واپس
ڈیجیٹل دور میں حقیقت کا تصور کیسے تبدیل ہو  رہا ہے؟

ڈیجیٹل دور میں حقیقت کا تصور کیسے تبدیل ہو رہا ہے؟

الشيخ معتصم السيد أحمد

آج کے انسان کے شعور میں ایک گہری تبدیلی رونما ہو رہی ہے۔ یہ تبدیلی صرف اس بات سے متعلق نہیں کہ انسان کیا جانتا ہے، بلکہ اس سے بھی جڑی ہے کہ وہ یہ  کیسے جانتا ہے؟اب معاملہ صرف معلومات حاصل کرنے کا نہیں رہا  بلکہ اس بات سے بھی جڑ گیا ہے کہ حقیقت انسان کے ذہن میں کس طرح تشکیل پاتی ہے۔ پہلے زمانوں میں حقیقت کا تعلق ثبوت، تجربے اور علمی بحث سے ہوتا تھا جن کے ذریعے صحیح اور غلط میں فرق کیا جاتا تھا لیکن آج ایک نیا عنصر سامنے آیا ہے جس نے اس تصور کو مکمل طور پر بدل دیا ہے اور وہ ڈیجیٹل ماحول یا آن لائن دنیاہے۔

اس نئی دنیا میں حقیقت اب صرف مضبوط دلیل پر قائم نہیں رہتی بلکہ اس کے پھیلاؤ کی طاقت پر بھی منحصر ہو گئی ہے۔ جو بات زیادہ پھیلتی ہے وہ زیادہ نظر آتی ہے اور جو زیادہ نظر آتی ہے وہ مانوس لگنے لگتی ہےاور جو مانوس لگے اسے لوگ سچ مان لیتے ہیں۔ یہ سلسلہ لازماً کسی سازش کا نتیجہ نہیں بلکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی بناوٹ  کا ایک قدرتی اثر ہے، جو سچائی کی بجائے لوگوں کی دلچسپی اور ردِعمل کے اصول پر کام کرتے ہیں۔ ان کے الگورتھم یہ نہیں پوچھتے کہ کیا یہ بات درست ہے؟ بلکہ یہ دیکھتے ہیں کہ کیا یہ دلچسپ ہے؟ کیا اسے دیکھا جائے گا؟ اور کیا اسے لوگ آگے شیئر کریں گے؟

یہیں سے ایک خطرناک تبدیلی شروع ہوتی ہے کہ اب حقیقت کو درستگی کے پیمانے سے نہیں بلکہ اس کے ظاہر ہونے اور نمایاں ہونے کے پیمانے سے ناپا جانے لگا ہے۔ وقت کے ساتھ ایک نیا شعور بنتا جا رہا ہے جو صحیح اور مشہورمیں فرق نہیں کر پاتاکیونکہ کسی بات کا زیادہ پھیل جانا ہی اس کے سچ ہونے کی ایک غیر محسوس دلیل بن جاتا ہے۔یہ ماحول صرف یہ نہیں بدلتا کہ ہم کیا دیکھتے ہیں؟ بلکہ یہ بھی بدل دیتا ہے کہ ہم کیسے سوچتے ہیں؟ انسان جب روزانہ ایک ہی خیال کو مختلف انداز میں اور مختلف ذرائع سے دیکھتا ہے تو وہ اسے حقیقت سمجھنے لگتا ہے، چاہے اس نے اسے جانچا بھی نہ ہو۔ یہاں بار بار دہرانا منطقی قائل کرنے کے بجائے ذہنی مانوسیت پیدا کرتا ہے۔ جو چیز بار بار سامنے آئے وہ مانوس لگنے لگتی ہےاور جو مانوس ہو وہ سچ محسوس ہونے لگتی ہے۔

یہ صورتِ حال ایک ایسے رجحان کو جنم دیتی ہے جسے خیالات کی معمولی بنا دیناکہا جا سکتا ہے۔ وہ خیالات جو پہلے عجیب یا ناقابلِ قبول سمجھے جاتے تھے، وقت کے ساتھ عام لگنے لگتے ہیں، اس لیے نہیں کہ ان کے دلائل بدل گئے ہیں بلکہ اس لیے کہ بار بار دہرانے نے ان کے بارے میں احساس بدل دیا ہے۔ اس طرح حقیقت کا معاملہ صرف علمی بحث تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس بات کی کشمکش بن جاتا ہے کہ کون سا خیال انسان کے ذہن میں زیادہ جگہ بنا لیتا ہے۔

اس تناظر میں مذہبی شعور خاص طور پر متاثر ہوتا ہے کیونکہ اس کی بنیاد یقین، استحکام اور مستند حوالوں جیسے تصورات پر ہوتی ہے۔ لیکن جب انسان ایسی فضا میں جیتا ہے جہاں حقیقتیں تیزی سے بدلتی رہتی ہیں اور بار بار نئی شکل اختیار کرتی ہیں تو یہ استحکام متزلزل ہونے لگتا ہے۔ ایسا اس لیے نہیں کہ دین اپنی منطق کھو بیٹھا ہے بلکہ اس لیے کہ وہ ماحول جس میں شعور بنتا ہے اب دقیق اور پختہ سوچ کی اجازت نہیں دیتا۔

آج کا قاری یا سننے والا کسی خیال کے ساتھ ٹھہرتا نہیں بلکہ صرف اس پر سرسری نظر ڈال کر گزر جاتا ہے۔ وہ اسے پرکھنے کے لیے وقت نہیں دیتا بلکہ اسے بھی دوسرے مواد کی طرح صرف استعمال کر لیتا ہے۔ اس طرح کا اندازِ قبولیت انسان کی فرق کرنے کی صلاحیت کو کمزور کر دیتا ہے کیونکہ صحیح اور غلط میں تمیز کے لیے ٹھہراؤ اور وقت درکار ہوتا ہے جبکہ ڈیجیٹل ماحول تیزی پر قائم ہے۔

یہاں اصل چیلنج مخالف خیالات کا موجود ہونا نہیں ہےکیونکہ یہ تو ہمیشہ سے رہا ہےبلکہ مسئلہ اس بات میں ہے کہ ان خیالات کو کس انداز میں پیش کیا جاتا ہے؟ اور کتنی کثرت سے پھیلایا جاتا ہے؟ایک خیال اگر ایک بار پیش ہو تو اس پر بحث کی جا سکتی ہے لیکن جب وہی خیال ہزاروں بار سامنے آئے تو وہ انسان کے ذہن کا حصہ بننے لگتا ہے، چاہے اسے مکمل طور پر قبول نہ بھی کیا جائے۔

یہی بات وضاحت کرتی ہے کہ آج کچھ لوگ اپنے عقائد اور یقین میں تذبذب کیوں محسوس کرتے ہیں؟ حالانکہ انہوں نے کوئی دقیق فکری بحث یا تجربہ نہیں کیا ہوتا۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ انہوں نے شعوری طور پر اپنی سوچ بدلی ہے بلکہ یہ ہے کہ ماحول نے ان کے لیے یہ طے کرنا بدل دیا ہے کہ کیا چیزعام اور قابلِ قبول ہے۔

اس تبدیلی کے اہم پہلوؤں میں سے ایک یہ ہے کہ الگورتھمز صرف مواد دکھانے تک محدود نہیں رہتے بلکہ وہ اس دنیا کو بھی دوبارہ تشکیل دیتے ہیں جسے انسان دیکھتا ہے۔ یہ اسے وہی چیزیں پیش کرتے ہیں جو اس سے ملتی جلتی ہوں، اس کی دلچسپی کے مطابق ہوں اور اس میں ردِعمل پیدا کریں۔ وقت کے ساتھ انسان ایک فکری کنویں میں رہنے لگتا ہے جس میں اسے لگتا ہے کہ جو کچھ وہ دیکھ رہا ہے وہی پوری حقیقت ہےحالانکہ دراصل وہ صرف حقیقت کا چنا ہوا اور محدود حصہ ہوتا ہے۔

یہ فکری کنواں  انسان کے موجودہ عقائد کو مضبوط تو کرتا ہے لیکن ساتھ ہی ان پر نظرِ ثانی کرنے کی صلاحیت کو کمزور بھی کر دیتا ہے۔ کیونکہ انسان صرف وہی چیزیں دیکھتا ہے جو اس کے پہلے سے موجود خیال کی تصدیق کرتی ہیں، اس طرح وہ بغیر کسی حقیقی جانچ کے زیادہ یقین میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ دوسری طرف جب وہ اس کنویں سے باہر نکل کر مختلف آراء کا سامنا کرتا ہے تو اسے ایک جھٹکا محسوس ہو سکتا ہے، نہ اس لیے کہ اس نے یہ آراء پہلے کبھی نہیں سنی ہوتیں بلکہ اس لیے کہ وہ ان سے نمٹنے کی تربیت حاصل نہیں کر سکا ہوتا۔

اس ماحول میں دلیل کا تصور بھی بدل جاتا ہے۔ اب دلیل وہ نہیں رہی جو ایک پُرسکون اور سنجیدہ ذہن کو قائل کرے بلکہ وہ ہے جو توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو۔ اسی لیے مختصر ویڈیوز، تیز اور سخت جملے اور جلدی میں کیے گئے خلاصے زیادہ پھیلتے ہیں کیونکہ یہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی رفتار کے مطابق ہوتے ہیں۔ لیکن یہ انداز اگرچہ پھیلاؤ کے لحاظ سے مؤثر ہےمگر یہ دقت  کو کمزور کرتا ہے اور پیچیدہ اور اہم موضوعات میں بھی سطحی فہم پیدا کرتا ہے۔

اس سے بھی زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ یہ انداز خود دینی گفتگو میں بھی داخل ہو سکتا ہے۔ یوں دینی خطاب سمجھ بوجھ پیدا کرنے کی بجائے توجہ حاصل کرنے کی دوڑ میں شامل ہو جاتا ہے اور شعور بنانے کی بجائے ردِعمل لینے کی کوشش کرنے لگتا ہے۔ اس طرح دین اپنی حقیقت تو نہیں کھوتا لیکن اس کے پیش کرنے کا انداز اس کی دقت کو کمزور کر سکتا ہے۔

یہاں سے اصل سوال یہ نہیں رہتا کہ کیا حقیقت موجود ہے؟ بلکہ یہ بن جاتا ہے کہ ہم ایسی دنیا میں حقیقت تک کیسے پہنچیں جو اسے مسلسل نئی شکل دیتی رہتی ہے؟ یہ سوال ہمیں اس بات کی طرف لے جاتا ہے کہ ہمیں صرف اپنے موجودہ عقائد کو دوبارہ مضبوط کرنے کی بجائے فہم اور سمجھ بوجھ کے نئے طریقے دوبارہ تعمیر کرنے کی ضرورت ہے۔

آج کے انسان کو ایک نئی قسم کے شعور کی ضرورت ہے، ایسا شعور جو صرف معلومات حاصل کرنے پر اکتفا نہ کرے بلکہ یہ بھی سوال کرے کہ یہ معلومات کہاں سے آئی ہے؟ اسے اس انداز میں کیوں پیش کیا جا رہا ہے؟ اسے پھیلانے کی وجہ کیا ہے؟ کیا اس کا زیادہ پھیل جانا اس کے صحیح ہونے کی دلیل ہے یا صرف اس بات کی کہ یہ آسانی سے آگے شیئر کی جا سکتی ہے؟

اس قسم کے سوالات انسان کو دوبارہ فعال کردار میں لے آتے ہیں یعنی وہ صرف وصول کرنے والا نہیں رہتا بلکہ خود اپنے شعور کی تشکیل میں حصہ لیتا ہے، نہ یہ کہ اس کا شعور کوئی اور تشکیل دے۔ یہ بات خاص طور پر دینی میدان میں بہت اہم ہےکیونکہ جو ایمان ماحول کے دباؤ میں بغیر شعوری غور و فکر کے تشکیل پاتا ہے وہ زیادہ آسانی سے کمزور اور متزلزل ہو سکتا ہے۔

اس کے برعکس، وہ ایمان جو سمجھ بوجھ اور شعوری تجربے کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے زیادہ مضبوط اور پائیدار ہوتا ہے کیونکہ وہ صرف اس پر انحصار نہیں کرتا جو دکھایا جاتا ہے بلکہ اس پر قائم ہوتا ہے جو انسان خود سمجھ کر ادراک کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ڈیجیٹل دنیا سے الگ ہو جانا چاہیے بلکہ یہ ہے کہ اس کے ساتھ شعور اور آگاہی کے ساتھ معاملہ کیا جائے اور اسے اس بات کی اجازت نہ دی جائے کہ وہ حقیقت کی مکمل تعریف کو از سرِ نو طے کر دے۔

ڈیجیٹل دور کا اصل چیلنج معلومات کی کثرت نہیں بلکہ پیمانوں کا گم ہو جانا ہے۔ جب حقیقت اور رائے آپس میں مل جائیں اور دلیل اور پھیلاؤ ایک ساتھ گڈمڈ ہو جائیں تو انسان کو ایک اندرونی معیار کی ضرورت پڑتی ہے جو اس کے توازن کو دوبارہ قائم کرے۔ یہ اندرونی معیار خود بخود نہیں بنتا بلکہ اس کے لیے تربیت، سوچنے کی مشق اور اس دور کی حقیقت کو سمجھنے کا شعور ضروری ہوتا ہے۔

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ڈیجیٹل دور نے حقیقت کو ختم نہیں کیالیکن اس تک پہنچنے کا عمل پہلے سے زیادہ پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اب حقیقت تک پہنچنے کا راستہ صرف علم حاصل کرنے سے نہیں گزرتا بلکہ اس بات کو سمجھنے سے بھی گزرتا ہے کہ علم خود کیسے تشکیل پاتا ہے۔ یہ تبدیلی انسان پر،خاص طور پر اس کے دینی شعور پریہ ذمہ داری عائد کرتی ہے کہ وہ صرف معلومات لینے والا نہ رہے بلکہ سمجھنے والا بنے، صرف استعمال کرنے والا نہ رہے بلکہ غور و فکر کرنے والا بنےاور صرف جذباتی ردِعمل دینے کی بجائے شعور کے ساتھ سوچنے والا بنے۔

جب یہ تبدیلی آ جاتی ہے تو انسان اس چیز کا قیدی نہیں رہتا جو اسے پیش کی جاتی ہے بلکہ وہ خود تمیز کرنے کی صلاحیت پیدا کر لیتا ہے اور حقیقت کے ساتھ اپنے تعلق کو ازسرنو تشکیل دیتا ہےنہ اس طرح جیسے وہ اسے پیش کی جاتی ہے بلکہ اس طرح جیسے وہ خود اس کی تلاش کرتا ہے۔


شیئر: