واپس
اسلام اور فکری نظریات میں معیارِ عمل: منفعت بمقابلہ نیت؟

اسلام اور فکری نظریات میں معیارِ عمل: منفعت بمقابلہ نیت؟

ناول "المسخ" کے مصنف فرانز کافکا اپنی اس کتاب میں ایک چونکا دینے والی کہانی بیان کرتے ہیں۔ اس کہانی کا مرکزی کردار گریگور سامسا نامی ایک شخص ہے، جو ایک صبح بیدار ہوتا ہے تو دیکھتا ہے کہ وہ ایک بڑے سے حشرے (کاکروچ) میں تبدیل ہو چکا ہے۔ اس انتہائی ہولناک صورتِ حال اور اس کے نتیجے میں آنے والی بڑی تبدیلیوں کے باوجود، گریگور کے ذہن میں سب سے پہلا خیال یہ آتا ہے کہ وہ کام پر جانے کے لیے ٹرین کیسے پکڑے گا؟

الشيخ مقداد الربيعي

ناول "المسخ" کے مصنف فرانز کافکا اپنی اس کتاب میں ایک چونکا دینے والی کہانی بیان کرتے ہیں۔ اس کہانی کا مرکزی کردار گریگور سامسا نامی ایک شخص ہے، جو ایک صبح بیدار ہوتا ہے تو دیکھتا ہے کہ وہ ایک بڑے سے حشرے (کاکروچ) میں تبدیل ہو چکا ہے۔ اس انتہائی ہولناک صورتِ حال اور اس کے نتیجے میں آنے والی بڑی تبدیلیوں کے باوجود، گریگور کے ذہن میں سب سے پہلا خیال یہ آتا ہے کہ وہ کام پر جانے کے لیے ٹرین کیسے پکڑے گا؟

کیونکہ گریگوراس سے پہلے اپنی فیملی کی کفالت کے لیے سخت محنت کرتا تھا، مگر یہ تبدیلی اس کی زندگی کو یکسر بدل کر رکھ دیتی ہے۔ وہ خوف اور بیگانگی کا شکار ہو جاتا ہے، اور اس کا خاندان ابتدا میں اس نئی صورتِ حال سے ہم آہنگ ہونے کی کوشش کرتا ہے، مگر آہستہ آہستہ اس سے نفرت کرنے لگتا ہے۔ گریگور گھر میں اپنی حیثیت کھو دیتا ہے اور جو کبھی اپنے گھر والوں کا سہارا تھا، وہی ان پر ایک بھاری بوجھ بن جاتا ہے۔ تنہائی، غفلت اور سختی کے بڑھتے ہوئے اثرات کے باعث گریگورجسمانی اور ذہنی طور پر بتدریج مضمحل ہوتا جاتا ہے، یہاں تک کہ تنہا ہی مر جاتا ہے، جبکہ اس کے مرنے کے بعد اس کا خاندان یوں نئی زندگی کی طرف بڑھ جاتا ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔

کافکا یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ انسان لوگوں کی نظر میں اپنی قدر کھو سکتا ہے جب وہ عطا کرنے سے عاجز ہو جائے، اور یہ کہ سب سے کڑا دکھ بیماری یا ظاہری تبدیلی نہیں، بلکہ اپنے ہی گھر میں اجنبی بن جانا ہے۔ اس نے گریگورسامسا کو ایسی زندگی کا آئینہ بنایا ہے جس میں نفع، رحمت پر اور مفاد، محبت پر غالب آجاتا ہے۔ یوں وہ ہمارے اندر ایک تکلیف دہ سوال پیدا کرتا ہے کہ کیا ہم انسان سے اس کی ذات کے لیے محبت کرتے ہیں یا اس کے فائدے کے لیے؟ اسی لیے یہ کہانی سفاکی کے مقابل ایک غمگین پکار، اور تنہائی، ردّ اور انسانی روح کے ٹوٹنے کی ایک ادبی دستاویز بن کر سامنے آتی ہے۔

انسان کی قدر کو اس سے حاصل ہونے والے فائدے کے مطابق متعین کرنا زندگی کو اس قدر مادّی بنا دیتا ہے کہ ہر وہ عمل بے قیمت محسوس ہونے لگتا ہے جو کوئی نفع نہ دے؛ اور یہ وہ کیفیت ہے جس پر دین ہمیشہ تنقید کرتا آیا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَإِنَّهُ لِحُبِّ الْخَيْرِ لَشَدِيدٌ﴾ (العادیات: 8) اور وہ مال کی محبت میں سخت ہے۔نیز ارشاد ہے: ﴿زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَاتِ مِنَ النِّسَاءِ وَالْبَنِينَ وَالْقَنَاطِيرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ...﴾  (آلِ عمران: 14)

لوگوں کے لیے خواہشات نفس کی رغبت مثلاً عورتیں، بیٹے، سونے اور چاندی کے ڈھیر لگے خزانے، عمدہ گھوڑے، مویشی اور کھیتی زیب و زینت بنا دی گئی ہیں، یہ سب دنیاوی زندگی کے سامان ہیں اور اچھا انجام تو اللہ ہی کے پاس ہے۔ اور مزید فرمایا: ﴿وَتُحِبُّونَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّا﴾ (الفجر: 20) اور مال کے ساتھ جی بھر کر محبت کرتے ہو۔ اور اس مضمون پر بہت سی دیگر آیات بھی دلالت کرتی ہیں۔

یہ مادّی رجحان، جو مستقبل کے خوف اور بے چینی کو جنم دیتا ہے، انسان کے اندر اخلاقی پستی کی دو نہایت ادنیٰ صفات بخل اور طمع کو پروان چڑھاتا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿إِنَّ الإِنسَانَ خُلِقَ هَلُوعًا. إِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوعًا﴾. (المعارج: 19–21)۔انسان یقینا کم حوصلہ خلق ہوا ہے۔ جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو گھبرا اٹھتا ہے۔

مزید برآں، یہ مسئلہ ایک ایسے سوال کا دروازہ بھی کھولتا ہے جو عرصۂ دراز سے علمی و ثقافتی حلقوں میں زیرِ بحث رہا ہے: کسی عمل کی قدر و قیمت کیا ہے، اور ہم ایک عمل کو دوسرے پر کیوں اور کیسے ترجیح دیتے ہیں؟ پھر یہ اشکال اہلِ علم کے دائرے سے نکل کر عام لوگوں تک پہنچ گیا اور مختلف صورتیں اختیار کرگیا۔ اب کوئی دن ایسا نہیں گزرتا کہ ہم کسی نہ کسی عمل کی اہمیت سے متعلق سوال نہ سنیں یا پڑھیں، جیسے بعض لوگ کہتے ہیں: کیا نوجوانوں کی شادی پر خرچ کرنا حج پر مال خرچ کرنے سے زیادہ مفید اور بہتر نہیں؟

یا بعض دیگر یوں کہتے ہیں کہ اگر مساجد اور امام بارگاہوں کی تعمیر کے لیے مختص رقوم کو فقراء و مساکین کی ضروریات پوری کرنے میں صرف کیا جائے تو کیا یہ اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک زیادہ پسندیدہ نہ ہوگا؟ اور کچھ لوگ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ امام حسین علیہ السلام کی مجالسِ اور زائرین کی ضیافت پر یہ خرچ کیوں؟ اگر یہی سرمایہ تعلیمی اداروں اور ہسپتالوں کی تعمیر پر لگایا جائے تو کیا یہ بہتر نہ ہوگا؟

اس طرح کے درجنوں سوالات مختلف سطح پر گردش کرتے رہتے ہیں۔ مگر یہ لوگ اس بنیادی نکتے سے غافل ہیں کہ اسلام کسی عمل کی قدر و قیمت کو کس معیار پر پرکھتا ہے۔ یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ بحث کا محور کسی عمل کی اخلاقی و انسانی قدر ہے، نہ کہ اس کی معاشی یا سماجی اہمیت۔ یعنی ان سطور کا مقصد اسلام کے نقطۂ نظر سے معاشی و سماجی پہلوؤں؛ جیسے اجرتی نظامِ عمل، پیداوار میں محنت کش کا منصفانہ حصہ وغیرہ کا جائزہ لینا نہیں، بلکہ انسانی زاویے سے عمل کی قدر اور اس کی اخلاقی حیثیت کو واضح کرنا ہے۔ پس وہ کون سے معیارات ہیں جن کی بنیاد پر اسلام یا دیگر فکری مکاتبِ فکر میں کسی عمل کی قدر و قیمت متعین کی جاتی ہے؟

