واپس
پاسکال کی شرط کا قرآنی جائزہ: کیا ایمان محض ایک منفعت کا سودا ہے؟

پاسکال کی شرط کا قرآنی جائزہ: کیا ایمان محض ایک منفعت کا سودا ہے؟

شیخ مصطفیٰ الہجری

فلسفی مباحث میں ایمان کے مسئلے کو اکثر اس انداز سے پیش کیا جاتا ہے گویا یہ محض ایک مصلحتی اور منفعت پر مبنی انتخاب ہو۔ اس طرزِ فکر کو باقاعدہ فلسفیانہ صورت دینے والوں میں فرانسیسی فلسفی اور ریاضی دان بلیز پاسکال نمایاں حیثیت رکھتے ہیں، اور یہی تصور تاریخ میں ’’پاسکال کی شرط(Pascal’s Wager) ‘‘کے نام سے معروف ہوا۔ اس نظریے کا خلاصہ یہ ہے کہ عقل انسان کو خدا کے وجود پر ایمان لانے کا فیصلہ کرنے پر مجبور کرتی ہے، کیونکہ اگر خدا واقعی موجود ہے تو مؤمن ابدی نعمت و سعادت حاصل کرے گا، اور اگر خدا موجود نہ بھی ہو تو ایمان لانے کی صورت میں انسان کو کوئی قابلِ ذکر نقصان نہیں ہوگا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا امکان اور احتمال پر مبنی یہ تصورِ ایمان قرآنی تصورِ ایمان سے ہم آہنگ ہے؟ کیا خالق کے ساتھ انسان کا تعلق محض ایک منفعت بخش سودا، مصلحتی معاملہ یا قسمت آزمائی کا نام ہے؟

عملیت پسندی پر تنقید: ایمان یقین کا نام ہے، مفاد پرستی کا نہیں۔

اسلامی نقطۂ نظر سے نجات بخش ایمان کو حفاظتی تدابیر یا ریاضیاتی احتمالات کی منطق پر قائم نہیں کیا جا سکتا۔ جو شخص دین کو محض ایک انشورنس پالیسی سمجھ کر اختیار کرتا ہے، وہ حقیقت کو فی نفسہٖ طلب نہیں کرتا، بلکہ صرف نجات کی طمع میں اپنے عقل و شعور سے ایک طرح کا کھیل کھیلتا ہے۔ اسلامی فکر اس طرزِ نظر پر واضح طور پر تنقید کرتی ہے۔ چنانچہ پاسکال اپنے اس موقف میں کوئی دانائی کی بات نہیں کر رہا تھا، کیونکہ اس نے ایمان کے مسئلے کو محض قسمت اور احتمال کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔ اس طرح انسان اپنے ہی عقل و شعور کے ساتھ کھیلتے ہوئے ایک ایسے وہم کو خریدتا ہے جس کی بنیاد حقیقت کی جستجو نہیں، بلکہ نفع کے حصول پر ہوتی ہے۔ یوں یہ رہن ایک برہانیت پسندانہ و منفعتی شرط بن کر رہ جاتا ہے، جس کا مقصد حقیقت کی طلب نہیں بلکہ زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرنا ہے۔

میں اس کے جواب میں کہوں گا کہ قیامت کے دن نجات ان لوگوں کو حاصل نہیں ہوگی جو ایمان کے ساتھ جوا کھیلتے ہیں، بلکہ نجات ان لوگوں کے لیے ملے گی جو ایمان کو یقین کے ساتھ حقیقتاً حاصل کرتے ہیں۔مزید برآں، صرف اللہ پر ایمان لانا بھی نجات کے لیے کافی نہیں، بلکہ اس کے ساتھ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت پر ایمان بھی لازم ہے۔

عاقل انسان اپنی ابدی تقدیر کو خطرے میں نہیں ڈالتا

اگرچہ اسلام اس بات کو رد کرتا ہے کہ ایمان محض منفعتی جوا یا مفاد پرستانہ شرط ہو، تاہم پاسکالی نقطۂ نظر کی بنیاد میں ایک ایسی مضبوط عقلی دلیل موجود ہے جو الحادی بے پروائی اور لااُبالی پن کے خلاف ہے۔ یہ نقطۂ نظر واضح کرتا ہے کہ جب معاملہ ابدی انجام سے متعلق ہو تو ایک عاقل انسان اپنے آپ کو فریب اور غفلت کے سپرد نہیں کرتا اور نہ ہی اپنی ابدی تقدیر کو خطرے میں ڈالتا ہے۔یہ دراصل دو امور کے درمیان ایک انتخاب کا مسئلہ ہے، جن میں سے ایک کا انجام نہایت عظیم اور دوسرے کا نہایت حقیر ہے۔اللہ پر ایمان کا انجام یہ ہے کہ مؤمن روزِ قیامت ایسے عذاب سے نجات پائے گا جو کبھی کم نہ ہوگا، اور قیامت کے دن ایسی نعمتوں سے بہرہ مند ہوگا جو کبھی ختم نہ ہوں گی، نیز دنیاوی زندگی میں بھی وہ قلبی اطمینان اور سکون کے ساتھ زندگی بسر کرے گا۔

مؤمن کا اطمینانِ قلب اور الحادِ دنیوی کی کم مائیگی

اگر ہم انتہائی نامساعد مفروضوں کے تحت بھی محض مادی منطق کو تسلیم کر لیں، تب بھی دنیاوی زندگی کے اعتبار سے مؤمن ہی سب سے بڑا فائدہ حاصل کرنے والا ہے۔ فلسفے، عمرانیات اور نفسیات کے بڑے مفکرین نے بھی اس امر کا اعتراف کیا ہے کہ دین داری انسان کو ایسا توازن اور مقصد عطا کرتی ہے جس کی کوئی نظیر نہیں۔ چنانچہ، الحاد کے بہت سے فلسفیوں کی گواہی کے مطابق بھی انسان کچھ نہیں کھوتا۔

اس کی وضاحت یوں کی گئی ہے،کومٹ (Comte) کی تعبیر میں دین ایک ایسا وہم ہے جس کے ذریعے انسان فطرت کے بکھرے ہوئے مختلف مظاہر کے درمیان باہمی ربط پیدا کرتا اور ان کے احوال کی توضیح کرتا ہے، دورخائم (Durkheim) کی تعبیر میں یہ ایسا جوڑنے والا مادہ ہے جو انسان کو معاشرے کے دیگر افراد کے ساتھ مربوط کرکے اس کی وحدت کو قائم رکھتا ہے، جبکہ (Freud) کی تعبیر میں یہ ایسا وہم ہے جس کے ذریعے انسان اپنی نفسیاتی بے چینی کو سکون دیتا ہے۔ پس، ان لوگوں کے نزدیک بھی جو اس کی صداقت کے منکر ہیں، یہ بہرحال ایک مفید وہم ہے، اور یوں انسان کم از کم نفسیاتی تحفظ اور اطمینان حاصل کر لیتا ہے۔‘‘

اس معنی میں، ایمان انسان کے لیے امید کی ایک بنیاد فراہم کرتا ہے، زندگی کی پراگندگی اور انتشار کو ایک مربوط نظام میں ڈھالتا ہے، بلکہ اسے ایسی بے معنی زندگی میں خودکشی سے بھی روکتا ہے جس میں کسی مقصد یا قدر کا احساس باقی نہ رہا ہو۔(ماخذ: فلسفی جیمز ڈبلیو. سائر — James W. Sire، کتابWhy Should Anyone Believe Anything at All? ، ص 55)

کافر کی قسمت آزمائی: ہمیشہ کا خسارہ

اس کے برعکس، الحاد اپنے پیروکار کو ممکنہ طور پر انتہائی تنگ اور خطرناک صورتِ حال میں لا کھڑا کرتا ہے۔ اگر خدا کی حقیقت ثابت ہو جائے ، اور اس کے وجود پر دلائل روشن اور واضح ہیں ، تو ملحد نے اپنے آپ کو ایسی ہلاکت کے سپرد کر دیا ہوگا جس سے واپسی ممکن نہیں۔اور اگر واقعی خدا موجود ہے اور ملحد نے اس کا انکار کیا ہے، تو اس کا انجام نہایت ہولناک ہوگا، اس کا خاتمہ عذاب، حسرت اور آہ و فغاں پر ہوگا، ایسا عذاب جس کی کوئی انتہا نہیں۔یہ محض ایک نظری انتخاب نہیں، بلکہ ایک ایسا فیصلہ ہے جس کا انجام ابدی عذاب کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے، جہاں کسی شفاعت کی امید نہ ہوگی۔

خلاصہ: تصدیقِ قلبی یقین و رضامندی سے، محض آزمائشِ قسمت نہیں

قرآن اندھی اور بے بنیاد  شرط اور محض اندازے کی بنیاد پر فیصلہ کرنے کو درست نہیں سمجھتا، کیونکہ دین کا مقصد ایسا انسان بنانا ہے جو سمجھ بوجھ اور دلیل کے ساتھ اللہ تعالی کو مانے اور اطمینانِ قلب سے اس کی عبادت کرے، نہ کہ صرف اپنے فائدے کے لیے اللہ کو مان لے۔اللہ پر ایمان محض قسمت کا کھیل نہیں اور نہ ہی کسی فائدے کے لالچ میں اللہ سے تعلق قائم کرنے کا نام ہے۔ حقیقی ایمان تو دل کے اطمینان، یقین اور شعوری طور پر حق کو قبول کرنے کا نام ہے۔ لیکن دوسری طرف، مومنوں کے دلائل کو سنجیدگی سے جانچے اور سمجھے بغیر صرف انکار کر دینا بھی ایک خطرناک اور غیر سنجیدہ رویہ ہے۔

اسلام میں ایمان انسان کی عقل اور روح، دونوں کو بلندی عطا کرتا ہے۔ پاسکال کا نظریہ اگرچہ اسلامی ایمان کی گہرائی اور بلندی تک نہیں پہنچتا، لیکن اس میں ملحد کے لیے ایک اہم تنبیہ ضرور ہے،کہ ایمان سے محرومی صرف ایک فکری بحث میں شکست نہیں، بلکہ ممکن ہے کہ یہ ہمیشہ کی زندگی کا خسارہ ہو۔

شیئر: