الشيخ مقداد الربيعي
بداء کا تصور مکتبِ امامیہ میں ایک نہایت اہم عقیدتی موضوع کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسلامی تاریخ میں بھی اس اصطلاح کے بارے میں خاصی بحث و مباحثہ پایا جاتا ہے۔ تاہم اس مفہوم کی اصل حقیقت اکثر ابتدائی تاثر سے مختلف ہوتی ہے، کیونکہ یہ مسئلہ براہِ راست توحیدِ الٰہی، اللہ تعالیٰ کی مطلق قدرت اور اس کے کامل و ہمہ گیر علم پر ایمان سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔
لہذا ہم یہاں یہ دیکھتے ہیں کہ بداء کیا ہے؟
بداء لغت میں "پوشیدگی کے بعد ظاہر ہونے" کے معنی میں آتا ہے، جبکہ عقائد کی اصطلاح میں اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ اس بات پر قادر ہے کہ وہ کسی ایسے امر کو، جو پہلے سے مقدر اور ثبت کیا گیا ہو، انسان کی زندگی میں پیدا ہونے والے نئے حالات و اسباب کے مطابق تبدیل فرما دے۔ چنانچہ ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی انسان کی موت ایک معین وقت کے لیے مقدر فرمائے، لیکن جب وہ انسان صدقہ دے یا صلۂ رحمی کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی تقدیر میں تبدیلی فرما دے اور اس کی عمر میں اضافہ کر دے۔یہ مفہوم نہ کوئی بدعت ہے اور نہ ہی ذاتی اجتہاد، بلکہ یہ ایک حقیقی قرآنی مفہوم ہے جس پر قرآنِ مجید کی متعدد آیات دلالت کرتی ہیں، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: (يَمْحُو اللَّهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ وَعِنْدَهُ أُمُّ الْكِتَابِ) اللہ جو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور (جو چاہتا ہے) برقرار رکھتا ہے، اور اسی کے پاس اصل کتاب ہے۔
یہ آیتِ کریمہ ایک اہم حقیقت کو واضح کرتی ہے، اور وہ یہ ہے کہ تقدیرِ الٰہی کے دو درجے ہیں۔
پہلا درجہ "أمّ الکتاب" یا "کتابِ مبین" کہلاتا ہے، جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے: (وَعِنْدَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا هُوَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَرَقَةٍ إِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِي ظُلُمَاتِ الْأَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُبِينٍ) اور اسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں، انہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا، اور وہ جانتا ہے جو کچھ خشکی اور سمندر میں ہے، اور کوئی پتا نہیں گرتا مگر وہ اسے جانتا ہے، اور نہ زمین کی تاریکیوں میں کوئی دانہ (گرتا ہے) اور نہ کوئی تر چیز اور نہ کوئی خشک چیز مگر وہ ایک روشن کتاب میں (لکھی ہوئی) ہے۔
دوسرا درجہ "لوحِ محو و اثبات" ہے، اور اسی میں بداء واقع ہوتا ہے۔ جیسا کہ سید خوئیؒ نے اس حقیقت کو یوں بیان فرمایا: (والبداء: إنما يكون في القضاء الموقوف المعبر عنه بلوح المحو والإثبات)
دو کتابوں (ام الکتاب اور لوح محو اثبات) کے درمیان فرق
پہلے درجے کو "أمّ الکتاب" کا نام دینا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اصل اور حتمی مرحلہ ہے، کیونکہ وہ ان امور کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے کامل اور ہمہ گیر علم کی نمائندگی کرتا ہے جن پر آخرکار معاملات کا انجام پزیر ہونا ہے۔ جبکہ "لوحِ محو و اثبات" میں وہ تقدیریں ہوتی ہیں جو بعض مخصوص شرائط کے ساتھ وابستہ اور معلق ہوتی ہیں؛ اگر وہ شرائط پوری ہو جائیں تو جو کچھ اس میں لکھا ہے وہ نافذ ہو جاتا ہے، ورنہ نہیں۔دوسرے الفاظ میں "أمّ الکتاب" اللہ تعالیٰ کے قطعی اور نهایی علم پر مشتمل ہے، جبکہ "لوحِ محو و اثبات" ان مشروط تقدیروں پر مشتمل ہے جو انسان کے اعمال اور اختیارات کی بنیاد پر تبدیل ہو سکتی ہیں۔
بداء کے عقائدی پہلو
بداء کا قائل ہونا درحقیقت اس بات کا واضح اقرار ہے کہ پوری کائنات، اپنے آغاز سے لے کر اپنے تسلسل تک، اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اور اس کی کامل قدرت کے تحت ہے، اور اس کی مشیت ہر زمان و مکان کے تمام امور پر نافذ ہے، اور اگر وہ کسی چیز کو بدلنا چاہے تو وہ اپنے سابقہ لکھے ہوئے کے ساتھ مقید اور مجبور نہیں ہے۔
اسی طرح بداء کے مفہوم سے خالق اور مخلوق کے علم کے درمیان عظیم فرق بھی واضح ہوجاتا ہے۔ چنانچہ انسان کا علم، خواہ وہ انبیاء ہوں یا اوصیاء ، اس بات کا احاطہ نہیں کر سکتا جو اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔اگرچہ بعض انبیاء اور اوصیاء کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت سے ممکن امور کے بارے میں علم عطا کیا جاتا ہے، تاہم وہ اللہ تعالیٰ کے آئندہ فیصلوں اور قطعی تقدیر سے اس وقت تک آگاہ نہیں ہو سکتے جب تک خود اللہ تعالیٰ انہیں یقینی اور قطعی طور پر اس سے مطلع نہ فرما دے۔
بداء کا ایک اہم پہلو دعا اور عبادت کے مفہوم اور ان کی حقیقی روح کو سمجھنے میں بھی نمایاں کردار ادا کرتا ہے۔ چنانچہ بداء پر ایمان انسان کو اپنے رب سے گہری وابستگی عطا کرتا ہے۔ وہ ہمیشہ اپنے پروردگار سے دعا کی قبولیت کی امید رکھتا ہے، اپنی حاجات کی تکمیل کا طالب رہتا ہے، اور اطاعت کی توفیق اور گناہوں سے دوری کے لیے اسی کی بارگاہ میں دستِ دعا بلند کرتا ہے
لیکن اگر بداء کا انکار کیا جائے اور یہ عقیدہ اختیار کیا جائے کہ جو کچھ تقدیر میں لکھ دیا گیا ہے وہ بغیر کسی استثناء کے لازماً واقع ہو کر رہے گا، تو یہ سوچ لازماً دعا کی قبولیت سے مایوسی کا سبب بنے گی۔ کیونکہ اس عقیدہ کا حامل شخص اپنے آپ سے یہ کہے گا: اگر جو میں اپنے رب سے مانگ رہا ہوں وہ پہلے سے لکھا جا چکا ہے تو وہ بغیر دعا کے ہی ضرور واقع ہو جائے گا، اور اگر وہ لکھا ہی نہیں گیا تو پھر میری دعا اور گریہ و زاری کے باوجود بھی ہرگز واقع نہیں ہوگا۔یہ طرزِ فکر دعا کے معنی اور اس کی قدر و قیمت کو ختم کر دیتا ہے، اور انسان کو اپنے خالق کے حضور گڑگڑانے سے باز رکھتا ہے، کیونکہ اس کے نزدیک اس میں کوئی فائدہ باقی نہیں رہتا۔ اسی طرح یہی معاملہ عبادات اور صدقات کا بھی ہے، جن کے بارے میں معصومین علیہم السلام سے مروی روایات میں آیا ہے کہ وہ عمر، رزق اور دیگر انسانی ضروریات کی فراوانی میں اضافہ کا سبب بنتی ہیں۔
بداء اہلِ بیت علیہم السلام کی احادیث میں
ہم اہلِ بیتؑ سے مروی روایات کا مطالعہ کرتے ہیں تو اس میں بداء کے مفہوم پر خاص توجہ اور اس کی عقائدی اہمیت پر واضح تاکید نظر آتی ہے۔ یہ توجہ محض اتفاقی نہیں، بلکہ اس کے پسِ پشت گہرے اسباب کارفرما ہیں، جو صحیح توحید کے تحفظ اور بندوں کو اپنے خالق سے وابستہ رکھنے سے متعلق ہیں۔
شیخ صدوقؒ نے اپنی کتاب التوحید میں اپنی سند کے ساتھ زرارہ سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے امام جعفر الصادق یا امام محمد باقر علیہما السلام دونوں میں سے ایک سے روایت کی ہے کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا: (ما عبد الله عزوجل بشيء مثل [افضل من] البداء) اللہ عزوجل کی عبادت کسی چیز کے ذریعے بداء سے بڑھ کر (یا اس جیسی) نہیں کی گئی۔ اسی طرح انہوں نے اپنی سند کے ساتھ ہشام بن سالم سے، انہوں نے امام جعفر الصادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا: (ما عظم الله عز وجل بمثل البداء)اللہ عزوجل کی عظمت کو بداء سے بڑھ کر کسی چیز کے ذریعے ظاہر نہیں کیا گیا۔
نیز آپ نے نے اپنی سند کے ساتھ محمد بن مسلم سے، انہوں نے امام الصادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ علیہ السلام فرمایا:
(ما بعث الله عزوجل نبيا حتى يأخذ عليه ثلاث خصال: الإقرار بالعبودية وخلع الأنداد، وأن الله يقدم ما يشاء ويؤخر ما يشاء)
اللہ عزوجل نے کسی نبی کو نہیں بھیجا مگر یہ کہ اس سے تین باتوں کا عہد لیا: بندگی کا اقرار، شریکوں کی نفی، اور یہ کہ اللہ جسے چاہتا ہے آگے کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے پیچھے کر دیتا ہے۔
اہلِ بیت علیہم السلام کی طرف سے بداء کے مفہوم پر اس قدر زور دینے کی وجہ یہ ہے کہ اس کا انکار بالآخر اسی نتیجے تک پہنچاتا ہے جس تک یہ عقیدہ پہنچاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے لکھے اور مقدر کردہ امور کو تبدیل کرنے پر قادر نہیں، جبکہ اللہ اس سے بہت بلند و برتر ہے۔ کیونکہ دونوں صورتیں انسان کو دعا کی قبولیت سے مایوس کر دیتی ہیں، اور یہی مایوسی انسان کو اپنی حاجات اور ضروریات میں اپنے رب کی طرف رجوع کرنے سے روک دیتی ہے۔
بداء کی حقیقت: اظہار اور ظہور کے درمیان
بداء اس معنی میں جس کے قائل شیعہ امامیہ ہیں، درحقیقت "اظہار" اور "آشکار کرنے" کے معنی میں ہے، نہ کہ اس معنی میں کہ اللہ کے علم میں کوئی تبدیلی ہو یا کوئی ایسی چیز اس پر ظاہر ہو جو پہلے اس سے مخفی تھی، اللہ اس سے پاک و منزہ ہے۔ بلکہ اسے بداء اس لیے کہا گیا ہے کہ یہ تعبیر لفظی مناسبت کے کی وجہ سے استعمال ہوئی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بداء کا یہی مفہوم اہلِ سنت کے بعض مصادر کی روایات میں بھی پایا جاتا ہے۔ چنانچہ صحیح بخاری میں ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
(إن ثلاثة في بني إسرائيل: أبرص وأعمى وأقرع، بدا لله عزوجل أن يبتليهم فبعث إليهم ملكا فأتى الأبرص..)