یہاں قارئِ محترم کی توجہ اس امر کی طرف مبذول کرانا ضروری ہے کہ اس سوال کا جواب اس فکری مکتب کے اخلاقی تصورات کی نوعیت پر منحصر ہوتا ہے، اور یہ اخلاقی تصورات خود ان اہداف سے جڑے ہوتے ہیں جن کے حصول کی وہ معاشرے میں کوشش کرتا ہے۔ مثال کے طور پر، سرمایہ دارانہ نظام بطور ایک فکری مکتب یہ تصور پیش کرتا ہے کہ ہر وہ عمل جو آزادی اور باہمی مفادات کے دائرے میں رہتے ہوئے معاشرے کے لیے مفید ہو، ایک معزز اور اعلیٰ قدر کا حامل عمل ہے۔ چنانچہ جس قدر اس عمل کے نتائج زیادہ نفع بخش ہوں، اسی قدر اس کی اہمیت اور قدر بڑھ جاتی ہے۔

اس زاویے سے عمل کی قدر اس سے حاصل ہونے والے فائدے کے مطابق متعین ہوتی ہے، خواہ اس کے پسِ پردہ محرکات خود غرضی یا ناپاک مقاصد ہی کیوں نہ ہوں۔ یعنی اگر کوئی عمل معاشرے کو فائدہ پہنچائے تو اسے خیر سمجھا جاتا ہے، چاہے وہ جنگ جیسے ذرائع کے ذریعے ہی کیوں نہ حاصل کیا گیا ہو۔جیسا کہ محقق الیکسیس کارل نے اس جانب اشارہ کیا ہے۔اور اسی معیار کے مطابق کسی نابینا شخص کی مدد کرنا اور اسے راستہ دکھانا اس قدر اہم نہیں سمجھا جاتا جتنا ایک کاروباری شخص کا اسکول یا ہسپتال تعمیر کرنا۔ چنانچہ نابینا کی مدد اگرچہ ایک نیک اور قابلِ قدر عمل ہے، مگر اس کی قدر و قیمت اس تاجر کے عمل کے برابر نہیں ٹھہرتی جس نے ایک بڑا فلاحی ادارہ قائم کیا ہو۔

مارکسی فکر کے مطابق اخلاقی معیار، سرمایہ داری سے کسی حد تک مختلف بنیادوں پر قائم ہے۔ اس نظریے کی رو سے معاشرے کی ساخت میں جاری طبقاتی کشمکش مختلف طبقات کے مفادات کو باہم متصادم بنا دیتی ہے۔ چنانچہ قدیم طبقہ، یعنی وہ طبقہ جو تاریخی ارتقاء کے تناظر میں اپنی بقا کی شرائط کھو چکا ہو، جیسے جاگیردارانہ نظام اپنے مخصوص مفادات کے تحفظ کے لیے کوشاں رہتا ہے، خواہ اس کا نتیجہ دیگر طبقات کے استحصال کی صورت میں ہی کیوں نہ نکلے۔

اس کے بالمقابل، ایک نیا یا ابھرتا ہوا طبقہ سامنے آتا ہے جو تدریجاً قوت حاصل کر کے اپنے وجود کو مستحکم کرتا ہے، اور بالآخر قدیم طبقے کے بالمقابل کھڑا ہو کر اپنے حقوق اور مفادات کے حصول کے لیے جدوجہد کرتا ہے۔ یوں مارکسی نقطۂ نظر میں کسی عمل کی قدر و قیمت کا تعین اسی طبقاتی جدوجہد اور اس کے نتیجے میں حاصل ہونے والے اجتماعی مفاد کے تناظر میں کیا جاتا ہے۔

پس مارکسی زاویۂ نظر میں کسی عمل کی قدر و قیمت کا تعین اس بات سے ہوتا ہے کہ وہ ابھرتے ہوئے نئے طبقے کے اہداف اور مفادات کو کس حد تک فروغ دیتا ہے۔ چنانچہ ہر وہ عمل جو نئے طبقے کے مفاد میں ہو، خیر اور بلند قدر کا حامل سمجھا جاتا ہے، اس لیے کہ وہ تاریخی ارتقاء کو مہمیز دیتا اور سماجی پیش رفت کو تقویت بخشتا ہے۔

