واپس
کیا ہمارا وجود محض ایک اتفاق ہے؟  ملحدین کائنات کے سب سے بڑے معجزے سے کیسے آنکھیں چرا سکتے ہیں ؟

کیا ہمارا وجود محض ایک اتفاق ہے؟ ملحدین کائنات کے سب سے بڑے معجزے سے کیسے آنکھیں چرا سکتے ہیں ؟

الشيخ مصطفى الهجري

انسان اپنی حقیقت کے اعتبار سے سوال کرنے والی مخلوق ہے۔ اسے قدرت کی جانب سے یہ صلاحیت عطا ہوئی ہے کہ وہ قریب کی چیزوں کو دور کے افق سے جوڑ کر دیکھتا ہے۔ وہ سوال اس لیے کرتا ہے کہ مادی اشیاء کے ظاہری تفسیر اس کی ہمیشہ قائم رہنے والی اس طلبِ معرفت کو سیراب نہیں کرتی جو ظاہر سے آگے کی حقیقت کو جاننا چاہتی ہے۔ لیکن جدید مادی دور کی گہماگہمی میں ہم ایک تشویش ناک رجحان دیکھتے ہیں،اور وہ یہ کہ : مادی ذھن اپنی حیران کن تحقیقی صلاحیت کھو چکا ہے۔ اب وہ وجود کو ایک معمولی اور بے رنگ حقیقت سمجھ کر اس کے ساتھ ایسا برتاؤ کرتا ہے جیسے یہ کوئی عام سی بات ہو جس پر ٹھہر کر غور کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔اور یوں وہ اس عظیم الشان اور حیرت انگیز معجزے کو نظر انداز کر دیتا ہے کہ "ہم موجود ہیں!"

عقل کی سب سے بڑی خطا: حیرت سے انکار ۔

حیرت سے انکار کرنے والا ملحد وہ انسان ہے جو صرف ظاہری سطح پر جو کچھ دکھائی دیتا ہے، اسی پر اکتفا کر لیتا ہے۔ وہ اس کائنات کے بارے میں یہ سوال نہیں کرتا کہ یہ کیوں وجود میں آئی؟ اس نے یہی شکل اور یہ حیرت انگیز ترتیب کیوں اختیار کی؟ اسے یہ نظم و ضبط اور حسنِ ترتیب کہاں سے حاصل ہوا؟ بلکہ وہ پہلے ہی سے یہ فرض کر لیتا ہے کہ کائنات موجود ہے، بس یہی کافی ہے۔ گویا یہ عام ممکنات میں سے کوئی معمولی سی چیز ہے، جس پر غور و فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، اور نہ ہی یہ انسان کے اندر کسی بے چینی یا سوال کو جنم دینے والی حقیقت ہے۔وجود کی حقیقت کے بارے میں یہ بے حسی ہی وہ چیز ہے جسے عقل کی پہلی اور سب سے بڑی خطا کہا جا سکتا ہے۔ کیونکہ ہر فکری انحراف حق سے معمولی سی دوری سے شروع ہوتا ہے، اور یہی در اصل حیرت سے انکار کی طرف پھسلنے کی ابتدا ہے۔ پھر جیسے جیسے سیدھی لکیر اور ٹیڑھی لکیر کے درمیان فاصلہ بڑھتا جاتا ہے، الحاد معمول کی صورتوں اور مانوس چیزوں سے اس قدر آشنا ہو جاتا ہے کہ وجود کی اصل حیرت اس کی نگاہوں سے اوجھل ہو جاتی ہے۔

صفر سے آغاز: جو کچھ موجود ہیں وہ کیوں ہیں؟ ان کے عدم سے نکلنے کی وجہ کیا بنی ؟

حقیقی فہم کا آغاز اس بات کو ایک مسلمہ حقیقت سمجھ لینے سے نہیں ہوتا کہ مادہ موجود ہے، بلکہ اس کا آغاز صفر اور عدم سے ہوتا ہے۔ عقل سلیم ایسے بنیادی سوالات اٹھاتی ہے جو وجود کے بارے میں اس کے نقطۂ نظر ہی کو نئے سرے سے تشکیل دیتے ہیں۔جو کچھ موجود ہے، وہ آخر کیوں موجود ہے؟ کائنات ابتدا ہی سے کیوں موجود ہے، محض مطلق عدم کیوں نہیں؟ ایسا کیوں نہ ہوا کہ ہر چیز کو ڈھانپ لینے والا عدم ہی غالب رہتا؟ عقل یہ ادراک کرتی ہے کہ مادی وجود اپنی تمام تر حقیقت کے ساتھ ایک حیرت انگیز امر ہے، اور وہ کسی ایسی توضیح و توجیہ کا تقاضا کرتی ہے جو خود اس مادی وجود سے باہر ہو۔

اس نظام کا راز کیا ہے؟

نیلا آسمان، زندگی کی مختلف شکلوں سے مالا مال سمندر، اور سبز وادی جو سکون سے لبریز ہے؛ یہ سب ایسی نشانیاں ہیں جو عقل سلیم کو اس بات پر غور و فکر کرنے اور سوال اٹھانے پر مجبور کرتی ہیں کہ خالق کی حکمت کیا ہے؟

سب سے بڑا آشکار معجزہ: یہاں الحادی اشکال کی اصل بنیاد سامنے آتی ہے: ’’امکانِ امکان‘‘ کو نظر انداز کرنا، پھر ’’امکان کی حیرت انگیز حقیقت‘‘ کو نظر انداز کرنا، اور بالآخر اس سب سے بڑے معجزے سے غافل ہو جانا جو کہ ہمارے اپنے وجود کی شکل میں ہمارے سامنے ہے۔ مادی عقل روزمرہ زندگی میں وجود کے تجربے سے آگے بڑھنے اور یہ سوال کرنے سے عاجز رہتی ہے کہ وجود کا سبب اور محرک کیا ہے؟

اسی تناظر میں مصنف اور مفکر ایرک میٹاکساس اپنے نہایت دقیق الفاظ کے ذریعے اس فکری زخم پر ہاتھ رکھتے ہیں اور عقل کو غفلت سے بیدار کرتے ہوئے ’’پہلے سوال‘‘ کی وضاحت میں کہتے ہیں کہ ’’جیسے جیسے سائنسی انکشافات میں اضافہ ہوتا جاتا ہے، یہ بات مزید واضح ہوتی جاتی ہے کہ اگرچہ ہم یہاں موجود ہیں، لیکن ہمیں یہاں موجود نہیں ہونا چاہیے تھا۔ اور جب ہم اس کے تمام شواہد کو جمع کرنا شروع کرتے ہیں تو ہمارے وجود کے ممکن ہونے کے خلاف موجود انتہائی بلند امکانات تشویش ناک حد تک حیران کن معلوم ہوتے ہیں... ہمارا وجود صرف ایک ایسی تقریباً ناممکن معجزانہ حقیقت ہی دکھائی نہیں دیتا، بلکہ یہ ان تمام آشکار اور عظیم ترین معجزات میں سے سب سے بڑا معجزہ ہے جس کا تصور کیا جا سکتا ہے؛ ایسا معجزہ کہ جس کے سامنے اس سے پہلے کے حیرت انگیز معجزات بھی گویا کچھ نہیں لگتے۔‘‘ (Eric Metaxas, Miracles: What They Are, Why They Happen, and How They Can Change Your Life, New York: Plume, 2014, p. 54.)

وجودی بیداری کی بازیافت:

الحادی اور لادین فکر کی گفتگو ہمیں یہ باور کرانے کی کوشش کرتی ہے کہ وجود محض مادہ اور توانائی کا نام ہے، اور ہمیں کسی ابتدائی علت یا آخری مقصد کی تلاش کی زحمت نہیں کرنی چاہیے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ وجود میں انسان کے مقام کو سمجھنے کے لیے ایسی گہری بصیرت درکار ہے جس کی کوئی تہہ نہ ہو، اور فہم و ادراک کی ایسی سچی خواہش ضروری ہے جو ظاہری سطح سے آگے بڑھ سکے۔ جیسا کہ فلسفی اور ماہرِ منطق پیٹر ابیلار نے کہا ہے: ’’حکمت تک پہنچنے کا راستہ مسلسل اور بار بار سوال کرنے سے گزرتا ہے۔‘‘

اپنے وجود کی حقیقت کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم مانوسیت اور عادت کے خول کو توڑیں اور ’’وجود کی حیرت‘‘ کو دوبارہ حاصل کریں، جس پر اللہ تعالیٰ نے ہمیں فطرتاً پیدا کیا ہے؛ کیونکہ یہی خالق کی عظمت اور اس کی حکمت کو پہچاننے کا پہلا دروازہ ہے۔

شیئر: