دینی شعور کی درست سمت میں تشکیلِ نو کا راستہ کیا ہے؟
شيخ معتصم السيد احمد
عہدِ حاضر میں عالمِ اسلام کا بنیادی مسئلہ دینداری کی کمی نہیں، کیونکہ عمومی منظر اس کے برعکس دکھائی دیتا ہے۔ مساجد آباد ہیں، مذہبی تقریبات بھرپور انداز میں منعقد ہوتی ہیں، اور زبانی ایمان روزمرہ زندگی میں زندہ ہے۔ حتیٰ کہ عوامی مباحث اور سماجی گفتگو بھی دینی نصوص اور تصورات سے خالی نہیں۔ اس کے باوجود یہ نمایاں مذہبی موجودگی تہذیبی کمزوری اور فکری بے اثری کو روک نہ سکی۔ ایک عمومی احساس یہ ہے کہ امت تاریخ کے مرکز میں فعال کردار ادا کرنے کے بجائے اس کے کنارے پر کھڑی ہے۔ یہاں اصل سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب دین زندگی کے ہر پہلو میں موجود ہے تو پھر وہ زندگی کی تشکیل، رہنمائی اور سمت متعین کرنے میں مؤثر کیوں نہیں دکھائی دیتا؟
اس مسئلے کا جواب دینداری کی کمی میں نہیں بلکہ اس کی فکری سمت کے انحراف میں پوشیدہ ہے۔ طولِ تاریخ دین کی ایسی تعبیر غالب آئی جس نے اسے اجتماعی ذمہ داری اور تمدنی قیادت کے بجائے فرد کی اخروی نجات تک محدود کر دیا۔ یوں دینداری کا مرکز امانتِ خلافت اور سماجی کردار سے ہٹ کر ذاتی سلامتی اور انفرادی پارسائی پر منتقل ہو گیا۔ انسان نے یہ سوال چھوڑ دیا کہ اس کے وجود کا مقصد کیا ہے اور اسے دنیا میں کیا ذمہ داری ادا کرنی ہے، اور اس کی جگہ اپنی نجات کو بنیادی فکر بنا لیا۔ نتیجتاً دینی مفاہیم اور اخلاقی معیار اسی انفرادی سوچ کے گرد ترتیب پانے لگے، حتیٰ کہ صلاح کا مفہوم اجتماعی عدل اور فعال کردار کے بجائے صرف ذاتی نیکی تک محدود ہو کر رہ گیا۔
اس فکری انحراف کے نتیجے میں دین اپنی اصل حیثیت، بطور کائنات کی تعبیر اور تاریخ کو حرکت دینے والی قوت سے دور ہو کر محض نفسیاتی سہارا اور حالات سے مفاہمت کا ذریعہ بن گیا۔ جو دین ظلم کو بے نقاب کرتا اور معاشرے کو عدل کے معیار پر پرکھتا تھا، وہ فرد کی داخلی تسکین اور ذاتی بقا تک محدود ہو گیا۔ دیندار سے اب یہ توقع نہ رہی کہ وہ ناانصافی کے خلاف کھڑا ہو، بلکہ صرف یہ کہ وہ بگڑے ماحول میں اپنی پاکیزگی بچائے۔ یوں بحران کا مفہوم بھی بدل گیا؛ اصل مسئلہ اجتماعی ظلم نہیں بلکہ فرد کے سکون میں خلل سمجھا جانے لگا۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں زوال خاموشی سے جنم لیتا ہے۔دین کو چھوڑ کر نہیں، بلکہ اس کے مفاہیم کی تدریجی تبدیلی کے ذریعے، جہاں الفاظ باقی رہتے ہیں مگر ان کی روح بدل جاتی ہے۔
ان گہری تبدیلیوں کا پہلا اثر اطاعت کے مفہوم پر پڑا۔ اصل میں اطاعت کا مطلب تھا شعور کے ساتھ حق کا ساتھ دینا، چاہے وہ رائج سوچ یا معاشرتی دباؤ کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ مگر آہستہ آہستہ اس کا مفہوم بدل کر محض خاموش رہنے، اختلاف سے بچنے اور ماحول میں خلل نہ ڈالنے تک محدود ہو گیا۔ اب انسان کو اس لیے مطیع سمجھا جانے لگا کہ وہ اعتراض نہیں کرتا، نہ کہ اس لیے کہ وہ عدل کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔ یوں اطاعتِ خدا اور اطاعتِ حالات کے درمیان فرق دھندلا گیا؛ حالانکہ پہلی کا تعلق اصولوں سے وفاداری اور حق پر ثابت قدمی سے ہے، جبکہ دوسری صرف حالات کے مطابق خود کو ڈھال لینے کا نام ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ انسان خود کو دین کا پابند سمجھتا رہا، لیکن حقیقت میں وہ دین کو اپنی سہولت اور سکون کے مطابق ڈھالتا چلا گیا۔
جب مفہوم کی جہت بدل دی جائے تو استبداد کو نہ کھلے جبر کی حاجت رہتی ہے نہ عریاں قوت کے استعمال کی؛ اطاعت کو ایک سادہ اخلاقی وصف بنا دینا ہی اس کے دوام کے لیے کافی ہو جاتا ہے۔ جب اطاعت کو حق سے وابستگی کے بجائے نظم و ضبط، خاموشی اور تابع داری سے جوڑ دیا جائے تو خضوع خود بخود دینداری کا مترادف بن جاتا ہے۔ یوں طاقت کو لوگوں کو دبانے کے لیے زیادہ زور نہیں لگانا پڑتا، کیونکہ ذہن پہلے ہی آمادہ ہو چکا ہوتا ہے۔ ایسے مرحلے پر غلطی سے انکار کرنا بے احتیاطی یا شدت پسندی محسوس ہونے لگتا ہے، جبکہ خاموشی کو حکمت اور برداشت کا نام دیا جاتا ہے۔ احتجاج کو عدمِ توازن اور جذباتیت سمجھا جاتا ہے، اور سوال اٹھانا بدتمیزی۔ اس طرح آہستہ آہستہ اقدار کا پیمانہ بدل جاتا ہے: حق کے لیے کھڑا ہونا خطرہ بن جاتا ہے اور حالات کے ساتھ بہہ جانا دیانت۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں زوال شور کے ساتھ نہیں بلکہ مفاہیم کی خاموش تبدیلی کے ذریعے وقوع پذیر ہوتا ہے۔
پھر دوسرے مرحلے میں سب سے گہرا اور خطرناک انحراف فتنہ کے مفہوم میں واقع ہوا۔ ایک زمانہ تھا جب فتنہ کا اطلاق اس حالت پر ہوتا تھا جہاں عدل کا توازن ٹوٹ جائے، حق دب جائے اور ظلم کو قوت حاصل ہو جائے؛ مگر بتدریج اس کا معنی بدل کر ہر اس کیفیت پر منطبق کر دیا گیا جو موجودہ سکون، معمول کی ترتیب یا اجتماعی آرام میں خلل ڈال دے۔ یوں ظلم خود فتنہ نہ رہا، بلکہ اس کے خلاف اٹھنے والی آواز فتنہ قرار پانے لگی۔ اصلاح کی ہر سنجیدہ کوشش کو اضطراب پیدا کرنے کا الزام دیا گیا، جبکہ خود انحراف کی بقا کو “استحکام” کے نام پر برداشت کر لیا گیا۔ اس مسلسل تعبیر نے شعور میں ایک معکوس حساسیت پیدا کر دی: معاشرہ ناانصافی کے وجود پر اتنا مضطرب نہیں ہوتا جتنا اس کے ازالے کی قیمت پر۔ نتیجہ یہ نکلا کہ بیماری معمول بن گئی اور علاج خطرہ؛ ظلم قابلِ تحمل ٹھہرا اور اس کے خلاف مزاحمت قابلِ اعتراض۔ یوں فتنہ کا خوف عدل کے قیام سے زیادہ اس کی کوشش سے وابستہ ہو گیا، اور اقدار کا پیمانہ اس درجہ الٹ گیا کہ سکوت کو سلامتی اور حرکت کو خطرہ سمجھا جانے لگا۔
یوں بتدریج ایک ایسی تہذیبی فضا تشکیل پاتی ہے جس میں خطا کی بقا کو اس کی اصلاح کی قیمت سے ہلکا سمجھا جانے لگتا ہے۔ یہ اس لیے نہیں کہ دل ظلم سے مانوس ہو جاتے ہیں، بلکہ اس لیے کہ شعور کو یہ باور کرا دیا جاتا ہے کہ عافیت، معنی سے زیادہ قیمتی ہے؛ سکون، سچائی سے زیادہ ضروری ہے؛ اور بقا، موقف سے زیادہ دانشمندانہ انتخاب ہے۔ یہاں سے اخلاقی زوال کی وہ خاموش ابتدا ہوتی ہے جو نعروں یا اعلانات کے بغیر دلوں کی ترجیحات بدل دیتی ہے۔ کوئی صراحتاً باطل کا دفاع نہیں کرتا، مگر حق کی حمایت بھی ایک نایاب عمل بن جاتی ہے۔ انکار ممنوع نہیں ہوتا، مگر غیر معمولی ضرور ہو جاتا ہے۔
تیسرا اور نہایت اہم انحراف عبادت کے مفہوم میں پیدا ہوا۔ عبادت، جو انسان کی باطنی تربیت، اخلاقی تطہیر اور عملی تیاری کا جامع نظام تھی، آہستہ آہستہ اپنی تحریکی روح سے جدا ہو کر صرف روحانی پناہ گاہ بن گئی۔ نماز، جو استقامت اور شعور کی تنظیم کی مشق تھی، وقتی سکون کا ذریعہ بن گئی۔ روزہ، جو ارادے کی مضبوطی اور خواہشات پر قابو کی تربیت تھا، جذباتی تجربہ رہ گیا، اور ذکر، جو ضمیر کو بیدار رکھتا تھا، محض داخلی سکون سمجھا جانے لگا۔ یوں عبادت کی اصلاحی قوت کمزور پڑ گئی۔ اقدار مسجد تک محدود رہیں اور زندگی میں منتقل نہ ہو سکیں۔ نتیجتاً ایک خاموش دوئی پیدا ہوئی: عبادت میں صفائی، مگر عملی زندگی میں جمود۔ روحانیت باقی رہی، مگر اس کی تبدیلی آفرینی ختم ہوتی گئی۔
اس نوع کا تدیّن اگرچہ کسی نمایاں بدعنوان انسان کو جنم نہیں دیتا، بلکہ ظاہراً ایک ایسے صالح فرد کو پیدا کرتا ہے جو اپنی تمام نیکی کے باوجود تاریخ میں کوئی وزن پیدا نہیں کر پاتا۔ آشکارا فساد اور معطل اصلاح میں یہی بنیادی امتیاز ہے کہ پہلا اپنے تضاد سے دوچار رہتا ہے، اپنے بگاڑ کا سامنا کرتا ہے اور کسی نہ کسی سطح پر اضطراب محسوس کرتا ہے؛ جب کہ دوسرا اپنے ضمیر کے اطمینان میں مطمئن ہو کر رک جاتا ہے۔ وہ خود کو جواب دہی سے بری نہیں سمجھتا، مگر یہ گمان ضرور رکھتا ہے کہ اس نے اپنی ذمہ داری ادا کر دی ہے۔ یہی اطمینان سب سے گہرا حجاب بن جاتا ہے، کیونکہ جہاں احساسِ کمی باقی نہ رہے وہاں حرکت کی ضرورت بھی محسوس نہیں ہوتی۔ یوں دین ایک بیدار کرنے والی قوت کے بجائے تسلی دینے والا نظام بن جاتا ہے، ایک ایسا معنوی حصار جو انسان کو اندر سے مطمئن رکھتا ہے، مگر باہر کی دنیا میں تبدیلی کا محرک نہیں بنتا۔ نتیجتاً ایمان موجود رہتا ہے مگر اس کی حرارت سماجی تغیرات اور تحولات کو نہیں چھیڑتی، عبادت قائم رہتی ہے مگر اس کا اثر کردار سے آگے نہیں بڑھتا، اور دینداری محفوظ رہتی ہے مگر اس کی توانائی عمل اور تاریخ میں کوئی فیصلہ کن نقش ثبت نہیں کر پاتی۔
وقت کے ساتھ اجتماعی اصلاح اور انقلاب کا تصور سکڑتا گیا۔ دین، جو زندگی کے ہر پہلو میں ذمہ داری کا شعور دیتا تھا، صرف ذاتی نجات تک محدود سمجھ لیا گیا۔ توجہ اس بات پر مرکوز ہو گئی کہ میں اپنی آخرت کیسے سنواروں؟ جبکہ یہ سوال پسِ پشت چلا گیا کہ معاشرے میں انصاف، خیر اور اصلاح کے قیام میں میرا کیا حصہ ہے؟یوں تہذیبی شعور بھی کمزور پڑ گیا۔ یہ احساس مدھم ہو گیا کہ ایک امت صرف عبادت گزار افراد کا مجموعہ نہیں، بلکہ تاریخ میں ایک اخلاقی معیار اور عملی نمونہ بھی ہوتی ہے۔نتیجہ یہ نکلا کہ فرد نیک تو ہے، مگر بے اثر ہے۔ وہ اقدار پر ایمان رکھتا ہے، مگر انہیں اجتماعی زندگی میں نافذ کرنے کی ذمہ داری محسوس نہیں کرتا۔ اس کا ایمان اس کے دل کو روشن رکھتا ہے، مگر معاشرے کی سمت بدلنے کی قوت پیدا نہیں کرتا۔
یہیں سے ایک ایسے انسان کا نمونہ ابھرتا ہے جو بظاہر کامل توازن کا حامل دکھائی دیتا ہے: دل مطمئن، عبادات منظم، کردار ذاتی دائرے میں صاف، مگر حقیقتِ حال سے کم سے کم تعلق رکھنے والا۔ وہ اپنی اصلاح میں سنجیدہ ہوتا ہے، مگر خود کو دنیا میں عدل کے قیام کا ذمہ دار نہیں سمجھتا۔ اس کے نزدیک دینداری کا مطلب اپنی ذات کو سنبھالنا ہے، نہ کہ بگڑے ہوئے حالات کو بدلنا۔ یوں وہ اپنی جگہ صالح رہتا ہے، مگر اپنے ماحول کے لیے غیر مؤثر۔ یہی وہ طرزِ شخصیت ہے جس کی ہر ظالمانہ ساخت کو ضرورت ہوتی ہے: ایسا فرد جو نہ اس کا دفاع کرے، نہ اس کے خلاف اٹھ کھڑا ہو، بلکہ اسے نظر انداز کر کے اپنی داخلی دنیا میں پناہ لے لے۔ وہ تصادم سے بچتا ہے، سوال سے گریز کرتا ہے، اور یوں غیر شعوری طور پر موجودہ حالت کو برقرار رکھنے میں حصہ دار بن جاتا ہے۔ نتیجتاً نظام کو مزاحمت کا سامنا نہیں ہوتا، اور حقیقت اپنی جگہ جمی رہتی ہے، بغیر چیلنج ہوئے، بغیر بدلے ہوئے۔
عام لوگوں کے شعور میں تقدیر پر ایمان کی تعبیر بھی بتدریج بدل گئی۔ اصل میں تقدیر نتائج کی توضیح تھی، نہ کہ کوشش سے دستبرداری کا جواز؛ انسان پہلے اختیار کے ساتھ عمل کرتا ہے، پھر انجام کو اللہ کی حکمت پر چھوڑ دیتا ہے۔ مگر آہستہ آہستہ یہ ترتیب الٹ گئی: تقدیر کو نتیجے کے بعد سمجھنے کے بجائے عمل سے پہلے پیش کیا جانے لگا۔ یوں “لکھا ہوا ہے” کا تصور اقدام کی جگہ لینے لگا، اور انسان نے کوشش ترک کر کے اسے رضا و تسلیم کا نام دے دیا۔
اسی فکری دائرے میں آ کر عجز ایک معذرت نہیں بلکہ قابلِ قبول رویّہ بن جاتا ہے، اور کبھی کبھار اسے دانائی کا نام بھی دے دیا جاتا ہے۔ تسلیم اور انخلا کے درمیان فرق مدھم پڑ جاتا ہے؛ رضا بالقضا کو خاموش کنارہ کشی کے ساتھ خلط ملط کر دیا جاتا ہے۔ انسان یہ باور کرنے لگتا ہے کہ حالات کو بدلنے کی کوشش غیر ضروری خطرہ ہے، جبکہ خود کو سنبھال لینا ہی کافی کامیابی ہے۔ رفتہ رفتہ ایسا شعور تشکیل پاتا ہے جو تغیر کو بے احتیاطی اور سکون کو حکمت سمجھتا ہے۔ اس کے نزدیک اصل ذمہ داری اپنی ذات کی درستی ہے، چاہے اجتماعی زندگی میں بے اعتدالی برقرار رہے۔ یوں اصلاحِ نفس اور اصلاحِ واقع کے درمیان تعلق ٹوٹ جاتا ہے، اور دینداری ایک داخلی اطمینان تک محدود ہو جاتی ہے، ایسی کیفیت جو دل کو مطمئن تو رکھتی ہے، مگر دنیا کو بہتر بنانے کی تڑپ پیدا نہیں کرتی۔
امت کے شعور کی حقیقی تجدید نہ جذباتی نعروں سے ممکن ہے اور نہ معلومات کے اضافے سے؛ اس کا آغاز ان بنیادی تصورات کی گہری اصلاح سے ہوتا ہے جنہوں نے سوچ اور عمل دونوں کی سمت متعین کر رکھی ہے۔ ضروری ہے کہ اطاعت کو محض موجودہ صورتِ حال سے ہم آہنگی نہیں بلکہ قدر اور حق سے وابستگی سمجھا جائے؛ فتنہ کو سکون کے ٹوٹنے کے بجائے عدل کے بکھرنے سے تعبیر کیا جائے؛ عبادت کو وقتی روحانی آسائش نہیں بلکہ اخلاقی تیاری، کردار سازی اور ارادے کی مضبوطی کا ذریعہ سمجھا جائے؛ نجات کے سوال کو امانت اور ذمہ داری کے سوال سے جوڑا جائے؛ اور تقدیر کو عمل کے بعد سہارا مانا جائے، نہ کہ عمل سے پہلے عذر۔ جب یہ مفاہیم اپنی اصل معنویت کے ساتھ بحال ہوں گے تو دینداری محض فرد کے باطن کو مطمئن رکھنے کا ذریعہ نہیں رہے گی، بلکہ ایک بیدار اخلاقی قوت بن جائے گی، ایسی قوت جو انسان کو ذمہ دار بناتی ہے، اسے حق کے لیے کھڑا کرتی ہے، اور اس کے ذریعے معاشرے اور تاریخ دونوں کی سمت بدلنے کی صلاحیت پیدا کرتی ہے۔
تب لوگوں کو حرکت پر اکسانے کے لیے مسلسل خطابت یا نعروں کی ضرورت نہیں رہے گی، کیونکہ وہ کردار کے بغیر جینا اپنے وجود کی نفی سمجھیں گے۔ اقدام کوئی غیر معمولی جرأت یا استثنائی بہادری نہیں ہوگا، بلکہ درست فہم کا لازمی اور فطری اظہار بن جائے گا۔ موقف اختیار کرنا جذباتی ردِّعمل نہیں بلکہ شعوری دیانت قرار پائے گا۔ انسان اس حقیقت کو پا لے گا کہ دین نے اسے دنیا سے بچ نکلنے کا راستہ نہیں دیا، بلکہ اسی دنیا میں ایک باوقار ذمہ داری سونپی ہے؛ اسے پناہ نہیں، مقصد عطا کیا ہے۔ تب وہ جان لے گا کہ حقیقی طمأنیت کنارہ کشی سے پیدا نہیں ہوتی، بلکہ اس گہری ہم ا ٓہنگی سے جنم لیتی ہے جہاں ایمان اور عمل ایک دوسرے کی تصدیق کرتے ہوں، جہاں یقین صرف دل میں نہ رہے بلکہ زندگی کی سمت بھی متعین کرے۔ اسی ہم آہنگی میں سکون کی پائیداری ہے، اور اسی میں انسان کے وجود کا وزن، وقار اور تاثیر پوشیدہ ہے۔
جب اندر کی یہ فکری و اخلاقی ساخت بدلتی ہے تو بظاہر حالات وہی رہتے ہیں، مگر حقیقت میں سب کچھ بدل چکا ہوتا ہے۔ کیونکہ نہضت اس دن شروع نہیں ہوتی جب کسی قوم کے پاس زیادہ وسائل آ جائیں، بلکہ اس لمحے جنم لیتی ہے جب انسان اپنے وجود اور اپنے کردار کی نئی تعریف کر لیتا ہے۔ طاقت ہمیشہ شعور کے بعد آتی ہے، اس سے پہلے نہیں۔ جب فرد یہ سمجھ لے کہ ایمان صرف اس کی ذاتی نجات کا پروانہ نہیں بلکہ اس کے وجود پر عائد ایک ذمہ داری ہے، ایک امانت جس کا تقاضا عمل، موقف اور اثر ہے۔ تو اس کی دنیا کی تعبیر بدل جاتی ہے۔ تب اسے احساس ہوتا ہے کہ مسئلہ امکانات کی کمی نہیں تھی، بلکہ نگاہ کی تنگی تھی؛ رکاوٹ وسائل کی قلت نہیں بلکہ معنی کی محدودیت تھی۔ اور جیسے ہی انسان اپنے فہم کو وسعت دیتا ہے، ویسے ہی امکانات اس کے سامنے نئے دروازے کھولنے لگتے ہیں، کیونکہ تاریخ ہمیشہ ان کے لیے جگہ بناتی ہے جو اپنے کردار کو سمجھ لیتے ہیں۔
تب دین دوبارہ زندگی کی طاقت بن جاتا ہے، صرف دل کو تسلی دینے والا سہارا نہیں رہتا۔ وہ انسان کو حالات سے بھاگنے نہیں دیتا، بلکہ انہیں بہتر بنانے کی ہمت دیتا ہے۔ ایمان صرف ایک اندرونی احساس نہیں رہتا، بلکہ عمل کی سمت بن جاتا ہے۔ عبادت چند پرسکون لمحوں تک محدود نہیں رہتی، بلکہ کردار کو مضبوط کرتی ہے اور ذمہ داری کا شعور جگاتی ہے۔ پھر انسان خود کو وقت کا تماشائی نہیں سمجھتا، بلکہ اس کا حصہ بن جاتا ہے۔ یوں دین زندگی سے الگ کوئی چیز نہیں رہتا، بلکہ زندگی کو معنی دینے اور اسے سنوارنے کی قوت بن جاتا ہے۔