الشيخ معتصم السيد أحمد
ذوق سے مراد وہ انسانی صلاحیت ہے جس کی بدولت انسان جن اقدار پر ایمان رکھتا ہے وہ انہیں اپنی گفتگو، اپنے رویے، اپنے ظاہری حلیے، اپنے تعلقات، اپنے ماحول اور دوسروں کے ساتھ اختلاف کرنے کے طریقے میں ایک خوبصورت اور دلنشین صورت میں ڈھال سکے۔ لہٰذا یہاں ذوق سے مراد صرف لباس کے رنگوں، فنِ تعمیر یا دسترخوان کے آداب سے واقفیت نہیں، بلکہ یہ عنوان اس سے کہیں وسیع مفہوم ہے۔ اس ضمن میں عین ممکن ہے کہ ایک انسان حلال و حرام کی پابندی تو کرتا ہو، لیکن وہ گفتگو میں درشت اور سخت مزاج ہو، اپنے ظاہری حلیے کا خیال نہ رکھتا ہو، اپنی زندگی میں بے ترتیبی کا شکار ہو، عوامی مقامات پر دوسروں کو اذیت پہنچاتا ہو، یا حق کو خوبصورت اور دلنشین انداز میں پیش کرنے سے عاجز ہو، تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کی دینداری میں ایک اہم چیز کی شدید کمی رہ گئی ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ سماج میں اکثردین داری کو صرف اس ایک سوال تک محدود کر دیا جاتا ہے کہ کیا یہ کام حلال ہے یا حرام؟ بلاشبہ یہ ایک بنیادی سوال ہے، جس سے صرفِ نظر نہیں کیا جا سکتا، لیکن اصل دینی زندگی صرف وجوب و حرمت کے دائرے تک محدود نہیں ہے۔بلکہ بعض ایسے اعمال بھی ہوتے ہیں جو فقہی اعتبار سے براہِ راست حرام تو نہیں ہوتے، لیکن وہ ناپسندیدہ ہوتے ہیں اور ایسے انسان کے شایانِ شان نہیں ہوتے جو دین کی نمائندگی کرنا چاہتا ہو۔
اسی طرح کبھی ایسا ہوتا ہے کہ انسان کو کسی بات کے کہنے کا حق تو حاصل ہوتا ہے، لیکن اس بات کو کہنے کا جو اندازاختیار کیا جاتا ہے وہ دل آزاری کا باعث بن سکتا ہے۔ اور کبھی انسان کا مؤقف درست ہوتا ہے، لیکن وہ اسے ایسے انداز میں پیش کرتا ہے کہ لوگ خود حق ہی سے متنفر ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے قرآن نے صرف عدل پر اکتفا نہیں کیا، حالانکہ عدل انسانی تعلقات کی بنیاد ہے، بلکہ فرمایا:﴿إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ﴾ (النحل ، 90) بے شک اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے۔
عدل اور احسان : ان دونوں کے درمیان فرق اسلامی اخلاقیات کے فلسفے کے ایک اہم پہلو کو واضح کرتا ہے۔ عدل یہ ہے کہ ہر انسان کو اس کا حق دیا جائے، جبکہ احسان اس حق کی ادائیگی میں حسنِ عمل، نرمی اور انسانی جذبات کا اضافہ کرتا ہے۔ ممکن ہے آپ اپنی ذمہ داری کے مطابق واجب کام انجام دے دیں، لیکن احسان یہ سوال بھی کرتا ہے کہ آپ نے اسے کس انداز سے انجام دیا؟ کیا آپ نے انسان کی عزتِ نفس کا خیال رکھا؟ کیا آپ نے زیادہ خوبصورت اور مناسب لفظ کا انتخاب کیا؟ کیا آپ نے اس کے لیے موزوں ترین طریقہ اختیار کیا؟حتی کہ قرآن نے اختلاف کے مواقع پر بھی حسن گفتار اپنانے کی ہدایت دیتے ہوئے فرمایا: ﴿وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا﴾ (البقرۃ، 83) اور لوگوں سے حسن گفتار سے پیش آؤ۔ یہ نہیں فرمایا کہ صرف مؤمنین سے اچھی بات کہو۔ اور فرمایا: ﴿ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ﴾ (المؤمنون ،96) آپ برائی کو احسن برتاؤ کے ذریعے دور کریں۔
لہٰذا مطلوب صرف یہ نہیں کہ انسان حق پر ہو، بلکہ اس حق پرست کے اندر یہ صلاحیت بھی ہونی چاہیے کہ وہ حق کے شایانِ شان اندازبھی اختیار کرے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جسے ہم کبھی کبھی دینی اور ثقافتی گفتگو میں نظر انداز کر دیتے ہیں۔ انسان یہ سمجھنے لگتا ہے کہ عقیدے کی مضبوطی اس کے اظہار میں سختی کو جائز قرار دیتی ہے، اور دین کے بارے میں اس کی غیرت اسے یہ حق دے دیتی ہے کہ وہ اپنے مخالف کا مذاق اڑائے، اسے توہین کا نشانہ بنائے یا اس کی نیت پر شک کرے۔ جبکہ قرآن خود تمسخر اور مذاق اڑانے سے منع کرتا ہے:﴿لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ﴾ (الحجرات،11) کوئی قوم دوسری قوم کا مذاق نہ اڑائے۔ اسی طرح قرآن برے القاب سے پکارنے، غیبت کرنے اور بدگمانی سے بھی منع کرتا ہے۔ پس دین یہ نہیں چاہتا کہ حق کی فتح کسی بھی طریقے سے حاصل کی جائے، کیونکہ حق کے دفاع کا طریقۂ کار بھی خود حق کی اخلاقیات کا ایک حصہ ہے۔
اسی لیے ہمیں کبھی کبھی اپنے آپ سے یہ سوال ضرور کرنا چاہیے۔کیا ہم لوگوں کے سامنے اسلام کو اس کی حقیقی صورت میں پیش کر رہے ہیں، یا اس میں اپنی ذاتی ترش روئی ملا کر پیش کر رہے ہیں؟ ممکن ہے دوسرا شخص ہم سے اختلاف رکھتا ہو، لیکن اختلاف ہمیں اپنے ادب سے محروم ہونے کا جواز فراہم نہیں کرتا۔ اور ممکن ہے وہ غلطی پر ہو، لیکن اس کی غلطی یہ حق نہیں دیتی کہ اسے جواب دینے کے لیے ہر طریقہ جائز سمجھ لیا جائے۔ بلکہ انسان کا اپنے مخالف کے ساتھ اختلاف کے باوجود اپنے ادب کو برقرار رکھنا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ دین نے اس کے جذبات اور جذباتی رویوں کی کتنی تصحیح کی ہے اور یہ صرف اس بات سے ظاہر نہیں ہوتا کہ اسے کتنے دلائل یاد ہیں۔ ذوق صرف گفتگو تک محدود نہیں، بلکہ اس کا آغاز انسان کے اپنے آپ اور اپنی ظاہری شخصیت کے ساتھ تعلق سے ہوتا ہے۔ قرآن فرماتا ہے: ﴿خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ﴾ (الاعراف،31) ہر عبادت کے وقت اپنی زینت اختیار کرو۔
پھر قرآن اس تصور کی بھی تردید کرتا ہے کہ زینت اور خوبصورتی دین داری کے منافی ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے: ﴿قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّهِ الَّتِي أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ وَالطَّيِّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ﴾ (سورۃ الاعراف : 32) کہدیجئے: اللہ کی اس زینت کو جو اس نے اپنے بندوں کے لیے نکالی اور پاک رزق کو کس نے حرام کیا ؟
بلکہ حسن بن محمد الطوسی نے الأمالي میں اپنے والد سے، انہوں نے فحّام سے، انہوں نے منصوری سے، انہوں نے امام علی بن محمد الہادی علیہ السلام سے، انہوں نے اپنے آباء سے اور انہوں نے امام صادق علیہ السلام سے روایت نقل کی ہے کہ آپ نے فرمایا: (إن الله يحب الجمال والتجمل، ويبغض البؤس والتباؤس، فإن الله إذا أنعم على عبده بنعمة أحب أن يرى عليه أثرها)
بے شک اللہ خوبصورتی اور خوبصورت انداز اختیار کرنے کو پسند کرتا ہے، اور تنگ دستی و بدحالی اور بدحالی کا اظہار کرنے کو ناپسند کرتا ہے۔ پس جب اللہ اپنے بندے کو کوئی نعمت عطا فرماتا ہے تو وہ پسند کرتا ہے کہ اس نعمت کا اثر اس بندے پر نظر آئے۔
(قيل: كيف ذلك؟ قال: ينظف ثوبه، ويطيب ريحه، ويجصص داره ويكنس أفنيته حتى أن السراج قبل مغيب الشمس ينفي الفقر ويزيد في الرزق)
پوچھا گیا: وہ کیسے؟ فرمایا: وہ اپنے لباس کو صاف رکھے، اچھی خوشبو استعمال کرے، اپنے گھر کو پختہ اور صاف ستھرا بنائے، اور اپنے گھر کے صحنوں کو جھاڑے، یہاں تک کہ سورج غروب ہونے سے پہلے چراغ روشن کرنا فقر کو دور کرتا اور رزق میں اضافہ کرتا ہے۔ یہ بات واضح کرتی ہے کہ خود کو آراستہ رکھنا صرف غرور یا عیش و عشرت کی علامت نہیں ہے، اسی طرح زہد کا یہ مطلب بھی نہیں کہ انسان اپنے آپ کو نظر انداز کرے یا اپنی شخصیت کو دوسروں کے لیے ناگوار بنا دے۔ سادگی اور بدصورتی، تواضع اور بے پروائی، بے تکلفی اور ذوق سے محرومی کے درمیان واضح فرق ہے۔ ایک دیندار شخص کو اپنے زہد کو ثابت کرنے کے لیے بدحالی کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت نہیں، اور نہ ہی آخرت کی فکر میں مشغول ہونے کا ثبوت دینے کے لیے اپنی صفائی، لباس اور ظاہری حلیے کو نظر انداز کرنا ضروری ہے۔ یہی بات ماحول اور عوامی مقامات کے بارے میں بھی ہے۔ یہ ایک عجیب تضاد ہے کہ انسان نماز کے لیے اپنے لباس کی پاکیزگی کے معاملے میں تو انتہائی حساس ہو، لیکن سڑک پر کچرا پھینکنے میں اسے کوئی حرج محسوس نہ ہو۔ممکن ہے وہ جس مسجد میں نماز پڑھتا ہے، اس کی صفائی کا خاص اہتمام کرے، لیکن باغ، سڑک یا اسکول کی صفائی اور حفاظت کو اپنی اخلاقی ذمہ داری کا حصہ نہ سمجھے۔
یہاں دین کی تفہیم میں ایک عجیب قسم کی تقسیم سامنے آتی ہے: ذاتی طہارت اور پاکیزگی کا تو بہت باریک اہتمام، لیکن اس کے مقابلے میں مشترکہ ماحول کی خوبصورتی اور صفائی کے احساس میں نہایت کمزوری کا مظاہرہ ۔جس سڑک پر چلتے پھرتے ہیں، وہ دین کے دائرے سے باہر نہیں ہے، اسی طرح نظم و ضبط بھی اخلاق سے الگ کوئی محض انتظامی معاملہ نہیں ہے۔ جب کوئی شخص اپنی گاڑی اس طرح کھڑی کرتا ہے کہ دوسروں کے لیے تکلیف یا رکاوٹ پیدا ہو، یا عوامی جگہ پر اپنا کچرا پھینک دیتا ہے، یا ایسی دیوار کو خراب کرتا ہے جو اس کی ملکیت نہیں، تو وہ دراصل ذمہ داری کے تصور میں موجود ایک کمزوری کو ظاہر کرتا ہے، خواہ اپنی ذاتی زندگی میں وہ دین کا کتنا ہی پابند کیوں نہ ہو۔بلکہ ہم اس بات کو مزید آگے بڑھا سکتے ہیں اور کہہ سکتے ہیں کہ شہر کی ظاہری صورت بھی معاشرے کی ثقافت کے بارے میں کچھ نہ کچھ بتاتی ہے۔
شہر میں بدنظمی، آلودگی، بے ہنگم ٹریفک اور عوامی مقامات کا احترام نہ کرنا محض انجینئرنگ یا شہری انتظام کے مسائل نہیں ہیں، بلکہ اس کے پیچھےانسان کو ایک منظم اور خوبصورت ماحول میں زندگی گزارنے کا حق اور اس حق کی حفاظت کا مسئلہ بھی ہے ۔شہر محض عمارتوں کا ایسا مجموعہ نہیں جو اپنے اپنے کام انجام دے رہا ہو، بلکہ وہ ایک ایسا اجتماعی ماحول ہے جو انسان کی نفسیات، اس کے ذوق اور زندگی کے ساتھ اس کے تعلق کو تشکیل دیتا ہے۔
اسی لیے خوبصورتی اور حسنِ ذوق کو محض آسودہ اور مالدار معاشروں کی عیاشی نہیں سمجھنا چاہیے۔ غریب شخص کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ صاف ستھری سڑک پر چلے،اس کا بچہ بھی ایک باوقار اور مناسب اسکول میں داخل ہو، ایسے ہسپتال میں علاج کروائے جہاں اس کی عزتِ نفس مجروح نہ ہو، اور جن عوامی مقامات سے وہ استفادہ کرتا ہے وہ بھی خوبصورت اور منظم ہوں۔بلکہ غریبوں کو خوبصورتی اور بہتر ماحول سے محروم رکھنا انہیں ایک اور قسم کی محرومی اورظلم کی جانب دھکیلنے کے مترادف ہے، جب یہ تصور کر لیا جائے کہ چونکہ انہیں صرف کھانے اور دوا کی ضرورت ہے، اس لیے جس ماحول میں وہ زندگی گزار رہے ہیں اس کے معیار کی کوئی اہمیت نہیں۔ذوق کا اثر دینی شعائر میں بھی ظاہر ہوتا ہے۔ یعنی جذبات کا سچا اور مخلص ہونا انسان کو نظم و ضبط، صفائی اور دوسروں کے حقوق کے احترام سے بے نیاز نہیں کرتا۔
ممکن ہے کوئی دینی عمل اپنی ذات میں مقدس ہو، لیکن اسے ادا کرنے کے بعض طریقوں پر نظرِ ثانی کی ضرورت ہو، اگر وہ لوگوں کے حقوق کو متاثر کرتے ہوں، جگہ کے حسن و ترتیب کو خراب کرتے ہوں، یا ایسی تصویر پیش کرتے ہوں جو اس عمل کی اصل قدر و منزلت سے ہم آہنگ نہ ہو۔لہٰذا عبادت کا احترام یہ نہیں کہ اس کے نام پر ہونے والے ہرکام کا دفاع کیا جائے، بلکہ بسا اوقات عبادت کا احترام ہی یہ تقاضا کرتا ہے کہ اسے زیادہ خوبصورت، باوقار اور منظم انداز میں پیش کیا جائے۔
یہاں ہم ایک زیادہ گہرے سوال تک پہنچتے ہیں۔کیا یہ کافی ہے کہ ایک معاشرہ دیندار ہو، اگر اس کی زبان میں سختی ہو، اس کی سڑکیں بدنظم ہوں، اس کے ادارے غیر منظم ہوں، اس کے باہمی تعلقات توہین و تذلیل پر قائم ہوں اور اس کا عمومی ذوق کمزور ہو؟
اس کا جواب اس بات پر منحصر ہے کہ ہم دین داری سے کیا مراد لیتے ہیں۔اگر اس سے مراد صرف چند دینی شعائر کی ادائیگی ہے تو یہ تمام چیزیں ایک ساتھ جمع ہو سکتی ہیں۔ لیکن اگر دین داری سے مراد انسان کی تعمیر و تربیت کا ایک منصوبہ ہے، تو اس کے اثرات صرف مسجد، امامبارگاہ اور گھر تک محدود کیسےرہ سکتے ہیں، جبکہ زندگی کے باقی تمام شعبے اس کے زیر اثرہی نہ آئیں ۔
پس جو نماز انسان کو اللہ کے سامنے کھڑے ہونے کا شعور سکھاتی ہے، اسے اس انسان کے رویے میں بھی کچھ نہ کچھ سکون اور وقار پیدا کرنا چاہیے۔اور جو روزہ اسے اپنی خواہشات پر قابو پانے کی تربیت دیتا ہے، اسے اپنے غصے پر قابو پانا بھی سکھانا چاہیے۔ اور جو حج اسے نظم و ضبط اور مساوات کا درس دیتا ہے، اس کا اثر لوگوں کے ساتھ اس کے تعلقات میں بھی ظاہر ہونا چاہیے۔ ورنہ عبادت شخصیت کے ایک حصے میں واقع ہو کر رہ جائے گی اور اس کا اثر انسان کی شخصیت کے دوسرے پہلوؤں تک منتقل نہیں ہو سکے گا۔ قرآن نے اللہ کے بندوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا:
﴿الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُوا سَلَامًا﴾ (الفرقان ، 63) (اور رحمن کے بندے وہ ہیں) جو زمین پر (فروتنی سے) دبے پاؤں چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے گفتگو کریں تو کہتے ہیں: سلام۔
غور کیجیے کہ یہاں ان کی صفت کا تعلق نماز یا روزے سے نہیں بتایا گیا، بلکہ چلنے کے انداز اور جاہل کو جواب دینے کے طریقے سے بتایا گیا ہے۔ یعنی ایمان انسان کی حرکات اور گفتگو کی باریک جزئیات میں بھی ظاہر ہوتا ہے۔اور جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کی تو صرف عقائد اور عبادات تک محدود نہیں رہے، بلکہ فرمایا: ﴿وَلَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَلَا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا﴾ (لقمان ، 18)اور لوگوں سے (غرور و تکبر سے) رخ نہ پھیرا کر اور زمین پر اکڑ کر نہ چلا کرو۔
پھر فرمایا: ﴿وَاغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ إِنَّ أَنْكَرَ الْأَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِيرِ﴾ (لقمان ، 19) اپنی آواز کو پست رکھو، بے شک سب سے ناگوار آواز گدھوں کی آواز ہے۔
یہاں تک کہ آواز کا لہجہ اور چلنے کا انداز بھی تربیت کے اس منصوبے میں شامل کر دیے گئے؛ کیونکہ دین صرف انسان کے افکار و نظریات کی تشکیل نہیں کرتا، بلکہ زندگی میں اس کی شخصیت، اندازِ تعامل اور طرزِ عمل کی بھی تشکیل دیتا ہے۔یہی وہ چیز ہے جسے ہمیں اپنی دینی گفتگو اور دینی فکر میں دوبارہ زندہ کرنے کی ضرورت ہے: ایسے دین داری کے تصور سے آگے بڑھنا جو انسان سے صرف یہ پوچھتا ہے کہ تم نے کیا کیا؟، اور ایسی دین داری کی طرف بڑھنا جو یہ بھی پوچھے کہ تم نے وہ کام کس انداز سے کیا؟
اسی طرح صرف عبادت کی صحت کی فکر سے آگے بڑھ کر اس اثر کی فکر کرنا ضروری ہے جو عبادت انسان کی شخصیت میں پیدا کرتی ہے۔ اور فقہ کے اس کم از کم درجے سے آگے بڑھنا چاہیے جو صرف یہ پوچھتا ہے کہ کون سا عمل ذمہ داری سے عہدہ برا ہونے کے لیے کافی ہے؟، اور احسان کی اس ثقافت کی طرف بڑھنا چاہیے جو یہ سوال کرتی ہے کہ زندگی کو مزید اعلیٰ، بہتر اور خوبصورت بنانے کے لیے کیا کیا جا سکتا ہے؟اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ہم فقہ کو ذوق سے بدل دیں؛ کیونکہ ذوق حلال و حرام کا تعین نہیں کرتا۔ اور نہ ہی یہ مقصود ہے کہ خوبصورتی کو حقیقت سے بلند معیار بنا دیا جائے۔
بلکہ مقصود یہ ہے کہ خود حقیقت کو بھی ایسا خوبصورت پیکر اور انداز ملنا چاہیے جو اس کے شایانِ شان ہو۔ اور شرعی حکم کی پابندی ہمیشہ اخلاقی تعمیر کی آخری منزل نہیں ہوتی، بلکہ بسا اوقات وہ اس تعمیر کی پہلی منزل ہوتی ہے۔ہر وہ کام جسے کرنا جائز ہو، ضروری نہیں کہ وہ ایسا کام بھی ہو جسے ہمیں کرنا چاہیے۔ اور ہر وہ بات جسے کہنا جائز ہو، ضروری نہیں کہ اسے اسی انداز میں کہنا بھی دانش مندی ہو۔ اسی طرح جس شخص کو جواب دینے کا حق حاصل ہو، وہ لازماً سخت ترین الفاظ استعمال کرنے کا پابند نہیں ہے۔
حقیقتاً دیندار معاشرہ صرف اپنی مساجد، مجالس اور دینی شعائر کی تعداد سے اپنی دینداری کا اظہار نہیں کرتا، بلکہ اس کی دینداری اس کی صاف ستھری سڑکوں، وقت کی پابندی، خوبصورت زبان، کمزوروں کے ساتھ حسنِ سلوک، منظم اداروں اور اس صلاحیت سے بھی ظاہر ہوتی ہے کہ وہ توہین اور بداخلاقی کے بغیر اختلاف کر سکے۔
اسلامی تصورِ حیات میں خوبصورتی اور حسنِ ذوق دین کے مکمل ہونے کے بعد اوپر سے سجائی جانے والی کوئی اضافی چیز نہیں، بلکہ دین کے کمال کے مظاہر میں سے ایک ہے۔اور جب دین داری ذوق جمال سے محروم ہو جائے تو ممکن ہے احکام اپنی جگہ درست رہیں، لیکن جس طریقے اور انداز میں ہم دین کو دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں، وہ ناقص اور بد نما ہو جاتا ہے۔شاید ہمیں اپنے معمول کے سوالات میں ایک سادہ سا سوال اور شامل کرنے کی ضرورت ہے۔ہمیں اپنے آپ سے صرف یہ نہیں پوچھنا چاہئے کہ جو کچھ میں کر رہا ہوں، کیا وہ درست ہے؟ بلکہ یہ بھی پوچھنا چاہئے کہ کیا میں اسے اس خوبصورت ترین انداز میں انجام دے رہا ہوں جو میرے ایمان اور میرے عقیدے کے شایانِ شان ہو؟ کیونکہ وہ دین جو انسان کے باطن کو خوبصورت بنانے کے لیے آیا ہے، وہ اس انسان کی زبان، اس کے کردار، اس کے تعلقات اور اس ماحول کی خوبصورتی سے کیسے بیگانہ ہو سکتا ہے جس میں وہ زندگی گزارتا ہے؟