیکھتا ہے کہ جھوٹ حرام ہے، چوری حرام ہے اور والدین کی نافرمانی حرام ہے، لیکن اسے ان تمام تر وضاحتوں کے ساتھ یہ تعلیم نہیں دی جاتی کہ سرکاری ملازمت میں لوگوں کے جائز کام روکنا بھی ظلم کی ایک صورت ہے، اختیارات کا ناجائز استعمال لوگوں کا مال ناحق کھانے کے مترادف ہے، زیادہ اہلیت رکھنے والے شخص کو نظر انداز کرکے نااہل کو مقرر کرنا امانت میں خیانت ہے، اور عوامی ادارے کو نقصان پہنچانا اخلاقی اعتبار سے کسی فرد کی ذاتی ملکیت پر دست درازی سے کم سنگین نہیں۔

یہاں سے ’’ذاتی دینداری‘‘ اور ’’اخلاقی شہریت‘‘ کے درمیان ایک طرح کا فاصلہ پیدا ہو جاتا ہے۔ انسان اپنی عبادات اور نجی معاملات میں نہایت پابند اور اخلاقی اصولوں کا پابند ہو سکتا ہے، لیکن اجتماعی زندگی میں اپنے مفادات، گروہی وابستگیوں اور رائج سیاسی رویّوں کے مطابق اس طرح عمل کرتا ہے، گویا دین کا دائرۂ اثر گھر یا مسجد کی دہلیز تک ہی محدود ہو۔یہ تفریق اسلامی تصورِ اخلاق سے ہم آہنگ نہیں، کیونکہ قرآنِ مجید نے ذمہ داری کو محض انفرادی دائرے تک محدود نہیں رکھا، بلکہ اسے عدل، انصاف، امانت، حق کی گواہی اور حقوق کی حفاظت کے ساتھ وابستہ کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ﴾ (النساء: ۵۸)

ے شک اللہ تم لوگوں کو حکم دیتا ہے کہ امانتوں کو ان کے اہل کے سپرد کر دو اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل و انصاف کے ساتھ کرو۔

یہ آیت کسی جداگانہ ذاتی فضیلت کو بیان نہیں کرتی، بلکہ ایک ایسے مکمل اجتماعی نظام کی بنیاد پیش کرتی ہے جو امانت، اہلیت اور عدل پر قائم ہو۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ﴾ (النساء: ۱۳۵) انصاف کے سچے داعی بن جاؤ۔

یہ حکم اخلاقی رویوں کو انفرادی سطح سے اٹھا کر اجتماعی ذمہ داری اور عمومی زندگی کے تقاضوں کی سطح پر لے آتا ہے۔لیکن بعض معاشروں میں دینی تعلیمات نے، اگرچہ غیر ارادی طور پر، فرد کی نجی اخلاقیات اور اجتماعی اخلاق کے درمیان اس فاصلے کو مزید بڑھانے میں کردار ادا کیا ہے۔ اس کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ دینی گفتگو میں فرد کے ذاتی اعمال اور نجی زندگی سے متعلق اخلاقی مسائل پر غیر معمولی توجہ دی گئی، جبکہ اداروں، معاشرے اور ریاست کی اجتماعی ذمہ داریوں اور اخلاقی تقاضوں کو اسی شدت اور اہمیت کے ساتھ زیرِ بحث نہیں لایا گیا۔ چنانچہ ہم حجاب، مرد و عورت کے باہمی تعلقات، حلال و حرام خوراک اور انفرادی عبادات جیسے موضوعات پر کثرت سے گفتگو کرتے ہیں، اور بلاشبہ یہ سب اپنی جگہ اہم اور ضروری موضوعات ہیں۔ لیکن اس کے مقابلے میں سرکاری اور قومی وسائل کی لوٹ کھسوٹ، اقربا پروری، اختیارات اور منصب کا ناجائز استعمال، شہریوں کے جائز کاموں میں بلاوجہ رکاوٹ ڈالنا، اور مواقع کی منصفانہ تقسیم سے محرومی جیسے اجتماعی مسائل پر اسی قوت اور تسلسل کے ساتھ گفتگو نہیں کی جاتی۔

اوریوں انسان کے اندر اخلاقی ترجیحات کا ایک غیر متوازن نقشہ تشکیل پاتا ہے۔کہ اسے اپنی کسی معمولی ذاتی غلطی پر تو ضمیر کا شدید بوجھ محسوس ہوتا ہے، لیکن کوئی ایسا انتظامی فیصلہ، جس سے سینکڑوں افراد متاثر ہوں، اس کے دل پر اتنا بوجھ نہیں ڈالتا۔وہ کسی فرد کے مال سے معمولی سی رقم لینا ایک واضح اخلاقی جرم سمجھ سکتا ہے، لیکن عوامی خزانے کے کروڑوں روپے ضائع کیے جانے کو محض ایک سیاسی یا انتظامی معاملہ سمجھ کر اس سے اپنی دینداری اور اخلاقی ذمہ داری کا کوئی تعلق محسوس نہیں کرتا۔

یہاں اخلاق کو ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کے خطرناک ترین نتائج میں سے ایک سامنے آتا ہے کہ کسی عمل کے اخلاقی حکم کا تعین اس کی حقیقی اخلاقی قدر و قیمت کے بجائے اس بات سے ہونے لگتا ہے کہ وہ کس دائرے میں انجام دیا گیا ہے۔حالانکہ چوری، چوری ہی رہتی ہے، خواہ انسان کسی فرد کی جیب سے مال نکالے یا اپنے منصب اور اختیار کا ناجائز فائدہ اٹھا کر سرکاری خزانے سے مال ہتھیا لے۔ جھوٹ، جھوٹ ہی رہتا ہے، خواہ وہ کسی ذاتی تعلق میں بولا جائے یا سیاسی اور ذرائع ابلاغ کے بیانیے میں۔ خیانت بھی خیانت ہی ہے، خواہ وہ کسی دوست کے ساتھ ہو یا کسی اجتماعی اور عوامی ذمہ داری کے ساتھ۔ لیکن جب انسان ذاتی اور اجتماعی زندگی کے درمیان یہ تفریق قائم کر لیتا ہے تو وہ اپنے بارے میں ’’ صالح انسان‘‘ہونے کا تصور برقرار رکھ سکتا ہے، حالانکہ اسی وقت وہ ایسی روشوں میں شریک ہوتا ہے جو پورے معاشرے کی اخلاقی بنیادوں کو کمزور اور اجتماعی زندگی کو فساد سے دوچار کر رہی ہوتی ہیں۔

سماجی اعتبار سے یہ دوہرا معیار عمومی اعتماد کو کمزور کر دیتا ہے۔ چنانچہ کوئی بھی معاشرہ اس وقت تک مؤثر اور منظم انداز میں آگے نہیں بڑھ سکتا جب اس کے افراد صرف رشتہ داری، برادری، فرقے یا اپنے گروہ کے دائرے میں ایک دوسرے پر اعتماد کریں، جبکہ اجتماعی زندگی کو ہر شخص ایسی کھلی جگہ سمجھنے لگے جہاں مفاد کے حصول اور وسائل پر قبضے کے لیے کسی بھی طریقے کو اختیار کیا جا سکتا ہے۔یہ وہ صورتحال ہے کہ جب خاندان کے اندر تو امانت و دیانت کے رویےمضبوط ہوں لیکن اداروں میں کمزور پڑ جائیں، تو معاشرہ ایسے باہم مربوط گروہوں کے مجموعے میں تبدیل ہو جاتا ہے جو اندر سے تو ایک دوسرے کے ساتھ مضبوطی سے جڑے ہوتے ہیں، مگر باہر کی دنیا میں باہم برسرِ رقابت رہتے ہیں۔ایسے میں فرد دوسروں کے حقوق کی قیمت پر بھی اپنے خاندان کے مفاد کا دفاع کرتا ہے، سیاسی جماعت اپنے کارکنوں اور وابستگان کا مفاد ریاستی مفاد پر ترجیح دیتی ہے، اور مختلف گروہ اس وقت بھی اپنے مفادات اور مراعات کے تحفظ پر مصر رہتے ہیں جب اس کے نتیجے میں اجتماعی اور قومی مفاد کو نقصان پہنچ رہا ہو۔

یہاں تک کہ بعض اوقات ذاتی سطح کی ایک خوبی بھی اجتماعی سطح پر فساد کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ مثلاً رشتہ داروں کے ساتھ وفاداری اپنی جگہ ایک اچھی صفت ہے، لیکن جب یہی وفاداری ملازمت یا منصب کے لیے زیادہ اہلیت رکھنے والے شخص کو نظر انداز کرکے اپنے رشتہ دار کو ترجیح دینے کا سبب بن جائے تو یہ اقربا پروری بن جاتی ہے۔اسی طرح کسی جماعت یا گروہ کا ساتھ دینا ظلم کے مقابلے میں ایک قابلِ قدر رویہ ہو سکتا ہے، لیکن جب یہی وابستگی اپنی جماعت کی غلطیوں کو درست ثابت کرنے کا جواز بن جائے تو یہ گروہی عصبیت کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔

اسی طرح سخاوت ایک فضیلت ہے، لیکن اگر انسان اس مال سے سخاوت کرے جو اس کی ملکیت ہی نہ ہو، یا ان عوامی وسائل سے خرچ کرے جو اس کے سپرد بطورِ امانت کیے گئے ہوں، تو اس سخاوت کی اخلاقی قدر ہی ختم ہو جاتی ہے۔یہ نکتہ نہایت اہم ہے، کیونکہ مسئلہ ہمیشہ اقدار کے فقدان کا نہیں ہوتا، بلکہ بعض اوقات اقدار کو ان کے جائز دائرے سے نکال کر ایسے میدان میں استعمال کرنے کا ہوتا ہے جہاں وہ اپنی اصل اخلاقی حیثیت کھو دیتی ہیں۔ انسان اپنی نجی زندگی میں کسی ایسے طرزِ عمل کو اخلاقی سمجھ سکتا ہے جو اپنے مخصوص دائرے میں درست ہو، لیکن جب وہی رویہ اجتماعی زندگی میں منتقل ہوتا ہے تو اس کے نتائج تباہ کن ہو سکتے ہیں۔

اخلاق کی اس تقسیم کا ایک اور خطرناک نتیجہ بدعنوانی کا معمول بن جانا ہے۔ بدعنوانی صرف اس لیے برقرار نہیں رہتی کہ معاشرے میں بدعنوان لوگ موجود ہیں، بلکہ اس لیے بھی کہ اسے مختلف جواز فراہم کرکے قابلِ قبول بنا دیا جاتا ہے۔ چنانچہ سفارش کو ’’کسی کا کام کر دینا‘‘، اقربا پروری کو ’’اپنوں کا ساتھ دینا‘‘، غلطی پر پردہ ڈالنے کو ’’وفاداری‘‘، منصب سے ناجائز فائدہ اٹھانے کو ’’موقع سے فائدہ اٹھانا‘‘، اور اپنی جماعت کی بدعنوانی پر خاموش رہنے کو ’’اتحاد برقرار رکھنا‘‘ قرار دے دیا جاتا ہے۔یوں برائی صرف برائی نہیں رہتی، بلکہ اسے ایسے الفاظ اور جواز دے دیے جاتے ہیں جو اسے معاشرتی طور پر قابلِ قبول اور معمول کا حصہ بنا دیتے ہیں۔

نتیجتاً جو شخص رشوت دینے سے انکار کرے، اسے بعض اوقات سادہ لوح سمجھا جاتا ہے؛ جو اپنے تعلقات اور اثر و رسوخ کو ناجائز طور پر استعمال کرنے سے گریز کرے، اسے یہ طعنہ دیا جاتا ہے کہ اسے اپنے معاملات چلانا نہیں آتے،اور جو رشتہ داری کے بجائے اہلیت اور میرٹ کو ترجیح دینے کا مطالبہ کرے، وہ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اپنی ہی جماعت یا برادری سے بے وفائی کر رہا ہو۔جب کوئی معاشرہ اس مرحلے تک پہنچ جائے تو بدعنوانی محض قانونی مسئلہ نہیں رہتی، بلکہ ایک گہرا اخلاقی اور ثقافتی بحران بن جاتی ہے۔

اس تقسیم کا ایک اور اہم نتیجہ ’’عوامی مال‘‘ کے تصور کا کمزور پڑ جانا ہے۔ انسان اپنے ذاتی مال کی تو پوری حفاظت کرتا ہے، لیکن سڑک، اسکول، پارک یا کسی سرکاری ادارے کے بارے میں شاید اسے وہی ذمہ داری محسوس نہیں ہوتی، گویا جس چیز کا کوئی ایک فرد مالک نہ ہو، اس کا کوئی مالک ہی نہیں۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ عوامی مال پر ناجائز تصرف اور قبضہ بعض اوقات اس سے بھی زیادہ سنگین جرم بن جاتا ہے، کیونکہ اس کا نقصان کسی ایک فرد تک محدود نہیں رہتا، بلکہ اس سے پورے معاشرے کو متاثر کرتا ہے، اور بالخصوص معاشرے کے کمزور اور محروم طبقات اس نقصان کے زیادہ شکار ہوتے ہیں۔

اسی طرح سرکاری ملازمت کے معاملے میں بھی یہی صورتِ حال سامنے آتی ہے۔ ایک سرکاری ملازم خود کو دیندار اور دینی احکام کا پابند سمجھ سکتا ہے، لیکن اسے یہ احساس نہیں ہوتا کہ لوگوں کے جائز معاملات میں بلاوجہ تاخیر کرنا، ڈیوٹی سے غیر حاضر رہنا یا اپنے منصب کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرنا بھی اخلاقی خرابی اور بددیانتی کی ایک صورت ہے۔

یہاں اس دینی تعلیمات کے اثرات نمایاں ہوتے ہیں جس نے عبادت کو اجتماعی ذمہ داری سے الگ کر دیا؛ یہاں تک کہ بعض لوگوں کے ہاں عبادت اور ایسے عوامی رویّے بیک وقت موجود رہ سکتے ہیں جو دراصل انہی عبادات کے مقاصد اور روح کے منافی ہوتے ہیں۔قرآنِ مجید خود نماز کو انسان کے عملی کردار سے جوڑتا ہے: ﴿إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ﴾. (العنکبوت: ۴۵) اور نماز قائم کریں، یقینا نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے۔

لہٰذا اگر عبادت امانت، عدل اور ذمہ دارانہ کردار سے بالکل جدا ہو جائے تو مسئلہ عبادت میں نہیں، بلکہ عبادت کے اثر اور اس کے حقیقی مقصد کو سمجھنے کے ہمارے طریقے میں ہے۔اسی لیے اخلاق کی اس تقسیم کا علاج محض وعظ و نصیحت میں اضافہ کر دینے سے نہیں ہوگا، بلکہ اس کے لیے اخلاق کے پورے تصور کی ازسرِنو تشکیل ضروری ہے۔ انسان کو ابتدا ہی سے یہ سمجھانا ہوگا کہ دینداری صرف اس کی ذاتی عبادات سے ظاہر نہیں ہوتی، بلکہ اس بات سے بھی ظاہر ہوتی ہے کہ وہ عوامی حقوق، اپنی ذمہ داری، قانون، اختلافِ رائے اور مشترکہ وسائل کے ساتھ کس طرح کا معاملہ کرتا ہے۔

دینی تعلیمات کو چاہیے کہ وہ اپنی ترجیحات پر ازسرِنو غور کرے اور ’’انفرادی حرام امور‘‘ اور ’’اجتماعی حرام امور‘‘کے درمیان موجود اس وسیع خلا کو ختم کرے۔ جو شخص عوامی مال ہڑپ کرتا ہے، وہ بھی اتنی ہی مضبوط اخلاقی رہنمائی کا محتاج ہے جتنی ایک شخص کو کسی ذاتی گناہ سے بچنے کے لیے ضرورت ہوتی ہے۔ اسی طرح ایک ایسا ذمہ دار شخص جو اپنے ایک فیصلے سے سینکڑوں لوگوں پر ظلم کر دے، اس کے عمل کے اثرات درجنوں انفرادی غلطیوں سے کہیں زیادہ وسیع ہو سکتے ہیں۔

اسی طرح دینی اور تعلیمی اداروں پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اجتماعی اخلاق کے واضح نمونے پیش کریں؛ مثلاً نظم و ضبط کا احترام، اپنی باری کی پابندی، شفافیت، اہلیت و قابلیت کو ترجیح دینا، حقوق کے معاملے میں مساوات، عوامی املاک کی حفاظت، اور اقربا پروری کو اس وقت بھی مسترد کرنا جب اس سے اپنے قریبی لوگوں کو فائدہ پہنچ رہا ہو۔

ایک اخلاقی معاشرے کی تشکیل صرف اس بات سے ممکن نہیں کہ لوگوں کی نجی زندگی میں نیک اور صالح افراد کی تعداد بڑھ جائے، جبکہ اجتماعی زندگی اب بھی ایک مختلف طرزِ عمل اور مفاد کے اصولوں کے تحت چلتی رہے۔ افراد کی اصلاح یقیناً بنیادی شرط ہے، لیکن یہ اس وقت تک کافی نہیں جب تک ان کی اخلاقی اقدار اداروں کے نظام اور اجتماعی تعلقات کے لیے بھی اصول و ضوابط کی صورت اختیار نہ کر لیں۔

یہاں ’’اخلاقِ نیت‘‘ اور ’’اخلاقِ اثر‘‘ کے درمیان فرق کو سمجھنا بھی مفید ہے۔ انسان کی نیت اچھی ہو سکتی ہے، لیکن وہ کسی ایسے نظام کا حصہ بن سکتا ہے جو دوسروں کے ساتھ ناانصافی پیدا کر رہا ہو۔ وہ محبت اور خیرخواہی کے جذبے سے اپنے کسی رشتہ دار کی مدد کر سکتا ہے، لیکن اس مدد کے نتیجے میں کسی دوسرے شخص کا جائز حق چھن سکتا ہے۔اس لیے صرف یہ پوچھنا کافی نہیں کہ ’’میرا مقصد کیا تھا؟‘‘ بلکہ یہ سوال بھی ضروری ہے کہ ’’میرے عمل نے دوسروں کی زندگیوں پر کیا اثر ڈالا؟‘‘

یہ نیت سے اثر کی طرف منتقلی ایک پختہ اخلاقی شعور کی تشکیل کے لیے نہایت ضروری ہے، کیونکہ اجتماعی زندگی، ذاتی تعلقات کی نسبت کہیں زیادہ پیچیدہ ہوتی ہے اور اس میں کیے جانے والے فیصلے بڑی تعداد میں لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کرتے ہیں۔

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ ہمارے معاشروں میں اخلاقی بحران ہمیشہ اقدار کے فقدان کا بحران نہیں ہوتا، بلکہ اکثر یہ اقدار کی غیر متوازن تقسیم کا بحران ہوتا ہے۔ ہم ذاتی اور نجی رویّوں کے بارے میں تو غیر معمولی حساس ہوتے ہیں، لیکن اجتماعی ناانصافی کے معاملے میں ہماری حساسیت کم ہو جاتی ہے۔ ہم ایک فرد کے ذاتی طرزِ عمل کا باریک بینی سے احتساب کرتے ہیں، مگر ایسے ادارے کی کوتاہیوں اور زیادتیوں سے چشم پوشی کر لیتے ہیں جو ہزاروں لوگوں کے حقوق پامال کر رہا ہو۔

معاشرہ اس وقت اخلاقی معاشرہ نہیں بنتا جب اس کے افراد صرف اپنے گھروں میں نیک اور صالح ہوں، بلکہ اس وقت بنتا ہے جب سچائی، امانت اور عدل کی اقدار گھر سے نکل کر گلی اور بازار تک، مسجد سے نکل کر اداروں تک، اور ذاتی تعلقات سے آگے بڑھ کر اجتماعی فیصلوں کا حصہ بن جائیں۔

وہ اخلاق جو گھر کی دہلیز پر آ کر رک جائیں، بلاشبہ باکردار اور مہذب افراد تو پیدا کر سکتے ہیں، لیکن ایک عادلانہ معاشرہ تشکیل نہیں دے سکتے۔ اس کے برعکس، جب اخلاق عمومی ثقافت، ادارہ جاتی اصولوں اور اجتماعی طرزِ عمل کی بنیاد بن جائیں، تب ہی دینداری کے اثرات فرد کی ذاتی اصلاح سے آگے بڑھ کر پورے معاشرے کی اصلاح کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔

شیئر: