واپس
کیا عقل صحیح معنوں میں زندگی کی کوئی تفسیر فراہم کرتی ہے ؟

کیا عقل صحیح معنوں میں زندگی کی کوئی تفسیر فراہم کرتی ہے ؟

جب عقل اور دین کی بات آجاتی ہے تو اکثر اسے اس طرح سمجھا جاتا ہے جیسے یہ دنیا کی تشریح کے بارے میں ایک باہمی کشمکش سے عبارت ہو کہ کون زیادہ بہتر وضاحت کر سکتا ہے؟ عقل یا دین ؟ کون علم میں زیادہ سچا ہے؟ عقل یا دین ؟

الشيخ معتصم السيد أحمد

جب عقل اور دین کی بات آجاتی ہے تو اکثر اسے اس طرح سمجھا جاتا ہے جیسے یہ دنیا کی تشریح کے بارے میں ایک باہمی کشمکش سے عبارت ہو کہ کون زیادہ بہتر وضاحت کر سکتا ہے؟

عقل یا دین ؟

کون علم میں زیادہ سچا ہے؟

عقل یا دین ؟

لیکن یہ فہم اس مسئلے کو بہت محدود کر دیتا ہے؛ کیونکہ انسان دنیا میں محض ایک سائنسی مسئلے کے طور پر نہیں جیتا، بلکہ ایک وجودی تجربے کے طور پر جیتا ہے۔ ہم صرف یہ نہیں جاننا چاہتے کہ ہمارے اردگرد کیا ہے، بلکہ یہ بھی سمجھنا چاہتے ہیں کہ ہم اس دنیا میں کیوں زندہ ہیں، اور ہمیں کیوں زندہ رہنا چاہیے۔ لہٰذا اصل مسئلہ یہ نہیں کہ کیا عقل ان وجودات کی تشریح کرسکتی ہے یا نہیں ؟ بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ کیا عقل انسان کے وجود کو معنٰی اور جواز فراہم کر سکتی ہے؟

عقل نے "کیفیت" کے میدان میں اپنی غیر معمولی صلاحیت کو ثابت کر دیا ہے۔ اس نے مادّے کی ساخت کو بے نقاب کیا، سیاروں کی پیدائش کو بیان کیا، اور دماغ، زبان اور سماجی رویّوں کا تجزیہ کیا۔ بلکہ آج ہمارے اردگرد جو کچھ موجود ہے، اس کا بیشتر حصہ دراصل عقل کی اسی کامیابی کا براہِ راست نتیجہ ہے کہ اس نے دنیا کے قوانین کو سمجھا اور ان کو بہترین طریقے سے استعمال کیا۔ لہٰذا عقل کی قدر و قیمت میں شک کرنا یا اس کی اہمیت کو کم کرنا محض ایک وہم ہے؛ کیونکہ کوئی بھی انسان حقیقت کو سمجھنے اور فیصلہ کرنے کے لیے اس پر اعتماد کیے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔

لیکن یہی کامیابی اس کی حدود کو بھی آشکار کرتی ہے۔ عقل اس وقت کامیاب ہوتی ہے جب ہمارا سوال یہ ہو کہ: کوئی چیز کیسے وجود میں آئی؟

مگر جب سوال یہ بن جائے کہ: ایسا کیوں ہوا ،یا ایسا کیوں ہونا چاہئے؟

تو یہاں آ کر سائنس رک جاتی ہے۔

وہ درد کے طریقۂ کار کو بیان کرتا ہے، مگر یہ نہیں بتاتا کہ میں درد کیوں برداشت کروں۔

سائنس یہ واضح کرتی ہے کہ اخلاق سماجی طور پر کیسے وجود میں آئے، مگر یہ جواب نہیں دیتی کہ جب اخلاق میرے مفاد سے ٹکرا جائیں تو مجھے اخلاق کو ترجیح کیوں دینی چاہئے ۔