بنی اسرائیل میں تین اشخاص تھے: ایک کوڑھی، ایک اندھا اور ایک گنجا۔ اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ انہیں آزمائے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف ایک فرشتہ بھیجا، جو پہلے کوڑھی کے پاس آیا… (نوٹ ) اس عبارت میں اللہ تعالیٰ نے چاہا کو بدا للہ عز وجل کہا گیا ہے ۔اسی طرح قرآنِ کریم میں بھی اسی اسلوب کے مشابہ تعبیرات ملتی ہیں، جیسے کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: (الْآنَ خَفَّفَ اللَّهُ عَنْكُمْ وَعَلِمَ أَنَّ فِيكُمْ ضَعْفًا) اب اللہ نے تم پر سے بوجھ ہلکا کر دیا اور جان لیا کہ تم میں کمزوری ہے۔
اور فرمایا:(لِنَعْلَمَ أَيُّ الْحِزْبَيْنِ أَحْصَى لِمَا لَبِثُوا أَمَدًا)
تاکہ ہم ظاہر کر دیں کہ دونوں گروہوں میں سے کون اپنی مدت کو زیادہ صحیح شمار کرتا ہے۔
اور فرمایا: (لِنَبْلُوَهُمْ أَيُّهُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا) تاکہ ہم انہیں آزمائیں کہ ان میں سے کون بہتر عمل کرنے والا ہے۔
پس اللہ سبحانہ و تعالیٰ ازل سے ہر چیز کا علم رکھتا ہے، لیکن قرآن کا اسلوبِ بیان اس حقیقت کو اس انداز سے بیان کرتا ہے کہ گویا امور کا ظہور اور تحقق خارجی طور پر سامنے آ رہا ہو۔ مزید برآں، اہلِ سنت کے مصادر میں بھی بکثرت ایسی روایات موجود ہیں جو اس بات کی تائید کرتی ہیں کہ صدقہ اور دعا قضاء کو تبدیل کر دیتے ہیں، اور یہ بات مکمل طور پر شیعہ عقیدۂ بداء کے مطابق ہے۔
خلاصۂ کلام
شیعہ عقیدے کی رو سے بداء کا مفہوم ہرگز اللہ تعالیٰ کے علم میں کسی کمی کا اظہار نہیں، اللہ اس سے پاک ہے ، بلکہ یہ اس کی مطلق قدرت اور کائنات پر اس کے کامل اختیار کا اقرار ہے، اور اس بات کی تاکید ہے کہ اس کی مشیت نافذ ہے اور اگر وہ چاہے تو اپنے سابقہ لکھے ہوئے کو بھی بدل سکتا ہے۔اسی کے ساتھ یہ عقیدہ عبادت کو اس کا حقیقی معنی عطا کرتا ہے اور دعا کو اس کی اصل قدر و قیمت دیتا ہے، اور انسان کے لیے امید کا دروازہ کھلا رکھتا ہے تاکہ وہ اپنی تمام حاجات میں اپنے رب کی طرف رجوع کرے، اس یقین کے ساتھ کہ اگر بندے کے حالات بدل جائیں اور اس کے اعمال بہتر ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے لکھی ہوئی تقدیر کو بھی بدل سکتا ہے۔
پس بداء درحقیقت اللہ کی مطلق آزادی اور اس کی وسیع رحمت کا بیان ہے، جو دعا کرنے والے کی دعا اور گڑگڑانے والے کی فریاد کو قبول کرتی ہے۔ اور اپنے جوہر میں یہ امید، ترکِ مایوسی، عملِ صالح اور اللہ کی بارگاہ میں دعا و تضرع کی دعوت ہے۔