الشيخ مصطفى الهجري
اکثر عرب اور مسلمان مبصرین یہ دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں کہ امریکہ اسرائیل کی اتنی کھل کر حمایت کیوں کرتا ہے؟اس حیرانگی کی وجہ یہ ہے کہ دنیا کی سیاست میں عموماً فیصلے مفادات، حکمتِ عملی اور عالمی توازن کو سامنے رکھ کر کیے جاتے ہیں مگر یہاں یہ جھکاؤ بعض اوقات اس عملی سوچ سے بھی بڑھا ہوا محسوس ہوتا ہے ۔کچھ مواقع پر یہ امریکہ کے اپنے مفادات کے بھی خلاف نظر آتا ہے، اسی لیے اس رویے کو صرف سیاسی اور مالی لابیوں کے اثر سے نہیں سمجھا جا سکتا بلکہ اس کے پیچھے موجود فکری اور مذہبی پس منظر کو بھی دیکھنا ضروری ہے ۔یہ پس منظر امریکی معاشرے کے ایک بڑے حصے کی سوچ کو متاثر کرتا رہا ہے اور جس کا اثر حکومتی فیصلہ سازی پر بھی ہو رہا ہے۔
اس معاملے کو سمجھنے کی ایک اہم کلید وہ نظریہ ہے جسے عیسائی صہیونیت کہا جاتا ہے۔ یہ ایک مذہبی رجحان ہے جو بعض انجیلی پروٹسٹنٹ حلقوں میں پیدا ہوا اور بائبل کی مخصوص لفظی تشریح پر قائم ہے، جس کے مطابق اسرائیل کے قیام کو آخری زمانے کے تصورات اور مسیح کی واپسی سے جوڑا جاتا ہے۔ اس سوچ کے مطابق اسرائیل کو صرف امریکہ کا ایک سیاسی اتحادی نہیں سمجھا جاتا بلکہ اسے ایک الہی منصوبے کا حصہ مانا جاتا ہے جس کی حمایت کرنا اور اس کے حالات کو آگے بڑھانا ضروری سمجھا جاتا ہے۔
یہ تصور ایک عقیدے پر قائم ہے جسے تدبیریت(Dispensationalist) کہا جاتا ہے، یہ ایسا نظریہ ہے جو انسانی تاریخ کو پہلے سے طے شدہ مراحل میں تقسیم کرتا ہے اور کچھ مخصوص پیشگوئیوں کی تکمیل کو دنیا کے خاتمے سے جوڑتا ہے۔ اس مکتبِ فکر کے مطابق یہ ضروری سمجھا جاتا ہے کہ یہودیوں کو فلسطین میں جمع کیا جائے، یروشلم پر مکمل یہودی کنٹرول قائم ہو اور ایسے حالات پیدا کیے جائیں جو آخرکار ایک بڑی فیصلہ کن جنگ کی طرف لے جائیں جسے وہ ہرمجدون کہتے ہیں، اس طرح ان گروہوں کی نظر میں فلسطین کا تنازع محض قبضے، استعمار یا تاریخی حقوق کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ ایک مذہبی شرط بن جاتا ہے جو نجات اور تاریخ کے انجام سے جڑی ہوئی ہے۔
اسی پس منظر کے ساتھ یہ بات سمجھ آتی ہے کہ مسیحی بنیاد پرست سوچ میں اسرائیل کی حمایت ایک عام سیاسی انتخاب نہیں رہی بلکہ ایک طرح کا مذہبی اور مقدس فریضہ بن گئی ہے، اس لیے زمین سے دستبرداری، اسرائیل پر دباؤ ڈالنا یا ایسی سیاسی مفاہمت کو قبول کرنا جس سے اصل باشندوں کو کچھ حقوق واپس ملیں، اس سوچ کے مطابق محض ایک قابلِ بحث سیاسی فیصلہ نہیں بلکہ خود الٰہی مرضی کی مخالفت سمجھا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے ان حلقوں کا مذہبی بیانیہ فلسطین کے مسئلے میں سخت مؤقف کو تقویت دیتا ہے اور کسی بھی ایسی کوشش کی مخالفت کرتا ہے جو منصفانہ حل یا حقیقی امن کی طرف لے جا سکتی ہو۔
امریکی صحافی گریس ہالسل نے اپنی تحقیق میں عقیدہ اور سیاست کے اس گہرے تعلق کو واضح کیا ہے، جس میں انہوں نے انجیلی بنیاد پرستوں اور امریکی پالیسی سازی کے درمیان ربط کا جائزہ لیا، وہ بتاتی ہیں کہ یہ معاملہ صرف گرجا گھروں کی باتوں تک محدود نہیں رہا بلکہ حکومت کے اعلیٰ ترین حلقوں تک پہنچ گیا وہ لکھتی ہیں:صدر رونالڈ ریگن کی اندرونی اور مالی پالیسیاں تورات اور انجیل کی پیشگوئیوں کی لفظی تشریح سے ہم آہنگ تھیں۔ (النبوءة والسياسة، گریس ہالسل، ترجمہ: محمد السماک)، یہ بات اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ بعض اہم فیصلے ہمیشہ ریاستی مفادات سے الگ نہیں ہوتے بلکہ کبھی کبھی حکمران کی مذہبی سوچ سے بھی گہرا تعلق رکھتے ہیں اور اسی کے مطابق تشکیل پاتے ہیں۔
یہ خطرناک سوچ اس وقت مزید واضح ہو جاتی ہے جب عالمی جنگوں پر مبنی مذہبی تصور خود سیاسی نظریہ بن جائے، اس تناظر میں گریس ہالسل ایک اہم بات نقل کرتی ہیں کہ حضرت حزقیال کی پیشگوئی کے مطابق ہرمجدون ایسی دنیا میں ممکن نہیں جو اسلحے سے خالی ہو، اس لیے جو لوگ اس کے وقوع پر یقین رکھتے ہیں اُن سے اسلحہ ختم کرنے کی توقع نہیں کی جا سکتی کیونکہ یہ خدا کی مرضی کے خلاف سمجھا جاتا ہے (حوالہ سابق)،
یہ بات صرف ایک سخت مذہبی تشریح نہیں بلکہ یہ بھی دکھاتی ہے کہ اس طرح کا عقیدہ ایسی سیاسی سوچ پیدا کر سکتا ہے جو اصولی طور پر امن کو قبول نہیں کرتی یا کم از کم اسے کوئی بڑی قدر نہیں سمجھتی کیونکہ امن اُس مقدس منظرنامےکو مؤخر کر دیتا ہے جس کے وقوع کا وہ انتظار کر رہے ہوتے ہیں۔
اخلاقی اور انسانی نقطۂ نظر سے بھی یہ سوچ صرف اسرائیل کی حمایت تک محدود نہیں رہتی بلکہ ایک ایسی درجہ بندی کو جنم دیتی ہے جس میں ایک فریق کو مقدس حیثیت دی جاتی ہے اور دوسرے سے اس کے تاریخی اور انسانی حقوق چھین لیے جاتے ہیں۔ اسی تناظر میں گریس ہالسل انجیلی شدت پسند بیانیے کے حوالے سے لکھتی ہیں کہ یہودی خدا کے برگزیدہ لوگ ہیں، خدا نے انہیں اپنی میراث دی اور مقدس سرزمین عطا کی جبکہ غیر یہودی ان سے کمتر ہیں (حوالہ سابق) اس کو مختلف انداز میں پیش کیا جائے یا اس کے لیے مختلف دلائل دیے جائیں لیکن عملی طور پر اس سوچ کا نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ فلسطینی عوام کو نظرانداز کیا جاتا ہے، ان کے وجود کی حیثیت کو کمزور کیا جاتا ہےاور مغربی سیاسی و میڈیا بیانیے میں انہیں ایک ایسی رکاوٹ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جو مبینہ الہی وعدےکے راستے میں حائل ہے۔
یہ خیالات صرف گرجا گھروں کی تقاریر یا مذہبی کتابوں تک محدود نہیں رہے بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ ایک منظم دباؤ کی قوت بن گئے جو دولت، میڈیا اور عوامی اثر و رسوخ رکھتی ہے۔امریکہ میں بڑی انجیلی تنظیموں نے وسیع پیمانے پر ٹی وی نیٹ ورکس قائم کیے (جیسے پیٹ رابرٹسن اور جیری فالویل کے نیٹ ورکس) اربوں ڈالر کے بجٹ بنائے اور پچاس ملین سے زیادہ ووٹروں پر مشتمل ایک مضبوط انتخابی بنیاد تیار کی،یوں یہ ایک بااثر ووٹ بینک بن گئے جس نے امریکی سیاست دانوں، خاص طور پر ریپبلکن پارٹی کے رہنماؤں کو مجبور کیا کہ وہ ان کے مذہبی جذبات اور مشرقِ وسطیٰ سے متعلق عقائد کا خیال رکھیں۔ نتیجتاً اسرائیل کی حمایت صرف خارجہ پالیسی کا ایک آپشن نہیں رہی بلکہ امریکی انتخابات میں کامیابی کی ایک اہم شرط بن گئی۔
اس اثر و رسوخ کانتیجہ ہے کہ امداد صرف سیاسی اور عسکری میدان تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ براہِ راست عملی میدان تک پھیل گئی ہے، جہاں انجیل کے ماننے والے اداروں اور گروہوں نے آبادکاریوں کے لیے چندہ جمع کرنے میں حصہ لیا اور ایسے منصوبوں کی حمایت کی جو قبضے کو مضبوط کرتے ہیں اور منصفانہ حل کے امکانات کو کم کرتے ہیں۔ اسی طرح اس رجحان نے امریکہ پر اسرائیل کے حوالے سے کسی بھی سنجیدہ دباؤ کی مخالفت میں مرکزی کردار ادا کیا اور امن معاہدوں کی کوششوں کے خلاف اشتعال انگیزی کی، اس عقیدے کی بنیاد پر کہ زمین عربوں کو واپس دینا ان کی مذہبی پیش گوئی کے خلاف ہے اور ان کے خیال میں امن خود بھی الٰہی منصوبے میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔
دوسری جانب یہ مذہبی فکری ڈھانچہ مغربی رائے عامہ کے بعض حلقوں میں عرب اور مسلمان کی تصویر بنانے میں بھی اثر انداز ہوا ہے جہاں انہیں کسی حق رکھنے والے فریق کے طور پر نہیں بلکہ ایک مخالف کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو ایک مبینہ الٰہی منصوبے کے مقابل کھڑا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان مذہبی اور میڈیا پلیٹ فارمز میں جو اس رجحان سے متاثر ہیں، مسلمانوں اور عربوں کے بارے میں منفی اور برا تاثر قائم کیا اور ان کے خلاف تشدد کو ایک بڑے مذہبی بیانیے کے تحت جائز قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے، جس میں انہیں ایک فرضی آخری زمانے کی جنگ میں شر کے کیمپ کا حصہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔
اس مذہبی پس منظر کو سمجھنا ہر اس شخص کے لیے ضروری ہے جو فلسطین کے مسئلے پر امریکی موقف کو دقت سے سمجھنا چاہتا ہے۔ یہ معاملہ صرف ایک عارضی سیاسی اتحاد یا روایتی لابنگ گروہوں کے اثر و رسوخ تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کا ایک حصہ ایک گہرے مذہبی تصور کا نتیجہ بھی ہے جو امریکی عوامی سوچ میں داخل ہو چکا ہے اور پھر آہستہ آہستہ طاقت کے مراکز اور فیصلہ سازی کے اداروں تک پہنچ گیا ہے۔ اسی وجہ سے جب بھی فلسطین کا مسئلہ سامنے آتا ہے تو بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کے اصول اکثر مؤثر طور پر نافذ نہیں ہو پاتےاور امریکی جھکاؤ بعض اوقات خالص سیاسی تجزیے سے سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے۔
اسی لیے مشرقِ وسطیٰ کا تنازع صرف فوجی یا سفارتی دائرے تک محدود نہیں سمجھا جاسکتا کیونکہ اس کے ایک پہلو میں ایک ایسا فکری اور مذہبی ڈھانچہ بھی شامل ہے جو قبضے کو ایک مقدس معنی دیتا ہے، جارحیت کو ایک الٰہی وعدے کی تکمیل کے طور پر پیش کرتا ہے اور صہیونی منصوبے کو نبوت کے لبادے میں دکھاتا ہے۔ اسی لیے عرب اور مسلم محققین کے لیے اس ذہنیت کی نوعیت کو سمجھنا ایک بنیادی قدم ہے۔یہ صرف امریکی طاقت کے رویے کو سمجھنے کے لیے نہیں ہے بلکہ ایک ایسے فکری، عقیدتی اور سیاسی شعور کی تشکیل کے لیے بھی یہ سمجھنا ضروری ہے جو اس انجیلی صیہونیت کے تصور کا مقابلہ کر سکے، اس کی بنیادوں کو واضح کر سکے، اس کے دعووں کا علمی جواب دے سکے اور زمین، مقدسات اور شناخت کے دفاع کو زیادہ شعوری انداز میں آگے بڑھا سکے۔