وہ یہ سمجھاتی ہے کہ سچائی اجتماعی اعتماد کو کیسے برقرار رکھتی ہے، مگر جب جھوٹ زیادہ کامیاب ہو تو سچ بولنے کی کوئی لازمی اور پابند کرنے والی وجہ فراہم نہیں کرتی۔

یہاں آکر ہمیں دنیا کی تشریح کرنے اور اس میں جینے کے جواز کے درمیان فرق سمجھ آتا ہے۔ عقل وضاحت تو کرتی ہے، مگر وجودی علت بیان نہیں کرتی۔اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ ہر خالص عقلی اخلاقی نظام، خواہ وہ کتنا ہی مربوط اور مضبوط دکھائی دے، بالآخر ضرورت (وجوب) نہیں بلکہ امکان پر منتج ہوتا ہے۔ وہ تم سے کہتا ہے: عادل ہونا بہتر ہے، کیونکہ عدل معاشرے کے لیے مفید ہے۔ لیکن اگر تم ظلم سے فائدہ اٹھا سکو اور تمہارے اردگرد کا معاشرہ بھی منہدم نہ ہو، تو عقل میں تمہیں قطعی طور پر روکنے والی کوئی چیز نہیں ملے گی۔ معاملہ ایک انتخاب رہے گا، کوئی لازمی حقیقت نہیں۔

انسان اپنی فطرت میں محض نفع پر مبنی انتخاب پر اکتفا نہیں کرتا، بلکہ معنی بھی تلاش کرتا ہے۔ اسے یہ احساس چاہیے کہ خیر صرف ایک مفید سماجی نظم نہیں، بلکہ خود وجود کی ساخت کا حصہ ہے۔ اسے یہ اطمینان درکار ہے کہ عدل کوئی قابلِ تبدیلی انسانی معاہدہ نہیں، بلکہ انسانی خواہشات سے بھی گہری ایک حقیقت ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں جدید تہذیب میں وجودی اضطراب جنم لیتا ہے۔

دنیا کی تشریح میں حیرت انگیز پیش رفت، مگر زندگی کے معنی کے باب میں گہرا انتشار۔ سائنسی علم نے ہزاروں سوالوں کے جواب دے دیے، لیکن اس نے سب سے بڑے سوال کو ختم نہیں کیا: میں کیوں زندہ ہوں؟

اور جب انسان کو اکیلا چھوڑ دیا جائے کہ وہ خود اپنے لیے معنی تخلیق کرے، تو معنی ایک نفسیاتی منصوبہ بن جاتا ہے، کوئی معروضی حقیقت نہیں رہتا۔ یعنی انسان اپنے لیے کوئی ہدف اس لیے مقرر کرتا ہے کہ اسے اس کی ضرورت ہے، نہ کہ اس لیے کہ وہ اس سے بڑی کسی حقیقت میں پیوست ہو۔ یہی وہ کمزوری ہے کہ جس معنی کو میں خود بنا سکتا ہوں، اسے میں خود مٹا بھی سکتا ہوں۔ اس طرح یہ معنی پہلے بڑی صدمے، کسی ناقابلِ فہم درد، یا ایسے ظلم کے سامنے جو کبھی پورا نہ ہو سکے، فوراً منہدم ہو سکتا ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں دین عقل کا متبادل بن کر نہیں، بلکہ اس کا مکمل کرنے والا بن کر سامنے آتا ہے، ایسے میدان میں جہاں عقل تنہا داخل نہیں ہو سکتی۔ دین انسان کو یہ بتانے نہیں آتا کہ کہکشائیں کیسے گردش کرتی ہیں، بلکہ یہ بتانے آتا ہے کہ اس کائنات میں انسان کو کس رخ پر جینا چاہیے۔ وہ سوال کو دنیا کیسے کام کرتی ہے؟ سےاس دنیا میں میرا ہونا کیا معنی رکھتا ہے؟ کی طرف موڑ دیتا ہے ۔

ان دونوں کے درمیان بنیادی فرق یہ ہے کہ عقل وجود کے اندر سے آغاز کرتی ہے اور اس کا تجزیہ کرتی ہے، جبکہ ایمان وجود کو ایسے معنی سے جوڑتا ہے جو اس سے ماورا ہو۔ یوں خیر ایک عملی انتخاب سے بڑھ کر حقیقت کے ساتھ ہم آہنگی بن جاتا ہے، صبر محض مجبوری کا بوجھ نہیں رہتا بلکہ راستے میں درد کی جگہ کو سمجھنے کا شعور بن جاتا ہے، اور خود موت بھی ایک ایسا واقعہ بن جاتی ہے جس کا ایک مقام اور معنی ہو، نہ کہ ایک عبث اور بے ربط انقطاع۔

اسی لیے انسان ظاہری عمل کے اعتبار سے دین کے بغیر تو جی سکتا ہے، لیکن ایمان کے بغیر ، یعنی کسی برتر اور ماورائی معنی سے وابستگی کے بغیر ، نہیں جی سکتا۔ یہاں تک کہ جو شخص صریح دین کو رد کرتا ہے، وہ بھی متبادل تلاش کرتا ہے، وہ انسانیت کو تقدیس دیتا ہے، یا تاریخ کو، یا ترقی کو، یا مطلق آزادی کو، یا فن کو، یا اپنی ذاتی رسالت کو۔ یہ انسان کی غلطیاں نہیں، بلکہ اسی خلا کو پُر کرنے کی لاشعوری کوششیں ہیں؛ کیونکہ انسان کی فطرت میں یہ بات پیوست ہے کہ اس کا وجود اس سے بڑی کسی حقیقت سے جڑا ہونا چاہیے۔ لیکن فرق یہ ہے کہ بنایا ہوا معنی ہمیشہ نظرِ ثانی کے قابل رہتا ہے، جبکہ دریافت کیا ہوا معنی انسان کو اطمینان عطا کرتا ہے۔

پہلا معنی نفسی ارادے سے تشکیل پاتا ہے، اور دوسرا خود حقیقت کی ساخت سے اخذ کیا جاتا ہے۔

یہاں آکر ہم سمجھتے ہیں کہ اصل سوال یہ نہیں کہ عقل یا دین؟ بلکہ یہ ہے کہ: کیا معنی محض غور و فکر کا نتیجہ ہے، یا وہ ایک ایسی بنیاد ہے جو خود فکر کی رہنمائی کرتی ہے؟

اگر معنی کا واحد منبع عقل ہو، تو انسان ہی ہر چیز کا آخری پیمانہ بن جاتا ہے، اور پھر اس کی خواہشات سے بلند کوئی معنی باقی نہیں رہتا، سوائے اس کے جسے وہ خود طے کرے۔ لیکن اگر معنی اس سے پہلے اور اس سے ماورا موجود ہو، تو عقل اس کے اندر اپنی جگہ کو دریافت کرنے کا ذریعہ بنتی ہے، نہ کہ اسے تخلیق کرنے والی۔ یوں عقل اقدار کی قانون ساز نہیں رہتی، بلکہ انہیں سمجھنے والی بنتی ہے؛ اور مقصد وضع کرنے والی نہیں، بلکہ اس کے رخ کو دریافت کرنے والی بن جاتی ہے۔

اس تناظر میں ایمان سوچ کی نفی نہیں، بلکہ اس بات کا اعتراف ہے کہ خود سوچ بھی اپنے ماورا کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ چنانچہ جب عقل اپنی حدود تک پہنچتی ہے تو وہ رکتی نہیں، بلکہ یہ سوال اٹھاتی ہے: سرے سے حدود موجود ہی کیوں ہیں؟ اور اگر سارا وجود نسبی ہے تو میں مطلق کی تلاش کیوں کرتا ہوں؟ یہی باطنی کشمکش ایمان کو ایک سچی اور دیانت دار عقل کا فطری تسلسل بنا دیتی ہے، نہ کہ اس کے خلاف کوئی دیوار


شیئر: