الشيخ مصطفى الهجري
انسان فطرتاً مقصد و غایت کا متلاشی ہے، وہ محض وجود رکھنے پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ اپنے وجود، اعمال اور زندگی کی آخری سمت کے بارے میں معنی تلاش کرتا ہے۔ اس کے برعکس، مادّی الحادی تصور کائنات کو کسی متعین غایت یا ماورائی مقصد سے عاری سمجھتا ہے۔ یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر کائنات فی نفسہٖ بے مقصد ہے تو انسانی زندگی کے لیے وہ معنی کہاں سے آئے گا جو محض ذاتی پسند، نفسیاتی ضرورت یا انسانی انتخاب سے ماورا ہو؟ یہیں الحادی فکر کا ایک اہم مسئلہ سامنے آتا ہے۔ ایک طرف زندگی کے کسی معروضی اور متعالی مقصد کا انکار کیا جاتا ہے، اور دوسری طرف انسان کو زندگی کے لیے معنی، قدر اور مقصد متعین کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ یوں مسئلہ یہ نہیں رہتا کہ معنی موجود ہے یا نہیں، بلکہ یہ بن جاتا ہے کہ جس کائنات کو اصلاً بے غایت قرار دیا گیا ہو، اس میں انسانی معنویت کی بنیاد کیا ہو سکتی ہے؟
الحادی تضاد: معنی سے انکار اور معنی کی تلاش
الحادی اور وجودی فکر کے بعض نمایاں رجحانات میں یہ صورتِ حال خاص طور پر نمایاں ہوتی ہے۔ مذہب پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ انسان نے خدا اور آخرت کا تصور اس لیے قائم کیا تاکہ زندگی کو معنی اور اخلاقی نظم فراہم کیا جا سکے اور انسانی اعمال کے لیے ایک حتمی انجام متعین ہو۔ تاہم، جب معروضی اور الٰہی معنی کا انکار کیا جاتا ہے تو خود انسان کو زندگی کے لیے کسی نہ کسی نوع کی معنویت تشکیل دینے کی ضرورت پیش آتی ہے۔
چنانچہ معنی کے انکار سے معنی کی ضرورت ختم نہیں ہوتی، بلکہ مسئلہ صرف اتنا رہ جاتا ہے کہ معنی کو دریافت کرنے کے بجائے اسے انسانی ارادے، انتخاب اور ترجیحات سے تشکیل دیا جائے۔ اس طرح ایک ایسی معنویت وجود میں آتی ہے جو کائنات کی کسی مستقل حقیقت پر نہیں بلکہ انسان کے اپنے اختیار پر قائم ہوتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں الحادی تصورِ حیات کے اندر ایک بنیادی فلسفیانہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر اقدار اور مقاصد کا کوئی معروضی سرچشمہ موجود نہیں، تو انسانی طور پر اختیار کیے گئے معنی کو حتمی حیثیت کس بنیاد پر حاصل ہوگی؟
عدمیّت اور ’’ مافوقِ انسان ‘‘ کا تصور
یہ مسئلہ جدید عدمی اور وجودی فلسفے میں مختلف صورتوں کے ساتھ سامنے آتا ہے۔ فریڈرک نطشے اس بحث کی ایک نمایاں مثال ہے۔ نطشے کی فکر کو محض سادہ طور پر عدمیّت کے مترادف قرار دینا درست نہیں، تاہم اس کی تحریروں میں روایتی مذہبی اور ماورائی اقدار کے بحران کے بعد نئی اقدار کی تشکیل کا سوال بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ اسی تناظر میں اس کے)سُوپر مین(کا تصور سامنے آتا ہے، جو انسان کے اپنے اقداری امکانات اور زندگی کی نئی تعبیر کی علامت ہے۔
