واپس
یہودیت و مسیحیت کے تجزیے میں قرآن کا معجزہ۔۔۔ تیسری قسط

یہودیت و مسیحیت کے تجزیے میں قرآن کا معجزہ۔۔۔ تیسری قسط

گزشتہ مقالے میں ہم نے یہ بیان کیا تھا کہ پچھلی دو صدیوں میں عام مستشرقین اس بات پر متفق رہے ہیں کہ قرآنِ کریم میں اہلِ کتاب (یہود و نصاریٰ کی دینی روایات) کے بارے میں جو خبریں اور تنقید پائی جاتی ہے، وہ اس وجہ سے ہے کہ اسلام ایک عیسائی ماحول میں ظاہر ہوا۔ انہوں نے اس دعوے کو مختلف الفاظ میں بیان کیا، مگر مفہوم سب کا ایک ہی تھا۔

الشيخ مصطفى الهجري

گزشتہ مقالے میں ہم نے یہ بیان کیا تھا کہ پچھلی دو صدیوں میں عام مستشرقین اس بات پر متفق رہے ہیں کہ قرآنِ کریم میں اہلِ کتاب (یہود و نصاریٰ کی دینی روایات) کے بارے میں جو خبریں اور تنقید پائی جاتی ہے، وہ اس وجہ سے ہے کہ اسلام ایک عیسائی ماحول میں ظاہر ہوا۔ انہوں نے اس دعوے کو مختلف الفاظ میں بیان کیا، مگر مفہوم سب کا ایک ہی تھا۔

اسی ضمن میں معروف امریکی مستشرق سڈنی گرفِتھ نے، تود لاوسن کی کتاب "صلب المسیح فی القرآن " کے مقدمے میں، مشہور فرانسیسی مستشرق لوئی ماسینیون (1883–1962) کا یہ قول نقل کیا کہ: "میرے خیال کے مطابق قرآن کو بجا طور پر کتاب مقدس کا ادھورا عربی نسخہ کہا جا سکتا ہے"انہوں نے مزید کہا کہ: "قرآن کی نسبت کتابِ مقدس سے وہی ہے جو اسماعیل کو اسحاق سے ہے۔"

اور حقیقت یہ ہے کہ قرآن کا سرسری مطالعہ بھی یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنے مخاطبین سے یہ توقع رکھتا ہے کہ انہیں یہود و نصاریٰ کی مقدس کتابوں ، یعنی تورات، انبیاء کی کتب، زبور اور انجیل، کا کچھ نہ کچھ علم ہو۔

مزید برآں، قرآن کا متن یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ اسے یہودی و عیسائی روایات کے مختلف پہلوؤں، نیز ان کے عقائد اور مذہبی اعمال کے بارے میں وسیع آگاہی حاصل ہے۔

قرآن کا اہلِ کتاب، ان کی آسمانی کتابوں، عقائد اور تاریخ کے بارے میں خبر دینا اور پھر اس پر تنقید کرنا ایک ایسا پیچیدہ مسئلہ ہے جس کے لیے ایسے ماحول کی ضرورت ہوتی ہے جومکمل طور پر ان معلومات کی گہرائی میں ڈوبا ہوا ہو۔ اس کو محض عیسائی تاجروں، راہبوں یا اہلِ کتاب کے ان پڑھ غلاموں سے ہونے والی سرسری ملاقاتوں کے ذریعے سمجھانا ممکن نہیں۔

اس حقیقت کو بہت سے مؤرخین اور مستشرقین نے تسلیم کیا ہے۔ ان میں سے ایک رابرٹ ہوئلینڈ ہیں، جو کہتے ہیں کہ "قرآنی جدل (یعنی قرآن کا بائبل کی عقائد اور قصص پر نقد) اپنی زبان اور دلائل کے اعتبار سے جس اعلیٰ درجے کا ہے، اور اس کے ساتھ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مخاطبین کا توراتی مواد کے بڑے حصے سے واقف ہونا، یہ بات یقینی بناتا ہے کہ توحیدی تصورات اور اصطلاحات محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے سے بہت پہلے ہی حجاز میں رائج تھیں۔"

قرآن میں مکہ

مستشرقین میں اس بات پر کوئی اختلاف نہیں کہ قرآنِ کریم تاریخی اثبات کے لیے قابلِ اعتماد ہے۔ یہاں تک کہ اگر فرضی طور پر قرآن کو بشری کلام بھی قرار دیں، تب بھی وہ اسے ایک ایسی تاریخی دستاویز مانتے ہیں جو شہادت اور استدلال کے لیے موزوں ہے۔ مکی آیات پر غور کرنے والا یہ محسوس کرتا ہے کہ قرآن مکہ کے دینی حالات کو متعدد آیاتِ کریمہ کے ذریعے بیان کرتا ہے:

وہ اہلِ مکہ کو اس قوم کے طور پر پیش کرتا ہے جس کی طرف اس سے پہلے کوئی نبی نہیں بھیجا گیا، اور وہ آسمانی ہدایت سے غفلت میں تھے، چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:

(أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ بَلْ هُوَ الْحَقُّ مِنْ رَبِّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَا أَتَاهُمْ مِنْ نَذِيرٍ مِنْ قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ يَهْتَدُونَ) السجدة: 3۔

کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس نے اسے گھڑ لیا ہے؟ نہیں، بلکہ یہ آپ کے رب کی طرف سے حق ہے، تاکہ آپ ایسی قوم کو ڈرائیں جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا، تاکہ وہ ہدایت پا جائیں۔

نیز یہ کہ وہ ایک ایسے خدا کی عبادت کرتے تھے جو تخلیق میں یکتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ درمیانی معبودوں کو بھی پوجتے تھے۔ ان کے ایک برتر خدا (اللہ) کے قائل ہونے پر کئی آیات دلالت کرتی ہیں، مثلاً:

(وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ مَنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ لَيَقُولُنَّ اللَّهُ..) الزمر: 38۔

اور اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے تو وہ ضرور کہیں گے: اللہ۔

اور ان کے ان معبودوں کی عبادت پر -جو اللہ کے ہاں قرب کا ذریعہ سمجھے جاتے تھے--بھی متعدد آیات ہیں، مثلاً:

(وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ مَا نَعْبُدُهُمْ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَا إِلَى اللَّهِ زُلْفَى) الزمر: 3۔

اور جن لوگوں نے اس کے سوا کارساز بنا رکھے ہیں (وہ کہتے ہیں:) ہم ان کی عبادت نہیں کرتے مگر اس لیے کہ یہ ہمیں اللہ کے قریب کر دیں۔

یہ مذکورہ آیات اس دینی فضا کو واضح کرتی ہیں جسے قرآن نے اہلِ مکہ اور حجاز کے بارے میں بیان کیا ہے، اور یہ عیسائی عقیدہ سے بالکل مختلف ہے۔ بلکہ بعض آیات میں صراحت کے ساتھ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ان کے انکار اور اعراض کا ذکر ہے، اور یہ کہ وہ انہیں اپنے معبودوں کے برابر ماننے کو قبول نہیں کرتے تھے۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:

(وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا إِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّونَ (57) وَقَالُوا أَآلِهَتُنَا خَيْرٌ أَمْ هُوَ مَا ضَرَبُوهُ لَكَ إِلَّا جَدَلًا بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ) الزخرف: 57 ـ 58۔

اور جب ابنِ مریم کی مثال بیان کی گئی تو اچانک آپ کی قوم اس سے بدکنے لگی۔ اور کہنے لگے: کیا ہمارے معبود بہتر ہیں یا وہ؟ انہوں نے یہ مثال آپ سے محض جھگڑے کے لیے بیان کی ہے، بلکہ وہ جھگڑالو لوگ ہیں۔

اس کے بعد کیا یہ درست ہے کہ اہلِ مکہ کو عیسائیوں کی طرف منسوب کیا جائے؟!

جبکہ قرآنی آیات واضح طور پر اس بات کو بیان کرتی ہیں کہ اس وقت کے مشترکین مکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے نفرت رکھتے تھے، اور وہ مشرک تھے جو متعدد معبودوں کی عبادت کرتے تھے۔ قرآن نے اس جدل کو نقل کر کے ان حقائق کو نہایت وضاحت کے ساتھ آشکار کر دیا ہے۔

مزید برآں، تمام مکی آیات عیسائی اور یہودی عقائد کے ذکر یا ان پر تنقید سے خالی ہیں، بلکہ ان میں خالص وثنی (بت پرستانہ) عقائد کی تردید کی گئی ہے، یعنی انہی معبودوں کی جن کی اہلِ مکہ عبادت کرتے تھے۔ اسی طرح مکی آیات میں ان لوگوں کا بھی رد کیا گیا ہے جو یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں ( نعوذ باللہ)۔

یہی حقیقت ڈنمارک کی مستشرقہ پیٹریشیا کرون نے بھی تسلیم کی ہے، چنانچہ وہ کہتی ہیں:

اگر ہم صرف قرآن کے دلائل پر اعتماد کریں تو مشرکین دراصل ایک خدا کو ماننے والے تھے، جو اسی خدا کی عبادت کرتے تھے جس کی عبادت رسول کرتے تھے، لیکن اس کے ساتھ وہ کچھ کمتر درجے کی الٰہی ہستیوں کو بھی مقدس سمجھتے تھے، جنہیں عمومی طور پر ‘معبود’ یا ‘فرشتے’ کہا جاتا تھا۔ ان میں بعض وہ ہستیاں بھی شامل تھیں جنہیں عرب معبود سمجھتے تھے، اور ممکن ہے کہ بعض صورتوں میں سورج اور چاند بھی ان میں شامل ہوں۔


شیئر: