الشيخ معتصم السيد أحمد
موجودہ مذہبی صورتِ حال میں سب سے زیادہ پریشان کن بات یہ ہے کہ ایمان کی باتیں فکری طور پر کچھ اور ہوتی ہیں لیکن فرد اور معاشرے کا عملی رویہ کچھ اور ہوتا ہے اور ان دونوں کے درمیان فاصلہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ایک طرف عوامی سطح پر مذہبی الفاظ اور اصطلاحات کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ نعرے، خطبات، فتوے اور وعظ و نصیحت کا مواد ہر جگہ نظر آتا ہے، لیکن دوسری طرف یہی باتیں لوگوں کے پر اپنا اثر کھو رہی ہیں اور ان کے فیصلوں کی رہنمائی کرنے یا ایک مضبوط اخلاقی بنیاد بنانے میں ناکام ہوتی جا رہی ہیں۔اس تضاد کو صرف یہ کہہ کر نہیں سمجھا جاسکتا کہ ایمان کمزور ہوگیا ہے یا زمانہ خراب ہے، کیونکہ حقیقت میں اس کی جڑیں اس سے کہیں گہری ہیں۔ اصل مسئلہ خود دینی تعلیمات کی تبلیغ میں مسائل ہیں اور دوسرا ان تبلیغات میں ایمان کو کوئی نیا معنی دیا جا رہا ہے۔
ایک طویل عرصے میں رفتہ رفتہ ایمان کو صرف ایک اندرونی کیفیت یا شناخت سے وابستگی تک محدود کر دیا گیا ہے اسے عملی نظام یا اخلاقی موقف سمجھا ہی نہیں گیا۔ اب اکثر ایمان کی تعریف اس طرح کی جاتی ہے کہ وہ صرف دل سے مان لینے کا نام ہے یا چند ظاہری عبادات کی پابندی کو کہتے ہیں جبکہ اسے انسان کے عملی رویّے اور کردار کے ساتھ مضبوطی سے جوڑا نہیں جاتا۔یہ محدود یت معمولی بات نہیں تھی بلکہ اس کے نتیجے میں ایک دوہرا مذہبی رویہ پیدا ہوا: گفتگو میں مذہبیت اور عمل میں چناؤ پر مبنی مذہبیت۔ یعنی انسان اپنے ایمان کا اعلان تو کرتا ہےلیکن جب وہ ایسا رویہ اختیار کرتا ہے جو اس ایمان کی اصل روح کے خلاف ہو تو اسے اپنے اندر کوئی تضاد محسوس نہیں ہوتا۔
اصل خطرہ خود تضاد کے موجود ہونے میں نہیں ہے، کیونکہ تضاد تو انسانی فطرت کا حصہ ہے بلکہ خطرہ اس بات میں ہے کہ اس تضاد کو دینی شعور کے اندر جائز بنا دیا جائے۔ جب ایمان ایک ایسا خیال بن جائے جسے پرکھا نہ جا سکے تو پھر تقریباً ہر رویّے کا دفاع کرنا ممکن ہو جاتا ہےاور انسان کو اپنے اندر کوئی حقیقی خلش یا خطرہ محسوس نہیں ہوتا۔اسی مقام پر ایمان اپنی اصلاحی کی قوت کھو دیتا ہے۔ وہ انسان کے عمل کی رہنمائی کرنے والی طاقت کی بجائے ایک نفسیاتی پردہ بن جاتا ہےجو صرف احساسِ جرم کو کم کرنے کا کام کرتا ہے، اس سے زیادہ کچھ نہیں۔
اس تناظر میں رائنج دینی تعلیمات ذمہ داری پیدا کرنے کے بجائے زیادہ تر تسلی دینے میں مصروف دکھائی دیتی ہیں۔ رحمت اور مغفرت جیسے تصورات کو ان کی اخلاقی شرطوں سے الگ کرکے پیش کیا جاتا ہے، نیتوں پر نتائج کے مقابلے میں زیادہ زور دیا جاتا ہے، باطن کو ظاہر سے الگ کر کے دیکھا جاتا ہے، گویا عمل ایمان کا حصہ ہی نہ رہا ہو۔ وقت کے ساتھ ایک ایسا دینی شعور بنتا ہے جو عمل کو بنیادی عنصر کے بجائے محض اضافی کمال سمجھنے لگتا ہے حالانکہ قرآن مجید خود عمل کو ایمان کی تعریف کے مرکز میں رکھتا ہے نہ کہ اس کے حاشیے پر کہ جس کا ہونا نہ ہونا برابر ہو۔
(وَقُلِ اعْمَلُوا فَسَيَرَى اللَّهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُ وَالْمُؤْمِنُونَ ۖ وَسَتُرَدُّونَ إِلَىٰ عَالِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ) سورہ توبہ ۱۰۵
اور کہدیجئے: لوگو! عمل کرو کہ تمہارے عمل کو عنقریب اللہ اور اس کا رسول اور مومنین دیکھیں گے اور پھر جلد ہی تمہیں غیب و شہود کے جاننے والے کی طرف پلٹا دیا جائے گا پھر وہ تمہیں بتا دے گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو۔
یہ خرابی خاص طور پر اس وقت واضح ہو جاتی ہے جب مذہبی فکر اقتدار اور دولت کے معاملے میں اپنا رویہ اختیار کرتی ہے۔ ایک طرف زہد، تقویٰ اور عاجزی کی باتیں کثرت سے کی جاتی ہیں اور دوسری طرف ظلم اور استحصال کی مختلف صورتوں کے ساتھ خاموشی سے بلکہ کبھی کھلم کھل سمجھوتا کر لیا جاتا ہے جسے حقیقت پسندی، مفاسد سے بچاؤ یا مفادِ عامہ کے تحفظ جیسے عنوانات دے دیے جاتے ہیں۔ اس مرحلے پر ایمان حقیقت کا محاسبہ کرنے کا معیار نہیں رہتا بلکہ اسے جواز فراہم کرنے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ یوں مذہبی فکر تنقیدی آواز بننے کے بجائے بگاڑ کے ساتھ ہم آہنگی کی ایک کڑی بن جاتی ہے۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ یہی خطاب کمزور یا پسے افراد کے معاملے میں بہت سخت ہو جاتا ہے۔ ان کی غلطیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے اور انہیں اخلاقِ عامہ کے لیے خطرہ قرار دیا جاتا ہےجبکہ جب بڑی خرابیوں کا ارتکاب بااثر یا مالدار لوگ کریں تو ان سے اکثر چشم پوشی کی جاتی ہے۔
اقدار کے اس الٹے چکر کو دینی بنیاد پر سمجھایا نہیں جا سکتا بلکہ یہ دراصل ایمان کو عملی مؤقف سے الگ کر دینے کا براہِ راست نتیجہ ہے۔ جب دین کو طاقت کے ترازو کا تابع بنا دیا جائے، بجائے اس کے کہ وہ خود طاقت کو پرکھنے اور درست کرنے کا معیار ہوتو پھر یہی صورتِ حال جنم لیتی ہے۔
اس سیاق میں عزت نفس کا تصور مرکزی مقام کو کھو دیتا ہے۔ عزت نفس کو اب توحید سے جڑی ایک ایمانی قدر کے طور پر سمجھنے کی بجائے اسے ایک اخلاقی سہولت یا اضافی خوبی کے طور پر دیکھا جاتا ہے جسے ضرورت پڑنے پر قربان کیا جا سکتا ہے۔ فرد سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ ظالم کے ساتھ لچکدار، فاسد کے ساتھ عاقلانہ اور مستبد کے ساتھ حقیقت پسند ہو جبکہ کمزور یا معاشرتی طور پر مختلف افراد کے معاملے میں سخت پابندی اور انضباط کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ یوں دین ایک منظم اور مربوط اخلاقی بصیرت کے بجائے انتخابی معیاروں کا نظام بن جاتا ہے۔
یہ مسئلہ زیادہ تر کسی فرد کے اخلاقی انحراف کا نتیجہ نہیں بلکہ ایمان کے مقصد کی غلط تفہیم کا نتیجہ ہے۔ جب ایمان کو عمل سے الگ کر دیا جاتا ہےتو پھر عدل کی بات بغیر توحید کی جا سکتی ہے،عزت نفس کے بغیر عبادت کی بات ہو سکتی ہےاقتدار کو زیر بحث لائے بغیر اخلاق کی بات ہو سکتی ہے۔یوں دین عملی موقف اور معیار بننے کی بجائے دین گفتگو کا میدان بن جاتا ہے۔
یہاں سے یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ بہت سے دینی افکار باوجود کثرتِ موجودگی کے حقیقی سماجی اثر پیدا کرنے میں کیوں ناکام رہتے ہیں۔ مسئلہ زبان کی کمزوری یا نصوص کی کمی نہیں بلکہ اس تجزیاتی بصیرت کا نہ ہونا ہے جو ایمان اور عمل اور عقیدہ اور حقیقت کے درمیان تعلق کو ظاہر کرے۔ وہی تصورات بار بار پیش کیے جاتے ہیں لیکن ان کی تنقیدی گہرائی ختم کر دی جاتی ہے، جس سے وہ صرف عام شعار بن جاتے ہیں جو کسی کو متاثر کر کے اثر انداز نہیں ہوتے۔
ایمان، اپنے اصل جوہر میں کوئی غیر جانبدار نفسیاتی کیفیت نہیں بلکہ ایک جھکاؤ اور رجحان رکھنے والی قوت ہے: سچ حق ہے طاقت کے مقابلے میں، عدل حق ہے مفاد کے مقابلے میں اور عزت نفس حق ہے خوف کے مقابلے میں۔ جب ایمان کو اس دائرے سے باہر دوبارہ تعریف کر دیا جائے تو وہ بے اثر ہو جاتا ہے، حقیقی محاسبہ کرنے سے عاجز ہو جاتا ہے اور انسان کو ایک دوہری شخصیت اختیار کرنے سے نہیں روک پاتا: گفتگو میں مذہبی لیکن عملی زندگی میں صرف مفاد پرست رہتا ہے۔
آج دینی فکر کو سب سے بڑا خطرہ نہ تو الحاد ہے اور نہ سیکولر رجحانات بلکہ سب سے بڑا خطرہ ایمان کو اس کے عملی معنی سے خالی کر دینا ہے۔ جب دین صرف ایک شناخت تک محدود کر دیا جائے اور عمل سے الگ کر دیا جائےتو وہ حقیقی اخلاقی متبادل پیش کرنے سے عاجز ہو جاتا ہے اور تنقید و تبدیلی کی طاقت کھو دیتا ہے۔ تب سوال یہ نہیں رہتا کہ لوگ دین پر کیوں عمل نہیں کرتے بلکہ اصل سوال یہ بن جاتا ہے: ہم دراصل کون سا دین پیش کر رہے ہیں اور ایمان کی کس تعریف کے ساتھ افراد د کی تربیت کر رہے ہیں؟
اس معنی میں ایمان اب محض ضمیر کا ذاتی معاملہ یا وقتی وعظ و نصیحت کے لیے یاد آنے والا اخلاقی خطاب نہیں رہتابلکہ ایک سماجی عامل بن جاتا ہے جو حقیقت کو پڑھنے، پالیسیوں کا جائزہ لینے، معاشی تعلقات کو منظم کرنے اور سماج میں بنیادی خرابیوں کو درست کرنے کی اپنی مخصوص منطق رکھتا ہے۔ ایمان جب اخلاقی طور عوام پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت کھو دے کسی اور طرح سے طاقت رکھے بھی تو وہ صرف ایک الگ تھلگ ذاتی تجربہ بن جاتا ہے جس کے پاس اثر ڈالنے کے ذرائع اور اصلاح کرنے کی قوت نہیں رہتی۔
جب ایمان معاشرے میں سیاست اور طاقت کا ہمنوا نہیں بنتا اور اپنا فعال کردار برقرار رکھتا ہے تو وہ ایک تنقیدی اور توازن کا کردار ادا کرتا ہے جو ظلم کو بے نقاب کرتا ہے چاہے اس کا ماخذ کچھ بھی ہواور مفاد کی تعریف کو طاقت اور غلبے کے اصولوں سے باہر لے آتا ہے۔ یہاں ایمان حکومتی پروگرام تیار نہیں کرتالیکن سیاسی عمل پر سخت اخلاقی حدود عائد کرتا ہے، ریاست کو غلبے کا ذریعہ بننے سے روکتا ہے، قانون کو بدعنوانی کے پردے میں ڈھالنے سے روکتا ہے اور حقیقت پسندی کو دائمی انحراف کے جواز کے طور پر استعمال ہونے سے باز رکھتا ہے۔
معاشی میدان میں ایمان صرف صدقات یا عمومی اخلاقی دعوتوں تک محدود نہیں رہتابلکہ یہ انسان و دولت کے اور مارکیٹ و عدل کے تعلق کو نئے سرے سے منظم کرنے کا کام کرتا ہے۔ ایمان جو غربت کو ساختی مسئلہ، احتکار کو ظلم اور استحصال کو اخلاقی خلل کے طور پر نہیں دیکھتا، وہ کمزور اور اثر سے خالی ایمان ہے۔ فعال ایمان وہ ہے جو اثر انداز ہوتا ہے: دولت کو سماجی مقصد کے لیے استعمال کرنے، مارکیٹ پر اخلاقی ضوابط عائد کرنے اور ملکیت کو ایسی حد میں رکھنے کے لیے کہ وہ غربت کا ذریعہ نہ بن سکے۔
سماجی میدان میں ایمان انحراف کو محض ایک الگ فرد کی غلطی کے طور پر نہیں دیکھتا بلکہ اسے اس کے ثقافتی، معاشی اور سیاسی سیاق میں سمجھتا ہے۔ فرد کو تنہا ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرایا نہیں جاتا اور وہ نظام جو اس انحراف کو پیدا کرتا ہے اسے بری نہیں قرار دیا جاتا۔ اس معنی میں ایمان الزام لگانے کا ذریعہ نہیں بلکہ تجزیہ اور اصلاح کا ذریعہ بن جاتا ہے اور ایک سطحی اخلاقی درجہ بندی کی بجائے عملی اصلاح کا فریم ورک فراہم کرتا ہے۔
آج ہمیں جس ایمان کی ضرورت ہے وہ ایسا ایمان نہیں جو لوگوں سے صرف محسوس کرنے کو کہا جائےبلکہ وہ ایمان ہے جس پر انہیں سوچنا اور عمل کرنا ہو۔ ایسا ایمان عقیدہ کو عدل سے، عبادت کو عزت نفس سے اور دینداری کو عام ذمہ داری سے دوبارہ جوڑتا ہے۔ جب ایمان یہ کردار دوبارہ حاصل کر لیتا ہے تو وہ مسئلے کا حصہ بننا چھوڑ دیتا ہے اور حل کا حصہ بن جاتا ہے۔سیاست، معیشت یا سماج کا متبادل بن کر نہیں بلکہ اس حوالہ کے طور پر جو یہ یقینی بناتا ہے کہ یہ تمام میدان انسان اور اس کے معنی سے الگ نہ ہوں۔