اس کے برعکس، جو عمل قدیم طبقے کے مفادات کو سہارا دے، اس کے سماجی وجود کو مضبوط کرے، اس کی بقا کو طول دے اور نئے طبقے کی پیش قدمی میں رکاوٹ بنے، وہ رجعتی اور پست شمار ہوتا ہے، کیونکہ وہ ان اعلیٰ مقاصد سے متصادم ہے جنہیں مارکسیت ناگزیر سمجھتی ہے؛ یعنی نئے طبقے کی کامیابی اور قدیم طبقے کا زوال، جسے تاریخ کے آگے بڑھنے کے لیے ضروری قرار دیا جاتا ہے۔

اسی تناظر میں لینن نے اپنا معروف قول یوں پیش کیا: "ہمارے نزدیک ایسی کسی اخلاقیات کا کوئی وجود نہیں جو معاشرے سے ماورا ہو؛ یہ محض ایک صریح فریب ہے۔ اخلاقیات ہمارے ہاں مزدور طبقے کی جدوجہد کے مفادات کے تابع ہیں۔"

جہاں تک اسلام کا تعلق ہے، تو اس کا امتیاز دیگر فکری مکاتب سے سب سے بڑھ کر اُن بنیادی اہداف میں نمایاں ہوتا ہے جن کے حصول کی وہ دعوت دیتا ہے اور جن سے اس کے اخلاقی تصورات اخذ ہوتے ہیں۔ یہ اہداف اپنے جوہر میں دیگر نظریات سے یکسر مختلف ہیں، کیونکہ ان کی بنیاد ایمان باللہ اور یومِ آخرت پر استوار ہے۔ اسی تناظر میں “عملِ صالح” کی تعریف بھی متعین ہوتی ہے۔ یعنی وہ عمل جو ان اعلیٰ غایات سے ہم آہنگ ہو؛ اور کسی عمل کی اخلاقی قدر بھی اسی نسبت سے بڑھتی ہے جس قدر وہ ان مقاصد کی عکاسی کرتا ہے۔

اسلامی فکر میں عمل کی قدر و قیمت کا دارومدار اس کے خارجی نتائج یا مادی فوائد پر نہیں، بلکہ اس کے باطنی محرکات؛ یعنی نیت، قصد اور غایت پر ہوتا ہے۔ چنانچہ ایک ہی ظاہری عمل، نیت کے اختلاف سے اخلاقی اعتبار سے بلند ترین درجے تک پہنچ سکتا ہے یا اپنی قدر کھو سکتا ہے۔ اسی اصول کو حدیثِ نبویؐ میں نہایت جامع اور اصولی انداز میں بیان کیا گیا ہے کہ: “اعمال کا انحصار نیتوں پر ہے، اور ہر شخص کو وہی حاصل ہوگا جس کی اس نے نیت کی۔”

روایات میں مذکور ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ نے حضرت علیؑ کو ایک مہم پر روانہ فرمایا اور مسلمانوں کو ان کے ساتھ شرکت کی ترغیب دی۔ ایک انصاری نے اپنے ساتھی سے کہا کہ اس مہم میں شریک ہو جائیں، شاید کوئی دنیاوی فائدہ، جیسے خادم یا سواری وغیرہ مل جائے ۔ جب یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپؐ نے ارشاد فرمایا:اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، اور ہر شخص کے لیے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی۔ پس جو اللہ کے ہاں اجر کے حصول کے لیے نکلا، اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے؛ اور جو دنیاوی متاع یا کسی معمولی منفعت کے لیے نکلا، اسے وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی۔” (امالیِ شیخ طوسی، ص 619، حدیث 1274)

اس اصولی بیان سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام میں عمل کی حقیقی قدر اس کے ظاہری نفع یا سماجی اثرات میں نہیں، بلکہ اس کے پسِ پشت کارفرما نیت، اخلاص اور مقصد کی پاکیزگی میں مضمر ہے۔ یہی تصور انسان کو محض مادی منفعت کے محدود دائرے سے بلند کر کے ایک ایسے اخلاقی و روحانی افق تک لے جاتا ہے جہاں اعمال کی معنویت، ان کے نتائج سے نہیں بلکہ ان کے محرکات اور مقاصد کی تطہیر سے متعین ہوتی ہے۔

پس اسلام کے زاویۂ نظر میں کسی عمل کی محض اقتصادی یا سماجی افادیت کوئی حقیقی معیار نہیں، خصوصاً جب وہ کسی فاسد منبع سے جنم لے۔ اصل اہمیت اس امر کو حاصل ہے کہ وہ عمل ایک پاکیزہ، شرعی و عقلی اعتبار سے جائز اور باطنی طور پر صالح انسان کی تشکیل میں کردار ادا کرے، اور ایسے سماجی روابط کی بنیاد رکھے جو انسان کے روشن، مخلص اور اخلاقی وجود سے پھوٹتے ہوں۔

اسی لیے اسلام کی توجہ اوّلین اور بنیادی طور پر انسان کے داخلی، روحانی اور اخلاقی جوہر کی تعمیر و تہذیب پر مرکوز رہتی ہے، تاکہ اسے ایسے سانچے میں ڈھالا جائے جو اس کے بلند اور آفاقی مقاصد سے ہم آہنگ ہو۔ اس کے برخلاف، دیگر فکری مکاتب اس اساسی پہلو سے صرفِ نظر کرتے ہوئے انسان کو اس کے حال پر چھوڑ دیتے ہیں کہ وہ خود اپنی تشکیل کرے، اور یوں ان کی توجہ زیادہ تر اعمال کے خارجی نتائج، مادی منافع اور ظاہری اثرات تک محدود رہتی ہے، جبکہ نیت، باطنی محرکات اور روحانی سرمائے کو وہ وہی اہمیت نہیں دیتے جو اسلام عطا کرتا ہے۔

پس اسلام انسان کے باطن میں ایک بنیادی اور زرخیز بیج بوتا ہے، یعنی ایمان باللہ اور یومِ آخرت، جس سے اعمالِ صالحہ کی وہ بامعنی اور مسلسل نمو پذیر فصل تیار ہوتی ہے جو ہر آن اپنے ثمرات عطا کرتی رہتی ہے۔ اسی حقیقت کو قرآنِ حکیم نہایت عمیق اور بلیغ تمثیلات کے ذریعے واضح کرتا ہے۔

چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ تَرَاهُمْ رُكَّعاً سُجَّداً يَبْتَغُونَ فَضْلاً مِنْ اللَّهِ وَرِضْوَاناً سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ ذَلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَمَثَلُهُمْ فِي الإِنْجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَى عَلَى سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمْ الْكُفَّارَ وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْراً عَظِيماً﴾ (الفتح: 29)۔

محمد (صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم) اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کفار پر سخت گیر اور آپس میں مہربان ہیں۔۔۔ جہاں اہلِ ایمان کو ایک ایسی کھیتی سے تشبیہ دی گئی ہے جو ابتدائی مرحلے میں ایک نازک کونپل کے طور پر ابھرتی ہے، پھر تدریجاً مضبوط ہوتی ہے، تناور بنتی ہے اور اپنے کامل استحکام کے ساتھ اپنے تنوں پر قائم ہو جاتی ہے، ایسی دلکش اور متوازن کہ کاشتکار بھی اسے دیکھ کر مسرور ہوتے ہیں۔ یہ تمثیل دراصل اس باطنی ایمان، روحانی تربیت اور اخلاقی تزکیے کی علامت ہے جو انسان کی شخصیت کو تدریجاً کمال تک پہنچاتا اور اس کے اعمال کو بابرکت و بارآور بناتا ہے۔ اسی طرح ایک اور مقام پر ارشاد ہے: ﴿وَالْبَلَدُ الطَّيِّبُ يَخْرُجُ نَبَاتُهُ بِإِذْنِ رَبِّهِ وَالَّذِي خَبُثَ لا يَخْرُجُ إِلاَّ نَكِداً﴾ (الأعراف: 58)۔اور پاکیزہ زمین میں سبزہ اپنے رب کے حکم سے نکلتا ہے اور خراب زمین کی پیداوار بھی ناقص ہوتی ہے۔

ان قرآنی تمثیلات کی روشنی میں یہ حقیقت پوری طرح منکشف ہو جاتی ہے کہ اعمال کی حقیقی قدر و قیمت ان کے ظاہری حجم یا مادی نتائج میں نہیں، بلکہ اس باطنی سرچشمے میں مضمر ہے جہاں سے وہ صادر ہوتے ہیں۔ جب انسان کا باطن ایمان، اخلاص اور روحانی طہارت سے منور ہو تو اس کے اعمال بھی صالح، مؤثر اور دیرپا خیر کے حامل ہوتے ہیں؛ اور اگر اندرونی اساس فاسد ہو تو ظاہری خوبی بھی عمل کو حقیقی قدر و اعتبار عطا نہیں کر سکتی۔ یہی وہ جامع تصور ہے جو اسلام کو محض نتائج پر مبنی نظریات سے ممتاز کرتا ہے اور انسان کو ایک ہمہ جہت اخلاقی و روحانی ارتقاء کی راہ دکھاتا ہے۔

اسی اصول کی روشنی میں قرآنِ حکیم اس امر کو قطعی طور پر مسترد کرتا ہے کہ اُس عمل کے درمیان کوئی موازنہ قائم کیا جائے جو دائرۂ ایمان کے اندر، خالص ایمانی شعور اور الٰہی مقصدیت کے تحت انجام پاتا ہے، اور اُس عمل کے ساتھ جو اس دائرے سے باہر، محض نفسانی میلانات یا دیگر محرکات سے صادر ہوتا ہے۔ قرآنی تصور کے مطابق یہ دونوں اعمال اپنی ماہیت، بنیاد اور قدر کے اعتبار سے اس قدر مختلف ہیں کہ ان کے درمیان تقابل سرے سے معنی ہی نہیں رکھتا، خواہ غیر ایمانی عمل کے ظاہری نتائج اور اس کے سماجی و معاشی فوائد کتنے ہی نمایاں کیوں نہ ہوں۔

چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿أَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاجِّ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَجَاهَدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ لا يَسْتَوُونَ عِنْدَ اللَّهِ﴾۔(التوبة: 19)۔

کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد الحرام کی آبادکاری کو اس شخص کے برابر قرار دیا ہے جس نے اللہ اور روز آخرت پر ایمان لایا اور راہ خدا میں جہاد کیا؟

پس اگرچہ یہ اعمال اپنے اندر عظیم سماجی اور معاشی فوائد رکھتے ہیں، تاہم قرآنِ حکیم نے انہیں اُس عمل کے برابر قرار دینے سے انکار کیا ہے جو ایمان باللہ اور یومِ آخرت کی بنیاد پر انجام پاتا ہے۔ بلکہ اس نے ہر اُس عمل کو صراحت کے ساتھ رد کر دیا ہے جس میں اس ایمانی قصد اور الٰہی مقصدیت کو ملحوظ نہ رکھا گیا ہوخواہ وہ اپنے ظاہری نتائج کے اعتبار سے کتنا ہی نفع بخش کیوں نہ ہو۔

چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَنْ يَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللَّهِ شَاهِدِينَ عَلَى أَنفُسِهِمْ بِالْكُفْرِ أُوْلَئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ وَفِي النَّارِ هُمْ خَالِدُونَ * إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ.. ﴾ (التوبة: 17–18)

مشرکین کو یہ حق حاصل نہیں کہ اللہ کی مساجد کو آباد کریں درحالیکہ وہ خود اپنے کفر کی شہادت دے رہے ہیں، ان لوگوں کے اعمال برباد ہو گئے اور وہ آتش میں ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ کی مسجدوں کو صرف وہی لوگ آباد کر سکتے ہیں جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہوں۔ اسی تناظر میں ریا کی حرمت اور صدقۂ خفیہ کی استحبابی حیثیت کی گہری معنویت بھی واضح ہو جاتی ہے، کیونکہ اسلام کی نگاہ میں عمل کی اصل قدر اس کے اخلاص اور باطنی صداقت میں مضمر ہے، نہ کہ اس کی نمائش یا ظاہری اثرپذیری میں۔

مزید برآں، سابقہ تمام سوالات کا جامع جواب بھی اسی اصول سے منکشف ہوتا ہے کہ اسلام میں کسی عمل کی قدر و قیمت کا معیار اس کا یہ شریف قصد ہے، یعنی ایمان باللہ اور یومِ آخرت سے اس کی حقیقی نسبت۔ چنانچہ اگر ایک مسلمان فریضۂ حج کو خالص ایمانی شعور اور الٰہی رضا کے حصول کی نیت سے ادا کرتا ہے، تو یہ عمل اپنی حقیقت میں اُن اعمال کے ساتھ قابلِ موازنہ نہیں رہتا جو اگرچہ عظیم سماجی و معاشی فوائد کے حامل ہوں، جیسے ہسپتالوں کی تعمیر یا نوجوانوں کی اعانت، مگر اس ایمانی بنیاد اور اخلاص سے خالی ہوں۔

اسی اصول کی روشنی میں یہ امر بھی واضح ہو جاتا ہے کہ امیر المؤمنینؑ یا مسلم بن عقیلؑ کے افعال کو محض ظاہری نتائج یا وقتی منافع کے پیمانے پر نہیں پرکھا جا سکتا، کیونکہ ان کے اعمال کی اساس ایک گہری ایمانی وابستگی اور الٰہی مقصدیت پر قائم تھی۔ اگر اس کے برعکس کسی دوسرے طرزِ عمل میں بظاہر کچھ فوائد بھی پائے جائیں، تب بھی وہ اس ایمانی قدر کے ہم پلہ نہیں ہو سکتا۔ پس اسلام کا معیارِ قدر وہ باطنی اخلاص، ایمانی شعور اور مقصدِ الٰہی ہے جو عمل کو اس کی حقیقی معنویت عطا کرتا ہے؛ جبکہ محض خارجی نتائج اور مادی منافع، اس کے نزدیک ثانوی حیثیت رکھتے ہیں اور اصل معیار کا بدل نہیں بن سکتے۔

اسی تناظر میں یہ حقیقت بھی منکشف ہوتی ہے کہ بسا اوقات ظاہری اعتبار سے ایک نہایت سادہ اور معمولی عمل، قدر و منزلت کے لحاظ سے اُس بڑے اور تاریخ ساز عمل سے کہیں زیادہ بلند ہو سکتا ہے جس کے پسِ پردہ مادی یا نفسانی محرکات کارفرما ہوں۔ چنانچہ کسی یتیم پر شفقت سے بھرے دل کی ایک لمحاتی کیفیت، جو اخلاصِ ایمانی سے لبریز ہو ہزاروں ایسے اعمال پر غالب آ سکتی ہے جو عظیم سماجی مصالح کے حامل ہوں مگر خالصتاً مادی محرکات سے انجام پائے ہوں۔

مختصراً یہ کہ اسلام کے نقطۂ نظر سے کسی فعل کی اخلاقی قدر کا مدار اس بات پر ہے کہ انسان کس حد تک اپنے شرعی فریضے کی ادائیگی میں مخلص اور سنجیدہ ہے، نہ کہ ان خارجی منافع پر جو اس سے مترتب ہوتے ہیں۔ پس کبھی اس کا تقاضا ہسپتال کی تعمیر ہو سکتا ہے، کبھی ایک یتیم کی مدد، اور کبھی زائرین کی خدمت میں طعام کی تقسیم، ہر موقع پر اصل معیار "وظیفۂ شرعی" کی ادائیگی ہے۔

یہیں سے اس امر کی اہمیت بھی واضح ہوتی ہے کہ انسان اپنی عملی ذمہ داری کی درست تعیین کے لیے اہلِ علم کی طرف رجوع کرے، کیونکہ فقہی اصول کے مطابق تزاحم (یعنی جب متعدد ذمہ داریاں باہم ٹکرا جائیں) کی صورت میں شریعت کی نگاہ میں جو عمل زیادہ اہم ہو، اسی کو ترجیح دی جاتی ہے، اور اس کی تعیین ایک ایسے فقیہ کے ذریعے ہوتی ہے جو علمی و عملی شرائط پر پورا اترتا ہو۔

یوں اسلام انسان کے عمل کو محض نتائج کی سطح سے اٹھا کر ایک منظم، بامقصد اور الٰہی رہنمائی سے وابستہ اخلاقی نظام میں ڈھال دیتا ہے، جہاں اصل قدر اخلاص، نیت اور اطاعتِ شرع کو حاصل ہوتی ہے۔

اور ممکن ہے کہ ذہن میں یہ اشکال پیدا ہو کہ غیر اسلامی نظریات میں عمل کی قدر و قیمت کا تعین زیادہ “عملی” اور “حقیقت پسندانہ” معلوم ہوتا ہے؛ کیونکہ ان کے نزدیک اصل اہمیت معاشرے کے مفادات کی فراہمی کو حاصل ہے، اور ہر وہ عمل جو اس مقصد کو پورا کرے، اعلیٰ قدر کا حامل قرار پاتا ہے اور اسے فروغ دینا چاہیے تاکہ دوسرے لوگ بھی اسی طرح کے اعمال کی طرف راغب ہوں۔ چنانچہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ اگر کوئی مالدار شخص فقراء کے لیے ایک مدرسہ تعمیر کرتا ہے، تو ہمیں اس کی نیت سے کیا سروکار، خواہ وہ خود غرضی یا کسی فاسد محرک کے تحت ہی کیوں نہ ہو؟

لیکن یہ استدلال درحقیقت عمل کی حقیقت کو صرف اس کے خارجی اثرات تک محدود کر دیتا ہے اور انسان کے باطنی وجود کو نظرانداز کر دیتا ہے۔ اسلام کے نزدیک مسئلہ صرف یہ نہیں کہ کوئی عمل وقتی طور پر معاشرے کو فائدہ پہنچا دے، بلکہ یہ ہے کہ وہ انسان کی داخلی ساخت، اس کے اخلاقی مزاج اور اس کے روحانی ارتقاء پر کیا اثر ڈالتا ہے۔ کیونکہ وہی نیت جو بظاہر ایک فائدہ مند عمل کو جنم دیتی ہے، اگر فاسد ہو، تو وہی نیت انسان کے اندر خود غرضی، ریا اور اخلاقی انحطاط کو بھی پروان چڑھاتی ہے۔

پس اسلام اس بات پر زور دیتا ہے کہ معاشرتی منفعت کے ساتھ ساتھ انسان کے باطن کی اصلاح بھی ضروری ہے؛ کیونکہ اگر باطن درست نہ ہو تو بظاہر مفید اعمال بھی ایک ایسے نظام کو جنم دے سکتے ہیں جس میں اخلاص، ہمدردی اور حقیقی انسانی اقدار کا فقدان ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام عمل کی قدر کا معیار صرف اس کے نتائج کو نہیں بناتا، بلکہ اس کے پسِ پردہ نیت، مقصد اور ایمانی بنیاد کو بھی لازمی عنصر قرار دیتا ہے۔

لیکن حقیقت میں یہ ایک سطحی نظر ہے۔ اسلام اس بات سے انکار نہیں کرتا کہ کوئی عمل، جو درست اور پاکیزہ محرکات سے پیدا نہ ہوا ہو، پھر بھی بظاہر مفید اور نفع بخش ہوسکتا ہے، اگرچہ وہ ذاتی لالچ یا کسی خفیہ غرض سے ہی کیوں نہ انجام دیا گیا ہو۔ لیکن اگر ہم ایسے غیر صالح محرکات کو بڑھنے اور پروان چڑھنے کی اجازت دے دیں تو پھر کون ضمانت دے سکتا ہے کہ وہ ہمیشہ انسان کو مفید اور نفع بخش کام ہی کی طرف لے جائیں گے؟ اگر کسی عمل کی قدر و قیمت کا معیار صرف اس سے حاصل ہونے والا فائدہ ہو، تو پھر کیا ہوگا جب یہ فائدہ تخلیقِ کائنات کے الٰہی مقصد سے ٹکرا جائے؟

اسی لیے ہم سمجھتے ہیں کہ عمل کو اس کے روحانی اور باطنی محتوا کے ساتھ جوڑنا ہی وہ واحد حقیقت پسندانہ طریقہ ہے جو معاشرے کے افراد کے درمیان مفید اور نفع بخش عمل کے تسلسل کی ضمانت دے سکتا ہے۔

شیئر: