واپس
احتیاط اور ذمہ داری کے تقاضے۔۔۔جنگ کا فیصلہ قرآن مجید کی نظر میں؟

احتیاط اور ذمہ داری کے تقاضے۔۔۔جنگ کا فیصلہ قرآن مجید کی نظر میں؟

موجودہ دور میں صہیونی-امریکی منصوبے کے مقابلے میں سیاسی اور عسکری ردِّعمل کے بارے میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ یہ محض ایک عارضی سیاسی موقف کا مسئلہ نہیں، بلکہ ایک ایسا سوال ہے جو دینی بصیرت اور تہذیبی شعور کی گہرائی سے جڑا ہوا ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا اس قسم کا مقابلہ خواہ سیاسی ہو یا عسکری ایک ایسا فریضہ ہے جسے ہر قیمت پر ادا کرنا چاہیے؟ یا یہ ایک غیر خطرہ ہے اور احتیاط کا تقاضی ہے کہ جانوں اور معاشروں کے تحفظ کے لیے بچنا جائے؟

الشيخ معتصم السيد احمد

موجودہ دور میں صہیونی-امریکی منصوبے کے مقابلے میں سیاسی اور عسکری ردِّعمل کے بارے میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ یہ محض ایک عارضی سیاسی موقف کا مسئلہ نہیں، بلکہ ایک ایسا سوال ہے جو دینی بصیرت اور تہذیبی شعور کی گہرائی سے جڑا ہوا ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا اس قسم کا مقابلہ خواہ سیاسی ہو یا عسکری ایک ایسا فریضہ ہے جسے ہر قیمت پر ادا کرنا چاہیے؟  یا یہ ایک غیر خطرہ ہے اور احتیاط کا تقاضی ہے کہ جانوں اور معاشروں کے تحفظ کے لیے بچنا جائے؟

اس سوال کا جواب نہ تو وقتی جذبات میں سمیٹا جا سکتا ہے اور نہ ہی عارضی مصلحتوں کی بنیاد پر اسے حل کیا جا سکتا ہے، بلکہ اس کے لیے ایک مضبوط علمی و فکری بنیاد درکار ہے، جو سوچ کے زاوئے کو درست کرے اور عمل کو ایک جامع قرآنی اور فکری میزان کے مطابق ترتیب دے۔

قرآن جب جنگ یا ٹکراؤ کی بات کرتا ہے تو اسے کسی غیر معمولی حالت کے طور پر پیش نہیں کرتا، بلکہ اسے تاریخ کے جاری قوانین (سنن) کا حصہ قرار دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُم بِبَعْضٍ لَّفَسَدَتِ الْأَرْضُ﴾.

اور اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے دفع نہ کرتا رہتا تو زمین یقیناً فساد سے بھر جاتی۔

یہ آیت اس تصور کی بنیاد رکھتی ہے کہ ظلم کو روکنے والی قوتوں کا وجود کوئی ثانوی اختیار نہیں، بلکہ دنیا میں توازن برقرار رکھنے کے لیے ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ اگر ظالم کو بغیر مزاحمت کے چھوڑ دیا جائے تو ظلم ایک نظام بن جائے گا اور عدل کی ہر ممکن صورت ختم ہو جائے گی۔ اس بنا پر، مقابلے (جنگ) کا اصل تصور کسی جارحانہ جذبے سے پیدا نہیں ہوتا، بلکہ ایک اصلاحی ذمہ داری کے طور پر سامنے آتا ہے جو زندگی کو عمومی فساد سے محفوظ رکھتا ہے۔

لیکن اس اصول کے مقابلے میں بعض دیندار لوگ احتیاط یا خوف کے تحت یہ رائے پیش کرتے ہیں کہ بڑی طاقتوں کے ساتھ ٹکراؤ وسیع تباہی کا سبب بن سکتا ہے، اس لیے بہتر یہ ہے کہ کشیدگی سے بچا جائے اور کم نقصان والے راستے تلاش کیے جائیں۔ یہ نقطۂ نظر عموماً "حفظِ نفس" کے اصول سے نکلتا ہے، جو کہ شریعت میں ایک مستقل معتبر اصول ہے۔ تاہم مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب اس اصول کو پورے دینی نظام سے الگ کر کے سمجھا جائے، اور یہ دیگر اہم ذمہ داریوں کو معطل کرنے کا ذریعہ بن جائے، جو کسی طور پر بھی ثانوی اہمیت کے حامل نہیں ہیں۔

قرآنِ مجید "حفظِ نفس" کو "حفظِ حق" سے الگ کوئی مستقل قدر کے طور پر پیش نہیں کرتا، بلکہ ان دونوں کو ایک مربوط نظامِ اقدار میں جوڑتا ہے۔ اسی لیے جب وہ قتال کا ذکر کرتا ہے تو اسے بطور مقصد نہیں، بلکہ ایک ناگزیر ذریعہ کے طور پر ایک مخصوص سیاق میں بیان کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

 ﴿وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ﴾ (اور تمہیں کیا ہوا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اور ان کمزور مردوں، عورتوں اور بچوں کی خاطر جنگ نہیں کرتے)۔

یہ آیت ایک بالکل مختلف زاویہ سامنے لاتی ہے؛ یہاں مسئلہ صرف لاگت اور نقصان کا حساب نہیں، بلکہ ذمہ داری کا سوال ہے کہ کمزوروں کا کیا ہوگا؟  اس سرزمین کا کیا ہوگا جسے پامال کیا جا رہا ہے؟  اس حق کا کیا ہوگا جو چھینا جا رہا ہے؟

یہاں سے در اصل یہ سوال اٹھتا ہے کہ :  کیا مقابلے سے گریز کرنا ایک غیر جانب دار موقف ہے، یا یہ دراصل ظالم کو اپنے ظلم کو مضبوط کرنے کا موقع دینا ہے؟

یہاں واضح ہوتا ہے کہ ایسے معاملات میں غیر جانب داری ہمیشہ ایک اخلاقی انتخاب نہیں ہوتی، بلکہ بسا اوقات یہ بالواسطہ طور پر طاقتور کے حق میں جھکاؤ بن جاتی ہے۔ کیونکہ میدان کو مزاحمت سے خالی چھوڑ دینا ظلم کو روکنے کے بجائے اس کے جاری رہنے کو آسان بنا دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن ایمان کو صرف احساسات کے ساتھ نہیں، بلکہ عملی موقف کے ساتھ جوڑتا ہے۔

اس تناظر میں یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ مقابلے کے نتیجے میں جو کچھ بھی پیش آتا ہے، اس کی ذمہ داری دفاع کرنے والے پر نہیں بلکہ جارح پر عائد ہوتی ہے، جو ابتدا میں ظلم کرتا ہے۔  یہ محض ایک سیاسی تعبیر نہیں، بلکہ ایک قرآنی قاعدہ ہے:

﴿فَمَنِ اعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ۔۔۔۔۔﴾

پس جو تم پر زیادتی کرے، تم بھی اس پر اسی قدر زیادتی کرو۔

لیکن اس کے ساتھ حد سے تجاوز نہ کرنے کی تاکید بھی ہے۔ چنانچہ قرآن اصل فعل کا بوجھ حملہ آور پر ڈالتا ہے اور ردِّعمل کو دفاع کے دائرے میں مشروع قرار دیتا ہے، نہ کہ جارحیت کے طور پر۔  لیکن ایک اہم سوال باقی رہتا ہے کہ کیا ہر قسم کا مقابلہ، نتائج سے بے پروا ہو کر، واجب ہوتا ہے؟  یہاں گہری بصیرت کی ضرورت سامنے آتی ہے، جو جلد بازی اور بہادری میں، اور حکمت و پسپائی میں فرق کر سکے۔ خود قرآن مجیدمقابلے کے لئے تیاری کا حکم دیتا ہے:

﴿وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ﴾

اور ان کے مقابلے کے لیے جہاں تک تم سے ہو سکے قوت تیار رکھو۔

یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مقابلہ محض جذباتی فیصلہ نہیں ہوتا، بلکہ اس کے لیے درست اندازہ، قوتوں کے توازن کی سمجھ، اور حالاتِ حاضرہ کا ادراک ضروری ہے۔ پس یہ مسئلہ کوئی سادہ دو رُخی تقسیم نہیں ہے کہ یا تو “مطلق مقابلہ” ہو یا "مطلق اجتناب"، بلکہ یہ ایک ایسا راستہ ہے جس میں دونوں  عناصر کو یکجا کرنا ضروری ہے: اصول کی وضاحت اور اس کے اطلاق میں حکمت۔ اصول یہ ہے کہ ظلم کو رد کیا جائے، اس کا مقابلہ کیا جائے، اور اسے ایک مسلط حقیقت کے طور پر قبول نہ کیا جائے۔ جبکہ اس کا عملی اطلاق طاقت، حالات اور مصلحتِ عامہ کے اندازے کے تابع ہوتا ہے، اس طرح کہ یہ سب کچھ اصل اصول سے دستبرداری کا بہانہ نہ بن جائے۔

ثقافتی زاویے سے دیکھا جائے تو اس بحث کو دو طرح کے شعور کے درمیان کشمکش کے طور پر بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ پہلا شعور “خوف کا شعور” ہے، جو یہ سمجھتا ہے کہ اولین ترجیح فوری نقصانات کو کم کرنا ہے، چاہے اس کے نتیجے میں ایک ظالمانہ حقیقت کو قبول ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔ یہ شعور عموماً ان معاشروں میں تشکیل پاتا ہے جو جنگوں کا شکار رہے ہوں یا تبدیلی کے امکان سے مایوس ہو چکے ہوں، اس لیے وہ محتاط حقیقت پسندی کی طرف مائل ہوتا ہے، جو بعض اوقات آہستہ آہستہ ایک قسم کی بے بسی یا ہتھیار ڈال دینے کی کیفیت میں بدل جاتی ہے۔

دوسرا نمونہ " ذمہ داری کےشعور" کا ہے، جو یہ سمجھتا ہے کہ انسان کی قدر صرف اس بات سے نہیں ناپی جاتی کہ وہ کیا محفوظ رکھتا ہے، بلکہ اس سے بھی کہ وہ کس چیز کا دفاع کرتا ہے۔ یہ شعور دفاع کی قیمت (قربانی) سے انکار نہیں کرتا، بلکہ اسے ایک وسیع تناظر میں دیکھتا ہے، جہاں یہ دیکھا جاتا ہے کہ بعض اقدار ایسی ہوتی ہیں جنہیں بغیر قیمت ادا کیے محفوظ نہیں رکھا جا سکتا۔ اور یہ کہ مسلسل پسپائی بھی مقابلے سے کم قیمت نہیں رکھتی، بلکہ طویل مدت میں اس کی قیمت زیادہ ہو سکتی ہے، کیونکہ یہ کمزوری کو بڑھاتی ہے اور جارح کو مزید حوصلہ دیتی ہے۔

یہاں اس بات کی طرف اشارہ ضروری ہے کہ تاریخی تجربہ اس امر کی تصدیق کرتا ہے کہ بہت سی قوموں نے اپنے حقوق صرف طویل مزاحمت کے ذریعے ہی حاصل کیے ہیں، اور جو قیمت ادا کی گئی خواہ وہ کتنی ہی سخت کیوں نہ ہو، وہ دراصل مزاحمت کے انتخاب کا نتیجہ کم اور اصل جارحیت کا نتیجہ زیادہ تھی۔ کیونکہ جارحیت اس لیے نہیں رکتی کہ مظلوم خاموشی اختیار کر لے، بلکہ بسا اوقات وہ مزید بڑھ جاتی ہے۔

لیکن اس کے مقابل یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ وہ خطاب جو مقابلے کی دعوت دیتا ہے، اسے اعلیٰ درجے کی ذمہ داری کا حامل ہونا چاہیے، تاکہ وہ محض عمومی نعروں میں تبدیل نہ ہو جائے جن کی قیمت بغیر کسی واضح بصیرت کے ادا کی جائے۔ کیونکہ قرآنی منطق میں مقابلہ کوئی مہم جوئی نہیں، بلکہ ایک سوچا سمجھا موقف ہے، جو حقیقت کے گہرے ادراک اور نتائج کو برداشت کرنے کی تیاری سے جنم لیتا ہے۔

اسی بنا پر دینی اصول صرف نصوص تک محدود نہیں رہتی، بلکہ اس بات تک پھیلتے ہے کہ انہیں عملی زندگی میں کیسے نافذ کیا جائے۔ صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ دفاع واجب ہے، بلکہ یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ یہ دفاع کیسے ہو، کب ہو، کن وسائل کے ساتھ ہو، اور کس درجے پر ہو۔ اس کے لیے ایک جامع اور مضبوط شعور درکار ہے، جو فقہ، سیاست اور معاشرت،تینوں کو یکجا کرے، اور مسئلے کو کسی ایک پہلو تک محدود نہ کر دے۔

خلاصہ کے طور پریہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ سارا اختلاف دراصل ایک گہرے سوال کی عکاسی کرتا ہے۔

 انسان اپنے کردار کو ایک ایسے عالم میں کیسے سمجھتا ہے جو تنازعات سے بھرا ہوا ہے؟ کیا وہ صرف اپنی بقا کا طالب ایک وجود ہے، یا ایسا وجود ہے جو اپنی ذات سے بڑھ کر ایک ذمہ داری اٹھائے ہوئے ہے؟ قرآن دوسرے سوال کی طرف زیادہ مائل ہے، مگر پہلے کو بھی رد نہیں کرتا، بلکہ دونوں کے درمیان توازن قائم کرتا ہے۔

چنانچہ مومن اس بات کا مکلف نہیں کہ وہ بغیر شعور کے خود کو ہلاکت میں ڈال دے، لیکن اسی وقت وہ اس بات میں بھی آزاد نہیں کہ ظلم کو نظر انداز کر دے، جبکہ وہ اس کی مزاحمت کی قدرت رکھتا ہو۔ یہی توازن اس موقف کو پیچیدہ بناتا ہے، مگر اسی کے ساتھ یہ ایک پختہ اور سنجیدہ بصیرت کا دروازہ بھی کھولتا ہے، جو کہ اپنے جوہر کے اعتبار سےنہ صرف خوف سے جنم لیتی ہے اور نہ محض جوش سے، بلکہ مقابلے کی نوعیت اور اس میں انسان کے مقام کے گہرے فہم پر مبنی ہوتی ہے۔ یوں یہ بحث ایک جذباتی مناظرے سے نکل کر ایک علمی سوال میں تبدیل ہو جاتی ہے:  ہم ایسا موقف کیسے تشکیل دیں جو اصول پر ثابت قدمی اور حالات کے شعور، دونوں کو یکجا کرے؟

 ہم دفاع کی ذمہ داری کیسے ادا کریں کہ حکمت بھی برقرار رہے؟  اور ہم یہ کیسے سمجھیں کہ قیمت -چاہے جتنی بھی ہو-اس کا بوجھ اس پر نہیں ڈالا جاتا جو اپنے حق کا دفاع کرتا ہے، بلکہ اس پر ہوتا ہے جو ظلم کی ابتدا کرتا ہے اور اس پر اصرار کرتا ہے؟

جب یہ سوالات اس گہرائی کے ساتھ اٹھائے جاتے ہیں تو وہ تقسیم پیدا نہیں کرتے، بلکہ شعور کو جنم دیتے ہیں اور یہی وہ چیز ہے جس کی امت کو آج پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔


شیئر: