الشيخ مصطفى الهجري
قرآنِ کریم ایک ایسے ماحول میں نازل ہوا جس کا فخر اس کا ادب تھا، خواہ وہ شاعری ہو، نثر ہو یا خطابت۔ اس کے باوجود حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اہلِ مکہ کے درمیان نہ شاعری کے لیے معروف تھے اور نہ خطابت کے لیے۔ ﴿وَمَا عَلَّمْنَاهُ الشِّعْرَ وَمَا يَنْبَغِي لَهُ﴾ (یس: 69) (ترجمہ: اور ہم نے اُنہیں شعر کہنا نہیں سکھایا اور نہ ہی یہ اُن کے شایانِ شان ہے۔ نہ سوقِ عکاظ میں، نہ سوقِ مجنہ میں اور نہ ذی المجاز میں۔
اس کے باوجود خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معجزہ، جس کے ذریعے آپؐ نے اپنے زمانے کے لوگوں اور بعد میں آنے والوں کو چیلنج دیا، ایک ایسی کتاب تھی جو غیر مثال اسلوب میں تلاوت کی جاتی ہے، جس میں علم ہے، نصیحت ہے اور پہلے لوگوں کی خبریں ہیں۔ یہ چیلنج مشرکین پر نہایت بھاری گزری، ان کے دلوں پر شدید اثر ہوا، یہاں تک کہ شدتِ غیظ سے ان کے دل جوش کھانے لگے، مگر وہ اس چیلنج کا مقابلہ نہ کر سکے:
﴿قُل لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الْإِنسُ وَالْجِنُّ عَلَىٰ أَن يَأْتُوا بِمِثْلِ هَٰذَا الْقُرْآنِ لَا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيرًا﴾ (الإسراء: 88)
ترجمہ: کہہ دیجیے، اگر سب انسان اور جن اس پر جمع ہو جائیں کہ اس قرآن جیسا (کلام) لے آئیں تو وہ اس جیسا نہیں لا سکتے، اگرچہ وہ ایک دوسرے کے مددگار ہی کیوں نہ بن جائیں۔
بلکہ یہ بھی ہوا کہ مختلف ادیان سے تعلق رکھنے والے معاصر ادباء نے بھی اس بات کا اعتراف کیا کہ وہ قرآن کی تلاوت سے اس خوف کے باعث گریز کرتے تھے کہ کہیں اس کے سحرِ بیان سے متاثر ہو کر اپنے دین کی تبدیلی پر مجبور نہ ہو جائیں۔
انہی ادباء میں لبنانی شاعر امین نخلہ بھی شامل ہیں، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ امیر الشعراء احمد شوقی نے بھی ان کی شعری بالادستی کا اعتراف کیا تھا ( الأعلام، احمد العلاونہ، ص 46)۔ امین نخلة نے (الکتاب المعجز)کے عنوان سے ایک تحریر میں لکھا ہے کہ"میں نے جب بھی قرآن کریم پڑھا اور اس کی فصاحت نے مجھے ہر سمت سے اپنے حصار میں لیا، اور میں نے اس اعجاز کو دیکھا جو عقل پر چھا جاتا ہے، تو میں نے اپنے آپ سے کہا ، بچ نکل! خبردار! میں دینِ نصرانیت پر ہوں! (فی الهواء الطلق، ص 175)
اسی طرح معاصر ادیب اور شاعر نقولا حنّا کا ایمان بھی قرآن کریم کے اعجاز کے اعتراف سے اسلام کی طرف منتقل ہوا۔ انہوں نے نہ صرف اسلام قبول کیا بلکہ اس عظیم کتاب کی فضیلت بیان کرنے کے لیے قلم اٹھایا۔ اپنی نظم(من وحی القرآن) میں وہ لکھتے ہیں کہ : "جب میں نے قرآن پڑھا تو میں حیران رہ گیا، اس میں گہرائی سے اترا تو اس نے مجھے مسحور کر لیا، پھر دوبارہ پڑھا تو ایمان لے آیا… میں اس عظیم پروردگار کے عظیم قرآن پر ایمان لے آیا، اور اس رسول پر بھی جو اسے لے کر آئے… جو رسول عربی کریم ہے ، رہا اللہ، تو اس پر ایمان میں نے اپنی نصرانیت سے وراثت میں پایا تھا، مگر قرآن کے ذریعے یہ ایمان اور عظیم ہو گیا… اور میں ایمان کیوں نہ لاتا جبکہ قرآن کا معجزہ میرے ہاتھوں میں ہے، میں اسے ہر وقت دیکھتا اور محسوس کرتا ہوں… یہ ایسا معجزہ ہے جو دیگر معجزات جیسا نہیں… یہ ایک الٰہی اور ابدی معجزہ ہے جو اپنی ذات پر خود دلیل ہے، اسے کسی مبلغ یا معرّف کی ضرورت نہیں۔" (من وحی القرآن، ص 149)
نظر انداز کیا گیا معجزہ:
علمائے اسلام نے قرآنِ کریم کے مختلف پہلوؤں سے اعجاز پر مفصل گفتگو کی ہے، جیسے بلاغی اعجاز، بیانی اعجاز اور سائنسی اعجاز وغیرہ، اور اس موضوع پر بے شمار تصنیفات بھی موجود ہیں۔ لیکن جب انہوں نے قرآن کے اس اعجاز کو موضوع بنایا کہ اس میں پہلی امتوں کی کتابوں اور صحائف میں موجود ایسے حقائق و اسرار کا ذکر ہے جنہیں یہود و نصاریٰ کے علما (احبار) کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا، تو اس پہلو پر زیادہ تفصیل سے بحث نہیں کی۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ ان زبانوں سے واقف نہ تھے جن میں پہلی کتابیں لکھی گئی تھیں، نیز ان میں سے بہت سے تاریخی و لسانی اسرار تو بعد کی صدیوں میں لسانی اور تاریخی تحقیقات کی ترقی کے ساتھ ہی منکشف ہوئے۔
حالانکہ قرآن کا یہ پہلو ، یعنی ایسے اسرار کا بیان جو صرف یہودی و نصرانی علما جانتے تھے، اعجازِ قرآنی کے اہم ترین وجوہ میں سے ہے۔ خود خدا نے بھی بعثت کے زمانے میں اس کی مرکزیت اور اعجازی حیثیت کو واضح کیا ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿وَقَالُوا لَوْلَا يَأْتِينَا بِآيَةٍ مِنْ رَبِّهِ أَوَلَمْ تَأْتِهِم بَيِّنَةُ مَا فِي الصُّحُفِ الْأُولَى﴾ (طٰہٰ: 133)
اور وہ کہتے ہیں: یہ اپنے رب کی طرف سے ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں لاتے؟ کیا ان کے پاس ان پہلی کتابوں میں جو کچھ ہے اس کی واضح دلیل نہیں آ چکی؟
پس قرآنِ کریم نے خود اپنے اس بیان کو ، جو پہلی کتابوں کے مضامین پر مشتمل ہے ، ایک نشانی اور معجزہ قرار دیا ہے، جس کے ذریعے ہٹ دھرم مشرکین پر حجت قائم کی گئی۔
یہاں اعجاز سے مراد یہ ہے کہ قرآن کا پہلی کتابوں کے مضامین کی خبر دینا اس بات کی دلیل اور برہان ہے کہ وہ اللہ سبحانہٗ کا کلام ہے۔ کیونکہ اصطلاحِ متکلمین میں "معجزہ" عموماً اس چیلنج کے معنی میں آتا ہے کہ اس جیسی چیز لا کر دکھاؤ؛ لیکن یہاں بظاہر یہ معنی مراد نہیں، جیسا کہ بعض معاصر محققین مثلاً طاہر بن عاشور نے بھی یہی رائے ظاہر کی ہے (التحریر والتنویر، ج 12، ص 19)۔
اسی طرح جب ہم کہتے ہیں "اخبارِ اولین" تو اس سے مراد یہ ہے کہ قرآن میں یہود و نصاریٰ کی تاریخ اور ان کی کتابوں میں مذکور واقعات اس قدر دقیق انداز میں بیان ہوئے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیاتِ طیبہ اور مکہ کے ماحول کی نوعیت ایسی معلومات تک رسائی کا تقاضا نہیں کرتی تھی۔
مزید یہ کہ قرآن نے ان عقائد پر ایسی تنقید کی ہے جس کا صدور حجاز میں چودہ صدیوں قبل زندگی گزارنے والے ایک فرد سے ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ قرآن میں سابقہ اقوام اور شخصیات کے بارے میں جو عمومی خبریں آئی ہیں، وہ اہلِ کتاب کی تورات میں موجود بیانات کے ساتھ اصولی طور پر ہم آہنگ نظر آتی ہیں، تاہم دونوں بیانات میں بنیادی فرق دو امور میں نمایاں ہے:
اوّل: قصص کا اعتقادی، فکری اور اخلاقی زاویہ۔
دوم: جزئیات میں اختلاف ، یا تو حذف کے ذریعے یا بعض تفصیلات میں مخالفت کے ذریعے۔
یہ اختلاف ایسا نہیں ہو سکتا کہ کوئی شخص جو اہلِ کتاب کے مصادر پر احاطہ نہ رکھتا ہو، محض اجتہاد یا ذاتی اندازے سے اسے انجام دے سکے؛ اور نہ ہی وہ شخص جو صرف چند منتشر روایات زبانی طور پر جانتا ہو، اس درجے کی دقیق تطبیق و نقد کر سکتا ہے۔ جبکہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، اہلِ مکہ، اور عام یہود و نصاریٰ ، کوئی بھی اس نوع کی جامع علمی دسترس نہیں رکھتا تھا جو مذہبی استدلال اور فکری توجیہ کے لیے اس انتخاب و ترجیح کو ممکن بناتی۔ لہٰذا اس امر کی معقول توجیہ وحی ہی قرار پاتی ہے۔
اس سے بھی زیادہ واضح دلائل قرآن کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے پر موجود ہیں:
اوّل: قرآن کا تاریخی اغلاط سے پاک ہونا، باوجود اس کے کہ قرآن نے بہت سے ایسے قصص بیان کیے ہیں جو کتابِ مقدس میں بھی موجود ہیں، جبکہ معاصر آثارِ قدیمہ کی تحقیقات نے توراتی بیانیے میں متعدد تاریخی اغلاط کی نشاندہی کی ہے۔ اس ضمن میں فرانسیسی مستشرقین، راہب میشیل کویرس اور جوزیف غویبو، نے اعتراف کیا ہے کہ جو بھی اب تک قرآن کی تاریخی معلومات کی دقت پر اعتراض کرنے کی کوشش کرتا ہے، وہ بالآخر خود ایک مشکل موقف میں گھر جاتا ہے۔
مثال کے طور پر، طویل عرصے تک قرآن پر یہ اعتراض کیا جاتا رہا کہ اس نے حضرت موسیٰؑ کے زمانے میں "سامری" (سورہ طٰہٰ) کا ذکر کیا، اور اسے ایک تاریخی مغالطہ قرار دیا گیا ، گویا زمانی عدم مطابقت ہے۔ لیکن بعد کی تحقیقات اور سامریوں کے محفوظ متون سے یہ بات سامنے آئی کہ وہ خود قدیم زمانوں سے اپنے نسب کو یوشع بن نونؑ تک پہنچاتے آئے ہیں۔ یوں قرآن نے کتابِ مقدس اور کلیسائی روایت کی بعض تاریخی و علمی غلطیوں کی تصحیح ایسے امور میں کی کہ جن کی حقیقت جدید تحقیقات کے ذریعے ہی واضح ہو سکی۔ اسی بنا پر ہم اس سلسلے میں دونوں روایتوں کے درمیان اہم اختلافی مقامات کو ذکر کریں گے، اور یہ دکھانے کی کوشش کریں گے کہ قرآن کا بیان کس طرح معاصر علوم کی تحقیقات سے ہم آہنگ نظر آتا ہے۔