الشيخ مصطفى الهجري
آج کی مصروف اور تیز رفتار زندگی میں، جہاں انسان ہر طرف سے طرح طرح کی مصروفیات اور توجہ بھٹکانے والی چیزوں میں گھرا ہوا ہے، ایک ایسی فکری اور نفسیاتی روش آہستہ آہستہ نوجوانوں کے ذہنوں میں جگہ بنا رہی ہے جسے ’’لاتعلقی‘‘ (Apatheism) کہا جاتا ہے۔ یہ نظریہ نہ تو دلائل کے ذریعے اللہ کے وجود کو ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے اور نہ ہی اسے دلائل سے رد کرنے کی زحمت کرتا ہےبلکہ اس سے بھی زیادہ خطرناک راستہ اختیار کرتا ہے کہ انسان کے ذہن کو سوچنے سے بے حس کر دینا۔ اس نظریے کا دعویٰ ہے کہ اللہ کے وجود یا عدمِ وجود کا پورا مسئلہ ہی ایسی چیز ہے جس پر غور کرنا وقت ضائع کرنے کے مترادف ہے اور جسے سنجیدگی سے لینے کی کوئی ضرورت نہیں۔ یوں انسان کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ روزمرہ زندگی کی لذتوں سے لطف اندوز ہونا اور خواہشات میں مگن رہنا زندگی اور وجود کے بڑے سوالات پر غور کرنے سے زیادہ اہم ہے۔ لیکن کیا واقعی اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اللہ موجود ہے یا نہیں؟ اور کیا انسان نظرانداز کرنے کی ریت میں سر چھپا کر ایک بامعنی زندگی گزار سکتا ہے؟
فکری خودکشی: زندگی کے مقصد سے فرار
وجود کے بڑے اور بنیادی سوالات سے فرار اختیار کرنا کوئی غیر جانب دارانہ رویہ نہیں جیسا کہ بعض لوگ اسے پیش کرتے ہیں بلکہ یہ انسانی تجربے کی اصل حقیقت سے فرار ہے۔ ہم کون ہیں؟ ہم کیا چاہتے ہیں یا ہم سے کیا مطلوب ہے؟ یہ سوالات ہر وقت ہمارے سامنے رہتے ہیں اور انسان اپنے اعمال کو کسی نہ کسی بنیادی تصور کے بغیر انجام نہیں دے سکتا۔ اس نظراندازی کی سنگینی کو سمجھنے کے لیے معروف وجودی فلسفی البر کامیو کی کتاب اسطورۂ سیزیفس میں پیش کیا گیا سوال ایک اہم نقطۂ آغاز ہے۔ کامیو نے زندگی کے قابلِ قدر ہونے یا نہ ہونے کو عقل کی کسوٹی پر پرکھتے ہوئے کہا: ’’صرف ایک سنجیدہ فلسفیانہ مسئلہ ہےاور وہ خودکشی ہے۔ یہ فیصلہ کہ زندگی جینے کے قابل ہے یا نہیں، دراصل فلسفے کے بنیادی سوال کا جواب دینا ہے۔‘‘
اگر زندگی کے مقصد اور اس کی قدر و معنویت کا سوال انسان کو درپیش سب سے اہم سوال ہے تو پھر کوئی عقل مند انسان اس زندگی کی اصل اور اس کے خالق کے سوال کو کیسے نظرانداز کر سکتا ہے؟ زندگی کے معنی اور مقصد کا سوال براہِ راست خالق کے وجود کے سوال سے جڑا ہوا ہے۔ اس سوال سے فرار دراصل ایک طرح کی فلسفیانہ خودکشی اور جان بوجھ کر آنکھیں بند کر لینا ہےکیونکہ اس کے نتیجے میں انسان حقیقت کو سمجھے بغیر اپنے اعمال میں بھٹکتا رہتا ہے اور سچائی کی تلاش کی زحمت کیے بغیر اپنی زندگی کو بے مقصد اور بے معنی قرار دے دیتا ہے۔
لاتعلقی: عقلِ سلیم کی نفی
لاتعلقی انسان کو زندگی اور وجود کے سنجیدہ سوالات سے دور رکھنے کی کوشش کرتی ہے۔ اس نظریے کے مطابق اللہ کا وجود ایسی بات ہے جس کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں اور انسان کو اللہ کے وجود کے سوال کی بجائے زندگی کے روزمرہ احساسات اور تجربات کو زیادہ اہمیت دینی چاہیے۔ یہ موقف اس غلط دعوے پر قائم ہے کہ اللہ کا وجود انسانی زندگی میں کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتا۔ اسی رجحان کو مفکر جیمز سائران الفاظ میں بیان کرتے ہیں کہ’’لاتعلقی کا نظریہ یہ تصور پیش کرتا ہے کہ اللہ کا وجود ایسی حقیقت ہے جس کے بارے میں فکر کرنا ضروری نہیں۔ یہ رویہ انسان کو وجود کی حقیقت کو سمجھنے اور اس کے انجام و غایت کو جاننے کی کوشش سے بھی روک دیتا ہے۔‘‘ (جیمز سائر، آخر کسی کو کسی بات پر یقین کیوں کرنا چاہیے؟)
صحت مند اور فطری انسان ایک سوال کرنے والی ہستی ہے۔وہ اس لیے سوال کرتا ہے کہ اس کی فطرت میں یہ بات شامل ہے کہ وہ چھوٹی اور قریب کی چیزوں کو بڑے اور دور کے حقائق سے جوڑ کر دیکھے۔ انسانی شعور اور سمجھ کی فطرت ہی یہ ہے کہ وہ جاننے کے لیے مسلسل آگے بڑھتی رہےجبکہ کائنات کے اس عظیم وجود اور اس کے معجزانہ نظام کے سامنے بے حسی اختیار کرنا دراصل اسی فطری جستجو کو زبردستی دبا دینا ہے۔ کوئی شخص خود کو فکری طور پر آزاد قرار نہیں دے سکتا اگر وہ غفلت اور بے پروائی کا اس حد تک تابع ہو کہ بنیادی سوالات سے ہی آنکھیں چرا لے حالانکہ پوری کائنات ایک بڑے سوالیہ نشان کی طرح ہمارے سامنے کھڑی ہے اور ایک جواب کا تقاضا کرتی ہے۔
سچ کی تلاش: ابدی بدبختی سے بچنے کی ضرورت
اللہ کے وجود کے بارے میں سوال کرنا کوئی فکری عیاشی یا محض علمی بحث نہیں کہ اسے بعد کے لیے مؤخر کر دیا جائے، بلکہ یہ ایک بنیادی اور فیصلہ کن سوال ہے، جس کے نتائج انسان کی پوری زندگی اور اس کے آخری انجام سے وابستہ ہیں۔ عقل مند انسان اسے معمولی یا غیر اہم مسئلہ سمجھ کر نظر انداز نہیں کر سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ معاملہ انتہائی سنجیدہ ہے؛ کیونکہ اس کے نتیجے میں انسان کو یا تو ایسی روشن اور دائمی کامیابی حاصل ہو سکتی ہے جس کا کوئی اختتام نہیں، یا ایسی تاریکی اور بدبختی کا سامنا ہو سکتا ہے جس کی کوئی انتہا نہیں۔
یہاں منصفانہ عقل کی آواز ہمیں اس بے پروائی کے انجام سے خبردار کرتی ہے۔ فلسفی انتھونی فلو نے اپنے الحادی دور میں بھی، ایمان کی طرف رجوع سے پہلے، اللہ کے وجود کے بارے میں سنجیدہ تحقیق کی ضرورت پر زور دیا۔ وہ اس بے اعتنائی سے خبردار کرتے ہوئے لکھتے ہیں:’’اگر ذرا سا بھی امکان موجود ہو کہ ہمیں لامحدود بدبختی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، تو وہ علم جو ہمیں اس سے بچنے کا راستہ دکھا سکے، بے حد قیمتی ہے‘‘ (انتھونی فلو، There Is a God)
ان دلائل کی روشنی میں عقل کے اصول بھی اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ اللہ کے وجود کے بارے میں تحقیق کو ایک ناگزیر فکری ذمہ داری سمجھا جائے۔ ہر انسان کے لیے ضروری ہے کہ اگر وہ ابھی تک اس حقیقت تک نہیں پہنچ سکا تو سنجیدگی، دیانت اور گہرائی کے ساتھ اس کی تلاش کرے۔ کیونکہ اللہ پر ایمان لانے میں ایسا کوئی حقیقی نقصان نہیں جو انسان کو تباہی سے دوچار کر دے، جبکہ اللہ کے وجود سے منہ موڑنے میں بھی ایسی کوئی نعمت نہیں جو حقیقی اور پائیدار فائدہ عطا کر سکے۔
خلاصہ یہ ہے کہ کوئی بھی صاحبِ عقل اس عظیم سوال سے منہ موڑ کر بے حسی اور لاتعلقی اختیار نہیں کر سکتا۔ لاتعلقی کا فریب دراصل حقیقت سے آنکھیں چرانے اور انسان کے اندر اٹھنے والی بے چینی کو وقتی طور پر دبانے کی ایک ناکام کوشش ہے۔ عقل کی حقیقی بہادری یہ ہے کہ انسان سوال کا سامنا کرے، حقیقت کو دیانت داری سے تلاش کرے اور تحقیق و جستجو کا سلسلہ جاری رکھے۔ کیونکہ جو شخص بے نیازی کا بہانہ بنا کر خالق کے وجود کے سوال سے گریز کرتا ہے، وہ درحقیقت اپنی فکری دیانت، عقل کی آزادی اور زندگی کے بنیادی معنی کی تلاش سے بھی منہ موڑ رہا ہوتا ہے۔