اسی طرح ژاں پال سارتر نے انسانی آزادی اور انتخاب کو معنی کی تشکیل کے بنیادی ذرائع میں شمار کیا، جبکہ البرٹ کامیو نے ایک ایسی دنیا میں انسانی جدوجہد، بغاوت اور زندگی کے اثبات پر گفتگو کی جسے وہ کسی حتمی ماورائی معنی سے خالی سمجھتا تھا۔ ان مفکرین کے مابین نمایاں اختلافات کے باوجود ایک مشترک سوال موجود ہے۔اگر کائنات کی طرف سے کوئی حتمی معنی فراہم نہیں کیا گیا تو انسان اپنی زندگی کے لیے معنی کیسے متعین کرے؟ یہاں سے ’’معنی کے ایجاد‘‘ کا تصور جنم لیتا ہے، یعنی معنی کسی خارجی اور معروضی حقیقت سے دریافت نہیں کیا جاتا بلکہ انسان اپنے انتخاب، اقدار اور طرزِ زندگی کے ذریعے اسے تشکیل دیتا ہے۔
اسلام میں حیات کا مفہوم: دریافت، نہ کہ ایجاد
اسلامی تصورِ حیات اس مسئلے کو بنیادی طور پر مختلف زاویے سے دیکھتا ہے۔ اسلام کے مطابق انسان اور کائنات بے مقصد نہیں بلکہ ایک حکیم خالق کی تخلیق ہیں، اور انسانی زندگی ایک متعین مقصد اور اخلاقی ذمہ داری رکھتی ہے۔ اس لیے مومن کے لیے زندگی کا معنی محض ذاتی تسلی یا نفسیاتی ضرورت کی پیداوار نہیں، بلکہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے وحی، عقل اور فطرت کی رہنمائی میں دریافت کیا جاتا ہے۔
اس زاویے سے انسان زندگی کا مقصد خود وضع نہیں کرتا بلکہ اپنے لیے متعین کی گئی غایت کو پہچانتا ہے اور اپنے اعمال کو اس کے مطابق منظم کرتا ہے۔ یہاں معنویت کا سرچشمہ خود انسان نہیں بلکہ اس سے ماوریٰ ایک معروضی حقیقت ہے۔ اسی لیے اسلامی تصور میں زندگی کی قدر انسانی پسند کے بدلنے سے تبدیل نہیں ہوتی؛ اس کی بنیاد ایک مستقل اخلاقی اور الٰہی نظم پر قائم رہتی ہے۔اس کے برعکس، اگر معنی کو مکمل طور پر انسانی انتخاب کا نتیجہ قرار دیا جائے تو اس کی معروضیت اور لازمی حیثیت کا سوال برقرار رہتا ہے۔ انسان کسی مقصد کو اپنے لیے اہم قرار دے سکتا ہے، لیکن محض اس کا انتخاب کر لینا اس مقصد کو تمام انسانوں کے لیے لازماً معتبر ثابت نہیں کرتا۔
صحرا کی ریت سے پھل حاصل کرنا
یہاں بنیادی سوال یہ ہےکہ کیا عدم واقعی کوئی ثمر پیدا کر سکتا ہے؟ کیا ایک ایسی کائنات میں، جسے اصلاً بے مقصد اور بے غایت قرار دیا گیا ہو، انسانی طور پر تشکیل دیا گیا معنی زندگی کے بڑے بحرانوں، اخلاقی ذمہ داری اور بالخصوص موت کے سامنا کرنے کے وقت اپنی حتمی معنویت برقرار رکھ سکتا ہے؟ایک مفکر نے اس ملحدانہ تصورِ حیات کو ایک بلیغ سوال کے ذریعے یوں بیان کیا ہے کہ کیا یہ عقل مندی ہے کہ عدم ایک بنجر صحرا میں زندگی کے بیج بوئے، تاکہ ریت اور ہوا سے کوئی شیریں اور خوش نما پھل حاصل کیا جا سکے؟ ایک خاموش اور بے مقصد مادی کائنات سے حقیقی اور لازم معنی اخذ کرنے کی کوشش کچھ ایسی ہی ہے جیسے سراب سے پانی حاصل کرنے کی کوشش؛ کیا سراب کبھی سیرابی کا ذریعہ بن سکتا ہے؟
حقیقی معنی ایجاد نہیں کیے جاتے بلکہ دریافت کیے جاتے ہیں۔ جو انسان اپنے آپ سے مخلص ہو، وہ محض اپنی وجودی بے چینی کو دور کرنے کے لیے اپنے ہاتھوں سے بنائے ہوئے کسی تصور کو حتمی حقیقت کا درجہ دینے پر اکتفا نہیں کرتا، بلکہ حقیقت کا سامنا کرتا ہے۔ فکری دیانت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنے تصورات اور اپنے عملی وجود کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرے اور اپنے باطن کے سوالات کو شعوری غور و فکر کے بغیر نظرانداز نہ کرے۔
پس بنیادی سوال یہ نہیں کہ انسان اپنی زندگی کو کسی بھی طرح بامعنی کیسے بنا سکتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ حقیقی اور معروضی معنی کی بنیاد کیا ہے؟ یا تو ہم ایک بڑی غایت کے وجود کو تسلیم کریں، اسے دریافت کریں اور اپنی زندگی کو اس کے ساتھ ہم آہنگ کریں، یا پھر عدم کی اس صحرائی وسعت میں انسانی ساختہ معنویت کے سہارے کھڑے ہونے کی کوشش کریں۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ریت سے واقعی پھل حاصل ہو سکتا ہے، یا آخرکار وہاں صرف وہم ہی اُگتا ہے؟
صحرا کی ریت سے پھل حاصل کرنا
لیکن کیا عدم واقعی کوئی ثمر پیدا کرسکتا ہے؟ کیا ایک ایسی بے مقصد کائنات میں، جہاں انسان خود اپنے لیے معنی گھڑتا ہے، انسان کا بنایا ہوا مفہوم زندگی کے بڑے بحرانوں اور موت کے سامنا کرتے ہوئے قائم رہ سکتا ہے؟ ایک مفکر نے اس ملحدانہ فکر کو ایک نہایت بلیغ سوال کے ذریعے یوں بیان کیا ہے: ’’کیا یہ عقل مندی ہے کہ عدم، ایک بنجر ویرانے میں زندگی کا بیج بوئے، پھر ریت اور ہوا سے کوئی شیریں، شاداب اور خوش نما پھل حاصل ہونے کی امید رکھی جائے؟‘‘
درحقیقت ایک گونگی اور بے شعور مادی کائنات سے کوئی حقیقی اور پائیدار معنی اخذ کرنے کی کوشش بالکل ایسی ہی ہے جیسے سراب سے پانی حاصل کرنے کی کوشش۔ آخر کیا سراب کا کوئی چشمہ واقعی پیاس بجھانے کے لیے پانی دے سکتا ہے؟ حقیقی معنی انسان خود ایجاد نہیں کرتا، بلکہ دریافت کرتا ہے۔ جو انسان اپنے آپ سے مخلص ہو، وہ اپنی مادی فکر کی بے معنویت پر پردہ ڈالنے کے لیے اپنے ہاتھوں سے بُنے ہوئے کسی وہم میں زندگی گزارنے پر آمادہ نہیں ہوتا، بلکہ حقیقت کا سامنا کرتا ہے۔ اور دانا وہ شخص ہے جو اپنے ظاہری خیالات اور اپنے اعمال میں ہم آہنگی پیدا کرے، اور اپنے باطن میں چھپے ہوئے افکار کو بے خبری اور خود فریبی کے ذریعے اپنے وجود پر حکمرانی کرنے کی اجازت نہ دے۔
لہٰذا ہمارے سامنے دو ہی راستے ہیں: یا تو ہم ایک عظیم تر مقصد کے وجود کو تسلیم کریں، اسے دریافت کریں اور اپنی زندگی کو اس کے مطابق ڈھال لیں؛ یا پھر عدم کے صحرا میں ڈوب جائیں اور بے سود ایسی ریت سے پھل حاصل کرنے کی امید کرتے رہیں جو صرف وہم ہی اُگا سکتی ہے۔